مظلوموں کے لطیف لا لہ کو الوداع

جمیل مرغز  جمعـء 20 جنوری 2023
jamilmarghuz1@gmail.com

[email protected]

16جنوری 2023کادن بڑا منحوس ثابت ہوا۔ اس دن ترقی پسندوں‘قوم پرستوں‘ جمہوریت پسندوں ‘کسانوں‘مزدوروں اور مظلوموں کی آواز اور محافظ ‘ سب کے لالہ کی آواز خاموش کردی گئی۔ لطیف آفریدی ایڈوکیٹ کو ہائی کورٹ کے احاطہ میں قتل کردیا گیا۔

آج وہ منوں مٹی کے نیچے سو رہا ہے اور ہم سب کو اس ظالم نظام میں لڑنے کے لیے چھوڑ گیا،ان کی دشمنی کا مسئلہ بہت پرانا ہے‘معلوم نہیں پختونوں کی دشمنیا ںکب تک خون مانگتی رہیں گی ‘ بعض افراد کی موت پورے معاشرے کو متاثر کردیتی ہیں‘خالد شریف نے غالباً لالہ کے بارے میںکہا تھا ۔

؎بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

جب وہ سپریم کورٹ بارکے صدر منتخب ہوئے تو کسی دوست نے کہا تھا کہ ’’انشاء اللہ آیندہ ایک سال تک لالہ کے قہقہے سپریم کورٹ بار میں سنائی دیں گے۔‘‘ وہ قہقہے ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے۔

لطیف آفریدی ایڈوکیٹ جو ہم سب کا لطیف لالا ہے ‘ ان کی صحبت کا اثر ہم سب پر پڑا ہے اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کی طرح ہر وقت خوش رہیں ‘ انھوں نے ابتدا ہی سے انقلابی ذہن پایا تھا ‘ 1968میں پشاور یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی اور وکالت شروع کی ‘زمانہ طالب علمی میں پاکستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی اور اس تنظیم کے ذریعے طلباء سیاست میں فعال کردار ادا کیا۔

ایوبی آمریت کے خلاف تحریک کے دوران خیبر پختونخوا کی سب سے پہلی ترقی پسند طلباء تنظیم پاکستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن تھی ‘لطیف لالا سرپرست اعلی بلکہ پوری تنظیم کے روح رواں تھے اور صدر محترم قاضی انورایڈوکیٹ تھے ’پاکستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن ایک فعال تنظیم تھی ‘میں اسلامیہ کالج پشاور میں تھا اور اس کا صوبائی جنرل سیکرٹری منتخب ہوا جب کہ صوبائی صدر ڈاکٹر قاضی فضل معبود تھے‘سنا ہے کہ آج کل امریکہ میں ہوتے ہیں؟لطیف لالا ہفتے میں ایک دن ہماری اسٹڈی سرکل کی کلاس لیتے تھے۔

اس وقت ہم ماؤسٹ تحریک سے متاثڑ تھے۔’’ماؤ کے افکار‘‘’’نارمن بیتھون کی یاد میں‘‘ ’’بے وقوف بوڑھا جس نے پہاڑوں کو ہٹادیا‘‘ اور ’’ہونان کسان تحریک‘‘ نامی کتابیں ان سے سیکھیں‘1968سے لے کر ان کے قتل (2023) تک 55 سالہ رفاقت آج ٹوٹ گئی ‘بڑے بھائیوں کی طرح محبت کرتے تھے مجھ سمیت بہت سے دوست محبت کرنے والے بڑے بھائی سے محروم ہوگئے ہیں۔

سیاسی سفر بھی ایک ساتھ رہا ‘‘جب وہ مرحوم غوث بخش بزنجو کی پاکستان نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر تھے تو میں ان کے ساتھ صوبائی جنرل سیکرٹری تھا‘کمیونسٹ پارٹی میں بھی ساتھ رہا ۔

لالہ کی عوام میں ہر دلعزیزی کا اندازہ سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں ان کی کامیابی سے ہوتاہے۔

پہلی دفعہ میں نے دیکھا کہ ان کے انتخاب میں عوام کی بہت زیادہ دلچسپی تھی ‘صدر کے انتخاب کے بعد پورے ملک سے سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کے علاوہ مزدوروں ‘کسانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بہت بڑی تعداد میں مبارکباد دی بلکہ ان کے گھر پر بھی مبارکباد دینے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا ‘وکلاء برادری کا کہنا تھا کہ عدلیہ بحالی کی تحریک کے بعد یہ پہلی دفعہ ہوگا کہ وکلاء کے رہنماء ایسی شخصیت ہیں ‘جن کی پوری زندگی‘ قانون کی حکمرانی اور طبقاتی نظام کے خلاف جدوجہد میں گزری ہے۔

اب وکلاء جدوجہد اور عوامی سوچ اور مطالبات میں بہت قربت ہوگی کیونکہ صدر محترم لطیف لالہ دونوں محاذوں کے کمانڈر ہیں‘عام طور پر جو وکلاء اس درجے پر منتخب ہوتے ہیں وہ پروفیشنل وکیل ہوتے ہیں لیکن لطیف لالہ صرف وکیل نہیں بلکہ عوامی لیڈر بھی تھے ‘ جب وہ ممبر قومی اسمبلی تھے تو بھی ہر وقت عوام کے گھیرے میں رہتے ‘اسمبلی اور ہاسٹل دونوں جگہ ایک ہجوم ان کے آگے پیچھے ہوتا‘  ان کی شخصیت کا کمال تھا کہ جہاں بھی ہوتے وہاں محفل جم جاتی۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی مخالفت میں لطیف آفریدی پیش پیش رہے۔

ریٹائرڈ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے وکلاء کی عدلیہ بحالی تحریک میں بھی لطیف آفریدی پشاور ہائی کورٹ بارکے صدر کی حیثیت سے بہت سرگرم رہے، ایک دن جلوس کے دوران پولیس نے بکتربند گاڑی ان پر چڑھا دی ‘اس سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور وہ ہمیشہ کے لیے لاٹھی کے محتاج ہوگئے ۔

لطیف آفریدی 1968سے سیاست میں متحرک رہے ‘وہ ایوب خان کے خلاف تحریک میں سرگرم رہے ‘فوجی حکومتوں کے دور میں اکثر وہ پشاور جیل میں ہوتے اور میرا مستقل ٹھکانہ ہری پور جیل میںہوتا‘ اکثر قلعہ بالا حصار یا دوسرے عقوبت خانوں سے سیاسی ملزموں کو جیل لاکر لالہ کے حوالے کردیا جاتا ‘ان کو نہلادھلاکر اور کپڑے وغیرہ تبدیل کرکے اکثر قیدیوں کو ہمارے پاس ہری پور جیل بھیج دیا جاتا‘ ہر قیدی لالہ کے حسن سلوک کی تعریف کرتا‘لالہ ہر کسی سے پیار سے بات کرتا اگر کبھی غصہ آجاتا تو ساتھی قیصر ایڈوکیٹ پر غصہ نکالتا کیونکہ وہ ان کا مزاج شناس تھا ۔ساتھی حیدر زمان(صوبائی صدر AWP )‘انجینئر گل بہادر یوسفزئی ‘ڈاکٹر قاضی فضل معبود سمیت بہت سے ساتھی ان کے شاگرد ہیں۔

ان کی تیز قہقہے اور دبنگ آواز زمانہ طالب علمی سے گونج رہے تھے‘ فاطمہ جناح کی حمایت پر یونیورسٹی سے نکالے گئے‘ ایوب خان کے دور میں بھی وہ پابند سلاسل رہے‘ ضیاء الحق کے دور میں وہ کم ازکم پانچ بار جیل گئے۔

2007کی ایمر جنسی کی انھوں نے سخت مخالفت کی اور ہائی کورٹ کے صدر کی حیثیت سے وکلاء تحریک کی قیادت کی ‘ 6بار پشاور ہائی کورٹ کے صدر منتخب ہوئے ہیں‘پاکستان بار کونسل کے ممبر اور وائس چیئرمین بھی رہے ہیں‘ ہیومن رائٹس کمیشن کے ممبر بھی رہے ہیں‘سیاسی تحریکوں اور وکلاء کی تحریکوں میں یکساں سرگرم رہے۔

وہ انتہائی کامیاب وکیل تھے ‘ان کے سیکڑوں شاگرد وکالت کے علاوہ عدلیہ میں بھی موجود ہیں‘انسانی حقوق سے متعلق درخواستوں کی پیروی کرنے کے ساتھ ہر قسم کی سیاسی پابندیوں کے خلاف مقدمات انھوں نے لڑے‘لالہ نے ہمیشہ سیاسی اور مزدوروں کے کیس مفت لڑے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ جس شخص پر زیادتی ہو اور اس کا کوئی نہ ہو تو میں اس کا وکیل ہوں‘مظلوم کی وکالت کرتے وقت کبھی بھی اس کی سیاسی وابستگی کا نہیں پوچھااور نہ ہی کبھی سیاسی تعصب کا شکار ہوئے۔

لالا مختلف سیاسی پارٹیوں میں رہے ‘ابتداء میں مزدور کسان پارٹی کے ساتھ تعلق رہا بعد میں پیپلز پارٹی کے ہمدرد رہے ‘ مرحوم غوث بخش بزنجو کی پاکستان نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر رہے جب کہ میں ان کے ساتھ جنرل سیکرٹری رہا‘بعد میں اپنے ساتھیوں سمیت ‘ ولی خان کی این ڈی پی‘ پلیجو کی عوامی تحریک اور مزدور کسان پارٹی کے سردار شوکت گروپ کے ساتھ مل کر نئی پارٹی اے این پی بنائی اور پہلے صوبائی صدر رہے ‘جب ANPنے اسلامی جمہوری اتحاد کے ساتھ اتحاد کیا تو اپنے ساتھیوں سمیت الگ ہوکر قومی انقلابی پارٹی بنائی‘ بعد میں پھر ANPمیں شامل ہوئے لیکن پھر راہیں جدا کرلیں۔کمیونسٹ پارٹی کے خاتمے کے بعد مختلف قوم پرست پارٹیوں میں شامل ہوئے لیکن کہیں بھی ہم ایڈجسٹ نہ ہوسکے۔

ترقی پسند دوست اگر کوشش بھی کریں توبورژوا پارٹی والوں کی نظر میں ہمیشہ مشکوک ہوتے ہیں‘ آخر میں لالہ نے وکلاء سیاست کو توجہ دی اور وکلاء برادری نے بھی ان کو ہر اہم عہدے تک پہنچا دیا ۔ ترقی پسند ساتھیوں کو ایک اہم مسئلہ درپیش ہے کہ سوشلسٹ کیمپ کے انہدام کے بعدان کی اپنی پارٹی ختم ہو گئی ہے اور دوسری پارٹیوں میں یہ ایڈجسٹ نہیں ہوتے ‘اس لیے پارٹیاں بدلنا ان کا مقدر بن گیا ہے۔

بعض دوست مختلف ترقی پسند یا قوم پرست پارٹیوں میں گزارہ کر رہے ہیں اور اکثریت آرام سے گھروں میں بیٹھ گئے ہیں‘لالہ نے بھی کوشش کی لیکن کوئی بھی ان کی جمہوریت پسندی اور ترقی پسندبیانیے کا بوجھ برداشت نہ کر سکا‘ایک بات واضح ہے کہ جہاں بھی رہے اپنے نظریات پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا اور یہ ایک المیہ ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ جمہوری پارٹیوں میں ترقی پسندوں کی جگہ مشکل سے بنتی ہے۔میری دعا ہے اور یقین ہے کہ اللہ تعالی ان کو غریبوں کی خدمت اور قانون کی حکمرانی کے حصول کے لیے کی گئی جدوجہد کے نتیجے میں جنت فردوس میں اعلی مقام سے نوازیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔