پورا دن بیٹھے رہنے کے مضر اثرات، پانچ منٹ کی چہل قدمی سے زائل

ویب ڈیسک  جمعـء 20 جنوری 2023
مسلسل بیٹھے رہنے کےمضر اثرات کو دور کرنے کےلیے درمیان میں پانچ منٹ تک چلنے کی عادت سےبہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل

مسلسل بیٹھے رہنے کےمضر اثرات کو دور کرنے کےلیے درمیان میں پانچ منٹ تک چلنے کی عادت سےبہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل

 نیویارک: اگرچہ مسلسل بیٹھے رہنے کے مضر اثرات کو مکمل طور پر اب تک نہیں سمجھا گیا ہے لیکن عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس سے موٹاپا، بلڈ پریشر اور امراضِ قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم درمیان میں پانچ منٹ تک چہل قدمی کرکے مضر اثرات دور کیے جا سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق شہروں کی 65 سے 80 فیصد آبادی پورا دن بیٹھی رہتی ہے جس کے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کئی امراض کی وجہ بن سکتے ہیں۔ پھر کووڈ وبا کے دوران بھی دنیا بھر کی بڑی آبادی کام کے لیے کرسی اور میز تک ہی محدود ہوکر رہ گئی تھی۔

عالمی ادارہ برائے صحت کا اصرار ہے کہ مسلسل بے کار انداز میں بیٹھے رہنے سے ہڈیاں کمزور، عضلات سکڑتے ہیں اور قبل ازوقت موت کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔ اب ان مضر اثرات کو درمیان میں پانچ منٹ کی چہل قدمی سے بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

12 جنوری کو امریکن کالج آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ایک مقالے کے مطابق ہر تیس منٹ بعد پانچ منٹ چلنے سے مسلسل بیٹھنے کے منفی اثرات کم کیے جاسکتے ہیں۔ یہ تحقیق کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے۔

اس کے لیے کچھ لوگوں کو بھرتی کیا گیا اور سب کو آٹھ گھںٹے تک آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر کمپیوٹر پر کام کرنا تھا یا بے کاری میں فون استعمال کرنے کی اجازت تھی۔ دو گروہوں میں بانٹے گئے افراد کو درمیان میں ورزش یا جسمانی سرگرمی کا کہا گیا اور اسی دوران وقفہ کرنے والے کچھ افراد کو کھانے پینے کی ہلکی اشیا فراہم کی گئ تھیں۔

اس پورے عمل میں ماہرین نے رضاکاروں کی نفسیاتی اور جسمانی کیفیات کا مطالعہ کیا۔ ان میں موڈ، تھکاوٹ، دماغی اور اکتسابی کیفیت، بلڈ پریشر، خون میں شکر اور دیگر عوامل شامل تھے۔ اب جن افراد نے ہر آدھے گھنٹے بعد پانچ منٹ کی چہل قدمی اپنائی ان میں بیٹھے رہنے کے منفی اثرات بہت کم دیکھے گئے۔

اسی بنا پر ماہرین نے کہا ہے کہ دفاتر میں کام کرنے والے افراد اس کی عادت اپنائیں اور ادارے بھی اس کی حوصلہ افزائی کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔