مہنگائی مار گئی

رئیس فاطمہ  جمعـء 20 جنوری 2023
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

جاڑے کا موسم مجھے بہت اچھا لگتا ہے، گرم گرم کافی بھاپ اڑاتی ہوئی، ڈرائی فروٹ، گاجر کا حلوہ، حلوہ سوہن، سب جاڑے کی سوغاتیں ہیں، ایک عجیب سا رومانس ہے۔

اس موسم میں، پھر مونگ پھلی اور چلغوزوں کا مزہ، لیکن اس بار کے جاڑوں میں یہ سب کچھ ختم ہو گیا، پچھلے سال چلغوزے آنکھیں دکھا رہے تھے، اس سال مونگ پھلی مسکرا رہی ہے، اور کاجو وہ اپنے پاس پھٹکنے نہیں دے رہے۔

پہلے گھر میں کوئی مہمان سردیوں میں آتا تھا تو ڈرائی فروٹ سے تواضع کی جاتی تھی، اب یہ عیاشی کم لوگ ہی کرسکتے ہیں، مہنگائی کا طوفان جاڑوں کا سارا رومانس بہا کر لے گیا، کشکول ہماری پہچان بن گیا، در در بھٹک رہے ہیں اور بھیک ملنے پر خوش ہیں، قرضے کی نوید ایسے سنائی جا رہی ہے جیسے اسے واپس نہ کرنا ہو، آئی ایم ایف اپنی شرائط پر قرضہ دیتا ہے، لیکن ان کا عتاب عام آدمی ہی پر آتا ہے۔

گیس، بجلی، دودھ، سبزی، دالیں، چاول اور سب سے بڑھ کر آٹا سب کی ہوش ربا قیمتوں نے کتنی جانیں لے لیں، آخر بڑی گاڑیوں اور لگژری آئٹم پر ٹیکس کیوں نہیں لگتا؟ ملک دیوالیہ ہونے کی سمت بڑھ رہا ہے، بلکہ بعض تجزیہ کار تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملک دیوالیہ ہو چکا ہے آپ نہ مانیں تو اور بات ہے۔

لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں، ایک تھیلا آٹے کے لیے جو خواری ہو رہی ہے اس سے تو صاف پتا چلتا ہے کہ معیشت دیوالیہ ہو چکی ہے اور اسی پر بس نہیں، جو آٹا بک رہا ہے ’’سستا آٹا‘‘ کے نام پر اس کی کوالٹی بہت ناقص ہے۔

ملازمہ نے بتایا کہ یہ وہ گندم ہے جو سیلاب میں اور بارش میں خراب ہو گئی تھی، اسے گوندھ کر پکانا بہت مشکل ہو رہا ہے، لیکن لوگ کیا کریں، مجبوری کا نام شکریہ۔ حکمرانوں کو کوئی فکر نہیں، ان کا چولہا تو جل رہا ہے، ان تک اعلیٰ ترین دیسی گندم پہنچ رہی ہے، نہ انھیں مہنگائی کا پتا، نہ گیس جانے کی پریشانی، نہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ، راوی ہمیشہ ان کے لیے چین ہی چین لکھتا ہے۔

پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے جہاں باری باری کٹھ پتلیوں کو جمہوریت کا تاج پہنا کر تخت پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ وہ تاج رکھتے ہی اپنے خزانے بھرنے لگتے ہیں، رشتے داروں کو پرمٹ دینا، دوست احباب کو بینکوں سے قرضے دلوانا اور پھر انھیں معاف کرا دینا، تاج پہننے سے پہلے ان کے اثاثوں کا جائزہ لیجیے اور اقتدار کے بعد کا جائزہ لیجیے تو چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

دونوں بڑی جماعتیں مال بناتی رہیں، عمران خان آئے تو لوگوں نے سکون کا سانس لیا کہ کسی اور کو بھی موقعہ دینا چاہیے، مقتدرہ حلقوں نے عمران خان کے سر پر بھی تاج جمہوریت رکھ دیا، لیکن ہوا کیا؟ مہنگائی نے آسمان کو چھو لیا، سارے فیصلے خواب گاہوں میں ہونے لگے، انھوں نے ملک کو بھی کرکٹ کا میدان سمجھ لیا، اپنے وزیروں کی کارکردگی کا انھیں پتا ہی نہیں تھا، کسی نے کہا ’’گندم وافر ہے‘‘ تو بنا یہ سوچے کہ اولین ترجیح اپنا ملک ہے۔

انھوں نے برآمد کی اجازت دے دی اور پھر مہنگے داموں باہر سے گندم منگوانی پڑی، کسی نے ان کے کان میں کہا کہ ’’چینی بھی بہت ہے‘‘ انھوں نے چینی باہر بھجوا دی، اب وہ بھی باہر سے منگوانی پڑے گی، میں تو کہوں گی کہ عمران خان نے عوام کو بہت مایوس کیا، کیا سوچا تھا اور کیا ہوا؟ روحانی تجربات ہوتے رہے، ملک دیوالیہ ہوتا رہا، یہاں کوئی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا، سب پچھلوں پر سارا ملبہ ڈال کر دامن جھاڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

عمران خان سے امید تھی کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے، لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔ مقتدرہ حلقوں نے ہمیشہ سے سب کچھ اپنے ہاتھوں میں لے رکھا ہے، جس کے سر پہ چاہتے ہیں اقتدار کا ہما بٹھا دیتے ہیں اور جب چاہیں اڑا دیتے ہیں۔ کٹھ پتلیوں کی ڈور ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

میرا ہی نہیں بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ چھپن چھپائی کا کھیل ختم ہونا چاہیے اور مقتدرہ کو کھل کر سامنے آجانا چاہیے ، جو لوگ اس ملک میں جمہوریت کی بات کرتے ہیں شاید انھیں معلوم نہیں کہ یہاں انگوٹھا چھاپوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، گاؤں گوٹھوں میں پہلے ہی کہہ دیا جاتا ہے کہ کس نشان پر ٹھپہ لگانا ہے۔

ہم لوگ بار بار بے وقوف بنائے جاتے ہیں کبھی الیکشن کے نام پر کبھی ریفرنڈم کے نام پر۔ مجھے یاد ہے کہ ریفرنڈم میں ضیا الحق کے دور میں پریزائیڈنگ آفیسر کی حیثیت سے میری ڈیوٹی ڈملوٹی میں لگی تھی، وہاں بے چارے سیدھے سادے لوگ آ رہے ہیں، ان کے ساتھ غالباً مقامی کونسلر ہوتا تھا، وہ انھیں بتا رہا تھا کہ کہاں نشان لگانا ہے، جب ہمارے عملے نے اعتراض کیا تو وہ میرے پاس آیا اور بولا ’’میڈم! آپ کو معلوم ہے ناں کہ ڈبہ بھرنا ہے؟‘‘ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ جتنے لوگ لاسکتا تھا لے آیا، تین بجے سہ پہر تک ووٹنگ بالکل ختم ہوگئی، ہم لوگ چائے پی کر سستانے لگے، تھوڑی دیر بعد وردی پوش آگئے اور پوچھا کہ کتنے ووٹ پڑے؟ ہم نے انھیں لسٹ دکھادی، ڈملوٹی میں اس وقت آبادی بہت کم تھی۔ لسٹیں دیکھنے کے بعد انھوں نے بیلٹ پیپر کی بک دکھانے کو کہا، وہ بھی انھیں دکھا دیں۔ تب انھوں نے بڑا انوکھا مطالبہ کیا کہ میں اور میرا عملہ ٹھپے لگا کر بیلٹ باکس کو بھر دیں، میں نے انکار کردیا بلکہ انھیں تنبیہ بھی کی کہ یہ مناسب بات نہیں ہے۔ نیز یہ کہ میں بحیثیت پریزائیڈنگ آفیسر ایسا نہیں کرنے دوں گی، تو ان میں سے جو سینئر تھا وہ مجھے الگ لے گیا اور بولا ’’آپ بھی سرکاری ملازم ہیں اور میں بھی، میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔‘‘ اس کے بعد کیا ہوا، اس بات کو جانے دیں، بس یہ یاد رکھیں کہ اس ملک میں الیکشن مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ اقتدار اعلیٰ کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ مجھے کہنے دیجیے کہ پچھلوں کی طرح عمران خان نے بھی بہت مایوس کیا ہے۔ اب دن رات الیکشن کے راگ الاپے جا رہے ہیں، گویا آیندہ الیکشن گویا پارس پتھر ثابت ہوگا یا روحانیت کا کوئی کمال کہ الیکشن ہوتے ہی مہنگائی کا منہ زور گھوڑا چاروں شانے چت گرا پڑا ہوگا، دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی، آٹا ٹکے سیر بکنے لگے گا، چینی بلاقیمت مل جائے گی، دالوں کی بوریاں گھروں کی دہلیز پہ پہنچا دی جائیں گی، گھی، تیل سستے داموں ملنے لگے گا!

میں نے بھی الیکشن میں عمران خان کو ہی ووٹ دیا تھا کہ وہ کراچی کی قسمت بدلنے کی بات کرتے تھے،لیکن آج میں ہی یہ کہہ رہی ہوں کہ عمران خان نے پہلے کون سا تیر مار لیا جو اب انھیں دوبارہ آزمایا جائے۔ انھوں نے بھی وہی کیا جو ان سے پہلے آنے والوں نے کیا تھا، دعوے بڑے بڑے اور کام کے نام پر ڈھکوسلا۔ خاص کر کراچی کے حوالے سے ان کا کردار بہت مایوس کن رہا، کہاں گئے وہ فنڈز جو انھیں اس بدقسمت شہر کو دینے تھے؟ پیپلز پارٹی نے شہر کو کچرا کنڈی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ایم کیو ایم نے بھی مایوس کیا، اب رہ جاتی ہے جماعت اسلامی، باوجود اختلاف کے میں یہ کہوں گی کہ اب صرف جماعت اسلامی ہی اس شہر کو بچا سکتی ہے۔ انھوں نے بھی ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ دیکھیے الیکشن کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے۔ عمران خان تو ووٹ لے کر کراچی کو بھول گئے کہ انھیں اپنے ’’آقا‘‘ پر بڑا بھروسہ تھا، جو انھیں لائے تھے، لیکن انھوں نے جب اپنا پینترا بدلا تو عمران خان کے چودہ طبق روشن ہوگئے اور دلچسپ بات یہ کہ خود ایکسٹینشن دی اور جب قدم ڈگمگائے تو دوبارہ مدد مانگنے لگے، ایک طرف تو اسٹیبلشمنٹ سے بے زاری دوسری طرف تاحیات مدت ملازمت میں توسیع! یہ ہے قول و فعل کا تضاد۔ اہل کراچی عمران خان سے ناراض بھی ہیں اور انھیں شکوہ بھی ہے کہ ان کی ساری توانائیاں صرف اور صرف تخت اسلام آباد حاصل کرنے کے لیے تھیں، کراچی جیسے اہم شہر کو جو پورے ملک کو کھلاتا ہے اور کما کر دیتا ہے، بالکل لاوارث قرار دے دیا، پیپلز پارٹی کی ہمدردیاں صرف لاڑکانہ تک ہیں، یا پھر وہ پوش علاقے جہاں پیپلز پارٹی کے حکمران رہتے ہیں۔ کاش پی پی والے اس قول پہ عمل کرتے کہ ’’محبت بہترین ہتھیار ہے‘‘ اگر کسی بھی پارٹی کو کراچی میں الیکشن جیتنا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ بلاتخصیص مذہب اور زبان کے اس شہر کی خدمت کرے۔ گندے نالوں کی صفائی کروائے، کچرا کنڈیاں جگہ جگہ رکھوائے، کچرا اٹھانے کا روزانہ کی بنیادوں پر کام کیا جائے، کراچی میں باہر سے آنے والوں نے بہت گند مچایا ہے، لہٰذا سبزی اور گوشت کی مارکیٹوں میں کوڑے کے لیے ڈرم رکھے جائیں اور دکانداروں سے ماہانہ چندہ لیا جائے، صفائی کے نام پر یا پھر انھیں پابند کیا جائے کہ وہ پلاسٹک بیگز میں کچرا بھر کے کچرا کنڈی میں رکھیں یا کچرے کی گاڑی کو وہ بیگ تھما دیں۔ مارکیٹوں کے دکانداروں کو بھی اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ صفائی کے بعد کچرا سڑک پر نہ پھینکیں بلکہ کچرے کے ڈرم میں ڈالیں اور پھر اگلے دن کچرا اٹھانے والی گاڑیاں وہ کچرا جمع کرکے لے جائیں۔ کراچی کے باسیوں کو اپنا شہر صاف ستھرا چاہیے، جو پارٹی یہ کام کرے گی لوگ اسی کو ویل کم کہیں گے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ محنت میں عظمت ہے تو کچھ غلط نہیں کہتے، ایک بار کوئی پارٹی اس پر عمل کرکے تو دیکھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔