عمران خان کے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیلیے نامزد امیدوار نصیر احمد دہری شہریت کے مالک نکلے

خالد محمود  منگل 17 جنوری 2023
فوٹو فائل

فوٹو فائل

 اسلام آباد: پی ٹی آئی چیئرمین کی جانب سے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے نامزد کیے جانے والے نصیر احمد خان دوہری شہریت رکھتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نصیر احمد خان برطانوی شہریت رکھتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی دوہری شہریت پر سرکاری یا عوامی عہدے پر کسی بھی شخص کی تقرری کی مخالفت کرتی آئی ہے۔

پی پی ٹی آئی نے اپنی ہی پالیسی کے برعکس دوہری شہریت کے حامل شخص کو نگران وزیر اعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے جس پر سیاسی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے نام شارٹ لسٹ کر لیے، ملک احمد خان

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد پرویز الہیٰ نگراں وزیراعلیٰ کے تقرر تک آئینی طور پر ذمہ داریاں انجام دیں گے، نگراں حکومت کے قیام کیلیے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے تین تین نام پیش کیے گیے جن میں سے کسی ایک نام پر اتفاق کیا جائے گا۔

پرویز الہیٰ نے عمران خان سے مشاورت کے بعد احمد نواز سکھیرا، نصیر خان اور ناصر سعید کھوسہ کے ناموں کا بطور نگراں وزیراعلیٰ اعلان کیا تھا، جن میں سے ناصر کھوسہ نے ذمہ داری سے معذرت کرلی۔

دوسری جانب متحدہ اپوزیشن کی جانب سے تین نام پیش نہیں کیے جاسکے، اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے سابق صدر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان اور چوہدری شجاعت سے رابطہ کیا۔ لیگی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے، سابق بیورو کریٹ ناصر مسعود کھوسہ اور جسٹس جواد ایس خواجہ کے ناموں پر غور ہوگا جبکہ مزید نام بھی طلب کرلیے گئے ہیں۔

ملک احمد خان نے بتایا کہ لیگی قیادت نے سابق صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون صاحب کے نام پر بھی اتفاق کیا لیکن انھوں نے اس پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وکلاء سیاست کی ذمے داریوں اور تقاضوں کی بنا پر معذرت کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نگراں وزیراعلیٰ کا تقرر؛ پرویز الہیٰ، حمزہ شہباز کے پاس مشاورت کیلیے آج آخری روز

واضح رہے کہ نگراں وزیراعلیٰ کے تقرر کے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت کا آئینی وقت منگل 17 جنوری کی رات 10 بجکر 10 منٹ پر ختم ہو جائے گا۔ جس کے بعد یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹٰ میں جائے گا اور پھر بھی اتفاق رائے پیدا نہ ہوا تو اسپیکر پنجاب اسمبلی وزیراعلیٰ کی تقرری کا معاملہ دیکھیں گے۔

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔