ہیتھرو ایئرپورٹ اپنی وسعت میں ایک الگ دنیا ہے

مدثر بشیر  اتوار 22 جنوری 2023
بحرین کا شہر ’محرق‘ ماضی میں سمندر سے موتی نکالنے کے ہُنر میں عالمی سطح پر ممتاز حیثیت کا حامل ہوا کرتا تھا۔ فوٹو : فائل

بحرین کا شہر ’محرق‘ ماضی میں سمندر سے موتی نکالنے کے ہُنر میں عالمی سطح پر ممتاز حیثیت کا حامل ہوا کرتا تھا۔ فوٹو : فائل

دوسری قسط

یہ ایئر پورٹ ہمارے ہاں کے ہوائی اڈوں کی بہ نسبت خاصا جدید اور وسیع تھا۔ اگر آپ کو وہاں پر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو آپ ڈیوٹی پر موجود افسران اور سکیورٹی گارڈز سے مدد لے سکتے ہیں جو آپ کی بات نہایت خندہ پیشانی سے سنتے ہیں اور متعلقہ گیٹ تک پہنچنے میں مدد بھی کرتے ہیں۔

بیگانے دیس کے انجانے قوانین، زبان و ثقافت سے عدم واقفیت اور مقامی کرنسی کی غیر موجودگی سمیت کئی دیگر مشکلات کے ہوتے اگر خدانخواستہ آپ کی فلائٹ مِس ہو جائے تو آپ کہیں کے نہیں رہتے۔ سو میں بھی ڈیجیٹل سلائیڈز کی مدد سے اپنی فلائٹ کا وقت دیکھتے متعلقہ گیٹ پر پہنچا تو سُکھ کا سانس آیا۔ فلائٹ میں ابھی بھی پانچ گھنٹے باقی تھے۔

اس فلور پر دیگر فلائٹس پر جانے والے مسافروں میں زیادہ تر پاکستانی، ہندوستانی اور بنگلہ دیشی تھے۔ ہوائی اڈے پر ملازمین کی اکثریت عرب تھی اور اُن کے بعد زیادہ تر کاؤنٹرز پر ہندوستانی دکھائی دیئے۔

وہاں ایک اور حیران کن بات سامنے آئی کہ ہوائی اڈے پر موجود عرب افسران کی ایک بڑی تعداد کو عربی ، انگریزی کے ساتھ ساتھ ہندی اور اُردو بھی آتی تھی۔

ایک پینٹ کوٹ پہنے افسر کے ساتھ میں نے انگریزی میں بات کی تو اس نے پوچھا کہ کس ملک سے ہو، میں نے پاکستان کا بتایا تو اُس نے ہنس کر عربی لہجے میں کہا ’’تو بھائی اُردو بولو، کوئی مسئلہ تو نہیں۔‘‘

پھرمیں نے اُسی افسر سے وہاں فری (مفت) وائی فائی کی سہولت کے متعلق پوچھا تو اُس نے مجھے ہیلپ ڈیسک پر بھیج دیا جہاں موجود اہلکار نے میرے موبائل کو فری انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک کر دیا لیکن یہ مفت سہولت 45منٹ تک کی تھی، اس کے بعد آپ کو کارڈ خرید کر انٹرنیٹ کی سہولت لینی ہوتی ہے۔

بحرین کی کرنسی ’’بحرینی دینار‘‘ کہلاتی ہے اورایک بحرینی دینارکی قدر تقریباً 2.65 امریکی ڈالر بنتی ہے۔

اس فلور پر بڑے بڑے سٹورز تھے جن پر سفری بیگ، مٹھائیاں، پرفیومز، چاکلیٹ اور خوبصورت گھڑیوں سمیت دنیا بھر کی اشیاء موجود تھیں لیکن وہ سب اشیاء مہنگے داموں فروخت ہو رہی تھیں۔ اگر کہیں کسی چیز پر رعایت تھی تو وہ بڑے بڑے سٹورز تھے۔

اس فلور پر دفاتر، سٹورز کے علاوہ کچھ کمرے آرام کرنے کے لیے بھی تھے۔ اسی فلور کی دوسری منزل پر کچھ کمرے سگریٹ نوشی کے لیے مختص تھے۔ میں ایسے ایک کمرے میں داخل ہوا تو کاؤنٹر پر انتہائی خوش دِلی سے میرا سواگت کیا گیا۔

چونکہ میں بدقسمتی سے اس’’نعمت‘‘ سے محروم ہوں اور محض تماشائی کی حیثیت سے گیا تھا سو تماشا ہی کیا، یہ بات ضرور پلے پڑی کہ صرف شرابی ہی نہیں بلکہ تمباکو پینے والے بھی ایک دوسرے کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دوسری بات جو محسوس کی، وہ یہ تھی کہ اس کمرے میں سگریٹ نوش خواتین کو ہوس ناک نگاہوں سے کوئی نہیں دیکھ ر ہا تھا اور نہ ہی کوئی چوری چوری گھور رہا تھا۔

دیگر تمام سہولتوں کے علاوہ مجھے اس ایئر پورٹ کے واش روم دیکھنے کا موقع بھی ملا مگر وہ لاہور ایئرپورٹ سے کچھ زیادہ بہتر حالت میں ہرگز نہ تھے تاہم گلف ایئر لائنز کے واش رومز میں موجود ٹشو پیپرز کے استعمال کے حوالے سے قابل ذکر یہ امر ہے کہ جو احباب پہلی بار یورپ، امریکا، کینیڈا جائیں وہ پانی اور ٹشو کے استعمال کے عمل کو اچھی طرح سمجھ کر جائیں۔

محرق بحرین کا تیسرا بڑا شہر ہے جو1932ء تک بحرین کا دارالحکومت بھی رہ چکا ہے۔ بعد ازاں منامہ اس خلیجی ریاست کا دارالحکومت قرار پایا۔ اس خلیجی شہر کی تاریخ لگ بھگ پانچ ہزار سال پُرانی ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق یونانیوں کے دورِ عروج میں یہاں پر پیگنز (Pagons) کا قبضہ رہا۔ عیسائی تمام غیر مذاہب کے لوگوں کو پیگن کا نام دیتے تھے۔

یہ لوگ کئی دیوی دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھا۔ زمانہ قدیم سے یہاں کے باسیوں کی معاش سمندری تجارت پر منحصر تھی اور سمندر کو بہت مقدس خیال کرتے تھے۔

18 ویںصدی کے اوائل میں عیسائیت نے بھی یہاں پیر جمانے شروع کر دیئے۔ عیسائی فرقہ نیسٹورین(Nestorian) کا بحرین سمیت خلیج کے کئی جنوبی ساحلوں پر راج تھا۔

اگرچہ بازنطینی سلطنت کے زیر انتظام علاقوں میں اس فرقے کے لوگوں پر ظلم و ستم روا رکھا گیا اور اس کے بعد برٹش امپائر نے بھی فرقہ ورانہ اختلاف کی بناء پر انہیں بہت دبانے کی کوشش کی تاہم بحرین برطانوی سامراج کی عملداری سے باہر ہونے کے سبب یہاں پر نسٹورین فرقے کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوا اور یہاں یہ فرقہ خوب پھلا پُھولا۔ آج بھی محرّق کے بہت سے دیہات عیسائیوں کی مذہبی اصطلاحات سے موسوم ہیں۔ جیسے ’دائر‘ (Al-Dair)نامی گاؤں ہے جس کا مطلب ہے ’خانقاہ‘۔ یہ گاؤں عیسائی ورثے کی یادگار ہے۔

1810ء سے 1932ء تک محرق بحرین کا دارالحکومت رہا، اُس زمانے میں یہاں Pearling اکانومی اپنے عروج پر تھی۔ یہاں بتاتے چلیں کہ سمندر میں غوطہ لگا کر سُچے موتی نکالنے کے عمل کو Pearlingکہا جاتا ہے، جسے اُردو میں ’غواصی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

صدیوں تک محرق کو بحیرہ عرب کے Pearling Capital کی حیثیت حاصل رہی۔ اُس دور میں یہ خلیج کا خوش حال ترین شہر تھا۔ خطے میں سب سے زیادہ غواص یعنی غوطہ خور اسی بندرگاہ پر مقیم تھے اور یہی اُن کا ذریعہ معاش تھا۔ان غوطہ خوروں کے پاس موتی نکالنے کے لیے جہاز بھی موجود تھے ۔

محرق کی ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کی آباد کاری خلیج کی باقی بستیوں کے مقابلے میں خاصی مختلف ہے۔

Pearling کے لیے جو پُرانے دور کا آخری عرشہ (Deck) ڈیک ہے وہ تمام کا تمام مرجان (Corel Stone)سے تعمیر کردہ ہے۔ اس کے مقابلے میں دُبئی ایک چھوٹا سا پرلنگ سنٹر تھا جہاں کی پسماندہ بستیوں کے مکانات کھجور کے تنے اور پتوں سے بنائے جاتے تھے.

رفتہ رفتہ موتی تلاشنے یعنی Pearling کی معیشت کو زوال آتا گیا۔ اسی دور میں بحرین میں تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہوئے جس کی وجہ سے ساحل کے دوسری جانب واقع شہر منامہ اہمیت اختیار کرتا چلا گیا۔ جزیرہ بحرین کی ترقی اور پھیلاؤ کے اس دور میں محرق کی بطور معاشی مرکز اہمیت کم ہوتی چلی گئی اور بالآخر بحرین کا دارالحکومت محرق سے منامہ منتقل ہو گیا۔تاہم آج بھی محرق ایک اہم سیاحتی مرکز ہے۔

اس قدیم شہر سے متصل انسان ساختہ (Man Made) امواج آئی لینڈز کی وجہ شہرت یہاں کی بلڈنگز، ہوٹلز اور دل موہ لینے والے شفاف ساحلی مقامات (Beaches) ہیں۔محرق فٹ بال کلب ،بحرین کا مقبول و کامیاب ترین فٹ بال کلب قرار دیا جاتا ہے۔ اس شہر کی روایتی مارکیٹ ’سوق‘ (Souk) کی بھی خاصی شہرت ہے۔

یہاں پر بھارتی میوزک بہت مقبول ہے اور فنونِ لطیفہ کی بڑی قدر دانی ہے۔ محرق کا پرلنگ ایریا(Pearling Area) اپنی تنگ گلیوں، ایلی ویز اور طرز تعمیر کے باعث سیاحوں کے لیے بڑی کشش رکھتا ہے۔

محرق سے لندن

میری اگلی فلائٹ برٹش ایئر ویز سے تھی۔ میں اپنے گیٹ سے سیکیورٹی چیک کروا کے گراؤنڈ فلور پر چلا آیا جہاں جہاز نے آنا تھا۔ اس ویٹنگ روم میں صرف اور صرف وہ مسافر تھے جو لندن (ہیتھرو) جا رہے تھے۔ جہاز آنے میں کوئی آدھا گھنٹہ تھا۔ انتظار گاہ میں چند پاکستانیوں کے علاوہ اکثریت یورپی مسافروں کی تھی۔

اُن گوروں میں دو تین اُونچے لمبے کھلاڑی اپنے کھیل کے سامان کے بیگ لیے ادھر اُدھر گھوم پھر رہے تھے۔بظاہر وہ اپنے قد بُت سے ویسٹ انڈین یا افریقی دکھائی دے رہے تھے۔ اُن کی صحت اور جسمانی خد وخال قابلِ رشک تھے۔ اُن کے ہمراہ ایک گوری انگریز خاتون ایتھلیٹ بھی تھی۔ وہ سب کسی ایک ہی ٹیم کے رُکن معلوم ہوتے تھے۔ اُن کے قہقہوں نے تمام ماحول کو خوشگوار بنا رکھا تھا۔

اُسی ہال میں ایک اکڑفوں پاکستانی پینٹ کوٹ میں ملبوس اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا جس کی فون پر ہونے والی گفتگو سے عیاں تھاکہ وہ کراچی بات کر رہا ہے اور بات بات پر اپنی اہلیہ سے بگڑ رہا ہے۔ اُس کے ماتھے کی تیوریاں اور زندگی سے بیزار شکل اس مہکی ہوئی فضا میں دھوئیں جیسی لگ رہی تھی۔ یہاں تک کہ رومانوی انداز میں نشست کیے ہوئے بزرگ انگریز جوڑے بھی اُسے ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔

موصوف کو دیکھ کر مجھے اپنے ساتویں جماعت کے ایک اسکول ماسٹر یاد آگئے جو ہمیشہ صبح گھر سے شاید لڑ کر ہی آتے تھے۔ میں نے اپنے اسکول کے پانچ برسوں میں انہیں کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ تشریف لاتے تو لڑکے آیت الکرسی کا وِرد شروع کردیتے مگر پٹائی پھر بھی بہت سوں کا مقدر ہوتی کہ ماسٹر نے تو اپنا سارا غصہ نکال کر ہی دم لینا ہوتا تھا۔

اِن کراچی والے صاحب کی بیزاری دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں رب تعالیٰ سے دعا کی کہ اس کی سیٹ ہرگز میرے ساتھ نہ ہو۔ میری دُعا قبول ہوئی۔ وہ صاحب میرے قریب کی سیٹوں میں بھی کہیں نہ تھے۔

جہاز رن وے پر آیا تو تمام مسافر پیدل چل کر جہازکے ساتھ لگی سیڑھی تک گئے۔ میں بھی بحرین کے ایئر پورٹ کی کُھلی فضا میں دھیمے قدموں سے چلتا جہاز کی جانب بڑھا۔ میں اس فضا میں جی بھر کر سانس لینا چاہتا تھا ۔ اس لمحے میںاللہ کریم کا شُکر بھی ادا کر رہا تھا جس نے مجھے اس سرزمین کی سیر کا موقع دیا۔ میرے ساتھی مسافر تیزی سے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔

برٹش ایئرویز کا عملہ دلجمعی کے ساتھ بزرگ اور معذور مسافروں کی مدد کر رہا تھا۔ جہاز میں استقبال کے لیے فقط مرد میزبان ہی دکھائی دیئے تاہم بعد میں ساڑھے سات گھنٹے کی اُس فلائٹ کے دوران ایک مرتبہ خاتون میزبان اُس وقت دکھائی دیں جب ایک بزرگ مسافر کی طبیعت خراب ہوئی۔

جہاز میں اپنی سیٹ تک جاتے ہوئے مجھے انگریز مسافروں کی خوداعتمادی کامشاہدہ کرنے کا موقع ملا جو دیگر مسافروں سے قدرے بہتر تھی۔ ابھی نشست کیے کچھ منٹ ہوئے تھے اور جہاز بھی حرکت میں نہ آیا تھا کہ برٹش ایئرویز کے فضائی میزبان نے انگریز مسافروں کو ایک ایک گلاس وائٹ وائن خوش آمدید کہنے کے لیے پیش کی۔

اُن کی اس عنایت کو ہمارے دیسی مسافروں نے رال ٹپکاتے ہوئے دیکھا۔ اسی دوران مجھے اپنا ہینڈ کیری اٹیچی کیس دیکھنے کو کچھ آگے جانا پڑا تو اسی بہانے میں نے برٹش ایئرویز کی بزنس کلاس بھی دیکھ لی۔

ویسے تو گلف ایئر لائنز کی بزنس کلاس بھی کافی کھلی اور سہولیات سے پُر تھی مگر یہاں تو یُوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اپنا بیڈ روم ہو۔

اُوپر رات کی دبیز سیاہ چادر اور اس پر ٹمٹماتے ستاروں کے جھرمٹ خواب ناک منظر پیش کر رہے تھے اور نیچے زمین پر آئل ریفائنری کی سلسلہ وار روشنیاں بھی ستاروں کی طرح ٹمٹما رہی تھیں۔

کھڑکی سے نظر ہٹی تو دھیان اپنی ساتھ والی نشست پر ساتھی مسافر مارٹینا کی جانب چلا گیا جو اُس وقت تک فضائی میزبان سے ریڈ وائن طلب کر چکی تھیں۔ چند ہی منٹ کے بعد ہمیں کھانے کی پیشکش کر دی گئی۔ مجھے اپنے دوستوں اور بھائیوں سے مِلی ہدایات کا بھرپور احساس تھا سو کھانے کے آرڈرز نوٹ کرنے والے کو کہا کہ میں سبزی خور ہوں۔

جہاز کو ہوا میں بلند ہوئے ابھی تیس سے چالیس منٹ ہوئے ہوں گے کہ مجھے جھگڑنے کی آواز سنائی دی۔ مجھ سے چند سیٹیں آگے بیٹھے کچھ پاکستانی بھائی ایئر ہوسٹس سے شراب کی فرمائش کر رہے تھے۔

اُن کا کہنا تھاکہ انہیںکھانے سے کہیں زیادہ پینے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ یہ فلائٹ تقریباً آٹھ گھنٹے کی تھی۔

ہمیں صبح چھ بجے انگلستان میں لینڈ کرنا تھا سو ہوائی جہاز کی انتظامیہ کی جانب سے ناشتہ بھی پیش کیا گیا۔ میرے پاکستانی بھائی آخری وقت تک ڈٹے رہے اور ناشتے میں بھی گرما گرم چائے کی بجائے ’مشروب خاص‘ کا ہی تقاضا کرتے رہے۔

صبح چھ بجے جب جہاز اُترنے کی تیاری میں تھا، میری کھڑکی میں لندن اپنی تمام تر خوبصورتیوں کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ جہاز رُوئی کے گالوں سے سفید بادلوں میں سے ہوتا ہوا آہستہ آہستہ زمین سے نزدیک تر ہوتا چلا جا رہا تھا اور شہر کے دُھندلے مناظرکسی شوخ کے بند قبا کی طرح کُھلتے چلے جا رہے تھے۔

خوش قسمتی سے اُس روز سورج اپنی پُوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور اُس کی سنہری کرنیں دھرتی کے سینے پر بچھتی چلی جاتی تھیں۔ شہر کیا تھا، سبزے کا قطعہ دکھائی دیتا تھا۔ ہر جانب ہریالی ہی ہریالی، کُھلّے میدان، اُن کے ساتھ سڑکیں اوراُن پر گزرتی رنگا رنگ گاڑیاں چھوٹی چھوٹی ڈبیوںکی مانند دکھائی دے رہی تھیں۔ میں نے جب کبھی بھی لاہور سے کراچی کا سفر کیا، لاہور پھر بھی کہیں کہیں سے سرسبز نظر آیا مگر کراچی تو بالکل ویران اوربنجر لگا۔

ہیتھرو لندن

ہیتھرو(Heathrow) ایئرپورٹ کا احوال لکھنے سے قبل ایک نظر ہیتھرو ایئرپورٹ کے تاریخی پس منظر اور موجودہ صورت حال پر ڈالنا بے محل نہیں ہوگا۔

ہیتھرو انٹرنیشنل ایئر پورٹ جسے لندن ہیتھرو بھی کہا جاتا ہے،مسافروں کی بین الاقوامی آمد و رفت کے اعتبار سے دُنیا کا دُوسرا بڑا اور یورپ کا مسروف ترین ایئرپورٹ ہے۔ یہ لندن ریجن کے چھ انٹرنیشنل ایئرپورٹس میں سے ایک ہے اور سنٹرل لندن سے تقریباً 23 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ہیتھرو ایئرپورٹ پر سالانہ 9 کروڑ سے زائد مسافروں کی آمدورفت ہوتی ہے۔

ایئرپورٹ کا کُل رقبہ 12.27 مربع کلومیٹر ہے۔یہاں 225 پسنجر ٹرمینلز ہیں اور ایک کارگو ٹرمینل بھی ہے۔ اس ایئرپورٹ سے سب سے زیادہ پروازیں نیویارک کے لیے روانہ ہوتی ہیں۔ مشہور فضائی کمپنی برٹش ایئرویز کا ہیڈ کوارٹر بھی اسی ایئرپورٹ پر واقع ہے۔

اس کے علاوہ ورجن اٹلانٹک (Virgin Atlantic) نامی فضائی کمپنی بھی یہیں سے آپریٹ کرتی ہے۔

1929ء میں ہیتھرو نامی گاؤں کے مضافات میں ایک چھوٹی سی ایئر فیلڈ بنائی گئی تھی۔یہ گاؤں اپنی منڈی اور باغات کے لیے مشہور تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران 1944ء میںملٹری آپریشنز کے لیے اس ایئرفیلڈ کو ایک ایئرپورٹ میں بدل دیا گیا۔

جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اسے develop کر کے 25 مارچ 1946ء کو عام سفری پروازوں کے لیے کھول دیا گیا۔ ابتداء میں اسے لندن ایئرپورٹ کہا جاتا تھا تاہم 1966ء میں اس کا نام بدل کر ہیتھرو ایئرپورٹ رکھا گیا۔ اس کا اوریجنل ڈیزائن بشمول اوریجنل ٹرمینلز، سنٹرل ایریا کی عمارتیں وغیرہ سر فریڈرک گیبرڈ (Sir Fredrick Gibberd) نے تخلیق کی ہیں۔

ہیتھرو ایئرپورٹ کو دُنیا بھر کی 80 ایئر لائنز استعمال کرتی ہیں یہاں سے تقریباً 84 ممالک کے 185 ایئرپورٹس کے لیے پروازیں روانہ ہوتی ہیں۔

انتہائی حساس ایریا تصور ہونے کے باعث ہیتھرو ایئرپورٹ پر سیکیورٹی انتہائی سخت ہے۔ مسافروں کی چیکنگ کے لیے فل باڈی سکینرزکے استعمال کی ٹیکنالوجی 2011ء میں متعارف کرائی گئی تھی۔

ایئرپورٹ پر کثیرالمذاہب عبادت گاہ (Multi-Faith Prayer Room) ہے جس میں اینگلی کن، ہندو، یہودی، مسلمان، سکھ اپنی اپنی عبادت کر سکتے ہیں۔ ہر ٹرمینل پر ایک کونسلنگ روم بھی موجود ہے۔

جہاز ہیتھرو ایئرپورٹ پر لینڈ کیا تو ہوائی اڈے کی بے پناہ وسعت نے حیران کر دیا۔ جن مسافروں کا لندن آنا جانا معمول کی بات تھی، وہ تو بِنا اِدھر اُدھر دیکھے اپنے اپنے ٹرمینل کی جانب چل دیئے جبکہ میرے جیسے لمبی چوڑی سکرینوں کے سامنے جمع ہو کر اپنی فلائٹ، ٹرمینل اور گیٹ نمبر کی تلاش میں مصروف ہوگئے۔

یہ تو پتہ چل گیا کہ مجھے ٹرمینل نمبر پانچ تک جانا ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے جانا ہے۔ میں ایک ایسی عمارت میں تھا جو تھی بھی کئی منزلہ۔ میں جو پہلی بار اپنے دیس سے نکلا تھا اور وہ بھی اکیلا۔اُوپر سے لندن کا یہ میلوںپر محیط لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ایئرپورٹ جہاں ہر پانچ منٹ کے بعد دائیں اور بائیں دونوں جانب ٹرینیں آجا رہی تھیں،میرے حواس گم ہو چکے تھے۔ جب چند ہندوستانی پنجابی نظر آئے تو جان میں جان آئی۔پنجابی بولی کی سانجھ نے اپنا کام دکھایا اور اُن سے گپ شپ ہونے لگی ۔

وہ بھی ٹرانزٹ فلائٹ کے انتظار میں تھے اور میری اگلی فلائٹ میں ابھی دس گھنٹے باقی تھے چنانچہ کسی کو کوئی جلدی نہ تھی۔ سو باہمی مشاورت سے طے پایا کہ اب جو بھی ٹرین آئے گی اُس کی سواری کی جائے گی اور اُس کے آخری سٹیشن تک پہنچا جائے گا۔ یوں عمارت کے اندر ہی اندر سفر کرتی ٹرین سے بارہ منٹ میں ہم مین ٹرمینل تک پہنچے۔

اس کے بعد اُن لوگوں کو ٹرمینل نمبرچار پر جانا تھا اور مجھے پانچ پر۔ لگ بھگ چالیس منٹ بعد ہماری یہ مہم جوئی اور ملاقات اپنے انجام کو پہنچی اور ہم لوگوں نے ٹرمینل چار پر ایک دوسرے کو خیرباد کہا اور وہیں سے میں نے ایک سکیورٹی آفیسرسے اپنے مطلوبہ ٹرمینل کا راستہ دریافت کیا۔ اُس نے مجھے ایک گیٹ کاراستہ بتایا جہاں ہوائی اڈے کے اندر چلنے والی بسوں کا اڈا تھا اور وہیں سے ٹرمینل پانچ کی بس لی جاسکتی تھی۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔