گندم کی نئی اقسام

سید عاصم محمود  اتوار 22 جنوری 2023
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

تیرہ چودہ ہزار سال قبل انسان شکاری اور خانہ بدوش تھا۔جہاں چراہ گاہ اور پانی ملتا،وہیں ڈیرے ڈال دیتا۔اسی زمانے میں اناطولیہ(ترکی)میں آباد کسی انسان کے ذہن میں اللہ تعالی نے اپنے کرم سے یہ بات ڈال دی کہ جنگلی گھاس کی ایک قسم بہت غذائیت بخش ہے۔

چناں چہ وہ اسے اگانے لگا۔اس کا یہ عمل بنی نوع انسان کی زندگیوں میں انقلاب لے آیا۔چند ہزار سال میں انسان اِدھر اُدھر خانہ بدوشوں کی طرح بھٹکنے کے بجائے کرہ ارض کا حکمران بن گیا۔اس کی زندگی بدل کر رکھ دینے والی جنگلی گھاس کی قسم اب ’’گندم‘‘کہلاتی ہے۔

پہلا اناج

ماہرین تاریخ وغذائیات کا کہنا ہے کہ گندم وہ پہلا اناج ہے جسے باقاعدہ طور پر قدیم انسانوں نے اگایا۔یہ اناج جلد پک کر تیار ہو جاتا۔یوں قیمتی غذائیات فراہم کرنے والی بہترین خوراک کا خزانہ انسانوں کے ہاتھ لگ گیا۔

اب انھیں قریہ قریہ غذا کی تلاش میں بھٹکنے کی ضرورت نہ رہی۔جہاں وافر پانی اور زمین ہوتی، انسان وہیں رک کر گندم اگانے لگتے۔رفتہ رفتہ انسان دیگر اناج مثلاً جو، چاول، باجرا اور مکئی بھی کاشت کرنے لگے۔

اناج پانے کی خاطر ہی کھیتوں کے اردگرد اولّیں انسانی بستیاں وجود میں آئیں۔آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ محلے، دیہہ، قصبے اور آخر شہر کی صورت اختیار کر گئیں۔

اناج، سبزی اور پھل کی کاشت سے انسان کو غذائیت بخش خوراک وافر ملنے لگی۔اس لیے بچے اب بھوک سے نہ مرتے کہ کھانا وافر دستیاب تھا۔لہذا انسانی آبادی میں اضافہ ہونے لگا۔پیٹ پوجا کرنے کی پریشانی سے نجات پائی تو انسان دیگر مشغلوں کی طرف متوجہ ہوا۔

اب وہ اخلاقیات، مذہب، ادب، سائنس وٹکنالوجی کے مسائل پہ غوروفکر کرنے لگا۔یوں تہذیب، تمدن و ثقافت کا آغازہوا۔ کرہ ارض پہ انسان اشرف المخلوقات بننے کی راہ پر گامزن ہو گیا۔جیسے جیسے آبادی بڑھی، کاشت کاری کا سلسلہ بھی وسیع ہو گیا۔

سبز انقلاب

انیسویں اور بیسویں صدی میں آبادی بڑھنے سے خوراک کی ضرورت بڑھ گئی۔اب سائنس انسان کی مدد کو آن پہنچی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’سبز انقلاب‘‘برپا ہوا اور شعبہ زراعت میں بڑی تبدیلیاں آ گئیں۔سائنس دانوں نے گندم اور دیگر اناجوں کے ایسے بیج ایجاد کر لیے جو زیادہ پیداوار دینے لگے۔

کیمیائی کھادوں کا استعمال بڑھ گیا کیونکہ بیج انھیں پا کر ہی زیادہ پیداوار دیتے۔کیڑے مار ادویہ فصل کو تحفظ دینے میں کام آنے لگیں۔ان تبدیلیوں کی وجہ سے گندم، چاول، مکئی وغیرہ کی پیداوار خاطر خواہ بڑھ گئی جس سے غذائی کمی کا عفریت ختم کرنے میں مدد ملی۔وافر غذا نے کئی ملکوں میں شرح پیدائش بڑھا دی۔

نئے مسائل کا جنم

بیسویں صدی کے اواخر سے مختلف مسائل نے دنیا بھر میں شعبہ زراعت کو آن دبوچا۔مثلاً آب وہوائی (climate)اور موسمیاتی (weather) تبدیلیوں کے سبب قحط، سیلاب اور طوفان آنے لگے۔نت نئی تعمیرات بہت سے کھیت ہڑپ کر گئیں۔

جہاں فصلیں اگتی تھیں، وہاں کنکریٹ کے جنگل نمودار ہو گئے۔خراب زرعی عادات(کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویہ کے زیادہ استعمال)سے مٹی کی ساخت متاثر ہوئی اور وہ زرخیز نہیں رہی۔ان سبھی مسائل کی وجہ سے اناج ہی نہیں دیگر غذاؤں مثلا سبزی، پھل، مسالہ جات اور مغذیات کی پیداوار میں بھی کمی آنے لگی۔یہی کمی غذاؤں کی قیمت میں اضافے کا سبب بن گئی۔

ماہرین کی رو سے فی الوقت ہر سال دنیا کی انسانی آبادی پونے سات کروڑ بڑھ جاتی ہے۔جبکہ ہر سال درج بالا زرعی مسائل کی وجہ سے ایک کروڑ بیس لاکھ ہیکٹر رقبہ قابل کاشت نہیں رہتا۔گویا ایک طرف تو انسانی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری سمت زرعی رقبے میں کم کا خطرناک سلسلہ جاری ہے۔(نئے کھیت بن رہے ہیں مگر سست رفتاری سے)۔چناں چہ اس عجوبے نے دنیا بھر میں خوراک خصوصاً گندم و چاول و مکئی کی قیمتیں بڑھا دی ہیں کیونکہ یہی اناج ہی اربوں انسانوں کا پیٹ بھرتے ہیں۔

پاکستان میں گندم کی پیداوار

دس ہزار سال پہلے گندم صرف ترکی،مصر اور شام و عراق میں کاشت ہوتی تھی۔آج آسٹریلیا و نیوزی لینڈ سے لے کر امریکا وکینیڈا تک تقریباً ہر ملک میں کروڑوں ایکڑ رقبے پہ یہ اناج اگایا جاتا ہے۔پاکستان و بھارت میں تو یہ ڈیرھ ارب باشندوں کا من بھاتا کھاجا ہے۔

اسی لیے پاکستان میں گندم کی قیمت بہت زیادہ بڑھنے سے عام آدمی پریشان ومتفکر ہو گیا۔پہلے تو سیلاب نے گوداموں میں محفوظ گندم خراب کر دی۔پھر ہمارا حکمران طبقہ خواب ِغفلت میں مبتلا رہا اور بیرون ممالک سے بروقت گندم نہیں منگوا سکا۔

اس باعث آٹے کی فراہمی کا بحران سنگین ہو گیا۔آٹا کم ہونے سے 22ء کے آخری مہینوں میں گندم وآٹے کی قیمت کو پر لگ گئے اور فی کلو کئی روپے کا اضافہ ہو ا۔ ایک من گندم کی قیمت 5200 روپے پہنچ گئی۔پنجاب میں پندرہ کلو آٹے کا تھیلا 2150 روپے میں دستیاب رہا۔پشاور اور کوئٹہ میں قیمت مزید زیادہ تھی۔

پاکستان میں گندم کی پیداوار ویسے بھی کئی برس سے جامد ہے اور اس میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔اس خرابی کی کئی وجوہ ہیں ، مثلاً کاشت کاری کے جدید طریق استعمال نہ کرنا، پانی کی کمی، بیج وکھاد اور بجلی مہنگی ہونا، زرعی زمینوں کا ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بدل جانااور آب وہوائی تبدیلیاں۔

تاہم کسان خصوصاً جدید زرعی طریق اپنا لیں تو گندم و دیگر فصلوں کی پیداوار بڑھانا ممکن ہے۔اس سلسلے میں بھارتی کسان زیادہ باشعور ثابت ہوئے۔

پڑوس کے کسانوں کا حال اچھا

بھارتی پنجاب کا رقبہ 50 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔اور وہاں ہر سال ایک کروڑ ستر لاکھ ٹن گندم اگ رہی ہے۔پاکستانی پنجاب کا رقبہ دو لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔مگر یہاں سالانہ دو کروڑ ٹن کے آس پاس گندم ہی اگ پاتی ہے۔

حالانکہ زیادہ رقبہ ہونے کے سبب پیداوار کم از کم دگنی یعنی چار کروڑ ٹن کے اردگرد ہونی چاہیے۔بھارتی پنجاب کے کسان جدید زرعی طریق وسیع پیمانے پر اپنا رہے ہیں جس سے انھیں فائدہ پہنچا اور فی ایکڑ پیداوار بڑھ گئی۔پھر وفاقی و صوبائی حکومتیں انھیں سستے بیج، سستی کھاد وبجلی بھی فراہم کرتی ہیں۔اس طرح کسانوں کی بیشتر تعداد وافر گندم اگانے کے قابل ہو گئی۔

یوں انھیں اپنی محنت ومشقت کا بہتر معاوضہ ملتا ہے اور ان کا معیار زندگی بلند ہو چکا۔پاکستانی حکومتیں بھی اپنے کسانوں کو بیج، کھاد، بجلی وغیرہ پر سبسڈی دیتی ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ چھوٹے کسانوں تک نہیں پہنچ پاتی۔نیز جدید زرعی طریق نہ اپنانے سے بھی پاکستانی کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے۔پیداوار منجمد رہنے کے سبب وہ معیار زندگی بلند نہیں کر پاتے۔

کسانوں کو درپیش مسائل کی وجہ سے پاکستان میں آٹے کا مسئلہ جنم لے چکا۔گندم کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ ہر سال مزید چالیس تا پینتالیس لاکھ کھانے والے پیدا ہو جاتے ہیں۔انھیں بھی پیٹ بھرنے کی خاطر غذا چاہیے۔

چناں چہ گندم درآمد کرنا پڑتی ہے جو مہنگی ہو رہی ہے۔پاکستان کی حکومتوں کو چاہیے کہ فوری طور پر کسانوں کی تعلیم وتربیت اور انھیں جدید زرعی طریقے سکھانے کے لیے جامع منصوبوں کا آغاز کریں تاکہ جنم لیتا غذائی بحران ٹالا جا سکے۔

اگر آٹے کی قلت بڑھتی رہی تو ٹرکوں پہ دھاوا بولتے بھوکے پاکستانی آخرکار حکمران طبقے کے عالیشان محلات تک بھی پہنچ جائیں گے۔بھوک معاشرے کا امن وامان تباہ کر کے جرائم میں اضافہ کرتی ہے۔اسی لیے بھوک کو برائیوں کی ماں کہا جاتا ہے۔

جین کے کرشمے

جینیاتی انجینرئنگ بھی گندم اور دیگر غذاؤں کی پیداوار بڑھانے میں بنی نوع انسان کی مدد کر رہی ہے۔اس ٹکنالوجی کے ذریعے پودے یا جانور کے ڈی این اے میں پائے جانے والے جین (gene)میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔یاد رہے، یہ جین ہی طے کرتے ہیں کہ ایک پودے یا جانور نے کیونکر پروان چڑھنا اور زندہ رہنا ہے۔

انسان کے ڈی این اے میں بیس سے پچیس ہزار جین پائے جاتے ہیں۔ان کا مجموعہ ’’جینوم ‘‘(genome)کہلاتا ہے۔بعض تنازعات کی وجہ سے جینیاتی انجینرئنگ متنازع ٹکنالوجی بن چکی۔

تاہم عالمی شہرت یافتہ سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کا اتفاق ہے کہ اس ٹکنالوجی کی مدد سے بنی غذائیں انسانی صحت کے لیے روایتی غذاؤں کے مانند ہی فوائد یا نقصان رکھتی ہیں۔مطلب یہ کہ جینیاتی انجینرئنگ سے بنی غذائیں جنھیں جی ایم او‘‘(genetically modified organism)کہا جاتا ہے، غذائیات اور طبی فوائد یا نقصانات میں روایتی غذاؤں جیسی ہی ہیں اور ان سے نئی قسم کی بیماریاں جنم نہیں لیتیں۔

جینیاتی انجینرئنگ کے ذریعے عموماً پودے کے ڈی این اے سے ایسا جین نکالا جاتا ہے جو اسے نشوونما پانے کے دور میں کسی مسئلے میں گرفتار کرا تا ہے یا پھر اس کو صحیح طرح پھلنے پھولنے نہیں دیتا۔اسی طرح کسی پودے کے ڈی این اے میں دوسرے پودے سے لے کر ایسا جین شامل کیا جاتا ہے جو اسے امراض وقدرتی آفات سے محفوظ رکھتا اور اس کی نشوونما کرتا ہے۔یہ عمل اصطلاح میں ’’جینیاتی ایڈیٹنگ‘‘ کہلاتا ہے۔

جب کسی پودے کے ڈی این اے میں کوئی جین داخل کیا یا نکالا جائے تو اسے اگایا جاتا ہے۔اگر پودا انسانی خوراک میں شامل ہے تو پہلے اسے جانور کھاتے ہیں۔

اگر ان میں کوئی طبی مسئلہ جنم نہ لے تو پھر جی ایم او پودے کی غذا رضاکار انسان کھاتے ہیں۔اگر ان پر بھی غذا طویل عرصے تک کوئی منفی اثر پیدا نہ کرے اور انسانوں کی صحت بحال رہے تو تب کہیں جا کر جی ایم او پودا جانوروں یا انسانوں کے استعمال کی خاطر منظور ہوتا ہے۔

جینیاتی انجینرئنگ کے ذریعے سب سے زیادہ امریکا، برطانیہ، جرمنی،جاپان،کینیڈا،فرانس اور ہالینڈ میں تحقیق وتجربات جاری ہیں۔یہ تجربے کافی مہنگے اور طویل ہوتے ہیں۔ان پر اچھی خاصی رقم خرچ ہوتی ہے۔ایک تجربہ کئی سال میں مکمل ہوتا ہے۔اسی لیے تحقیق وتجربات سے کوئی جی ایم او غذا وجود میں آئے تو وہ مہنگی ہوتی ہے۔البتہ جب اسے وسیع پیمانے پر تیار کیا جانے لگے تو سستی ہو جاتی ہے۔

جی ایم او غذائیں بدنام کیوں؟

ہمارے ہاں یہ تاثر جنم لے چکا کہ امریکی ویورپی مادہ پرست ہیں۔وہ پیسہ کمانے کے لیے ناجائز عمل بھی اپنا لیتے ہیں۔

امریکیوں کو مادہ پرستی سے رغبت تو ہے مگر وہ اتنے سنگ دل اور ظالم نہیں ہو سکتے کہ ناقص جی ایم اور غذائیں اپنوں اور غیروں کو کھلانے لگیں۔جبکہ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ سچائی، دیانت داری اور دیگر اخلاقی اقدار کا چلن امریکا ویورپ میں زیادہ ہے۔

اس طرح تو پاکستان میں ملاوٹ کی بیماری بھی خاصی پائی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ پھر اس معاملے نے کیوں جنم لیا کہ جی ایم او غذا زہریلی اور مضر صحت ہے؟اور کینسر بھی پیدا کرتی ہے؟ماہرین طب کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ بعض انسانوں کا مدافعتی نظام (immune system)کسی وجہ سے جی ایم او غذاؤں کو قبول نہیں کر پاتا۔اسی لیے کچھ لوگوں میں شاید جی ایم اور غذاؤں کا کثیر استعمال خلیوں کو کینسر کا نشانہ بنا دیتا ہے۔

لیکن جو انسان روایتی غذائیں کھاتے ہیں، وہ بھی تو کینسر ،امراض قلب وغیرہ کا شکار ہوتے ہیں۔لہذا یہ ممکن ہے کہ جی ایم او غذائیں کمزور یا ناقص مدافعتی نظام کے سبب کسی انسان میں طبی مسئلہ پیدا کر دیں مگر یہ کہنا غلط ہو گا کہ وہ سبھی انسانوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

جینیاتی انجینرئنگ کم از کم خوراک کے معاملے میں انسان دوست ٹکنالوجی ہے۔اس کے ذریعے انسان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا مقصود ہے۔

بعض تجربے یقیناً ناکام ہوتے یا مضر صحت نتائج سامنے لاتے ہیں، مگر ان سے وجود میں آئی جی ایم او غذائیں تلف کر دی جاتی ہیں۔جبکہ کامیاب تجربات کی بدولت انسانوں کو فوائد حاصل ہوتے ہیں۔مثلاً گندم کا معاملہ ہی لیجیے جس کی کمی دنیا کے کروڑوں انسانوں کو بھوک میں مبتلا کر کے سنگین حالات کو جنم دے سکتی ہے۔

گندم کا پیچیدہ جینیاتی میٹریل

دنیا کے ممالک میں گندم کی مختلف ورائٹیوں کی کاشت ہوتی ہے۔تاہم اس اناج کی سبھی ورائٹیاں دو بنیادی اقسام سے نکلی ہیں:اول پاستا قسم(Durum) اور دوم روٹی قسم(Common wheat) جو روٹیاں، ڈبل روٹی، بن وغیرہ بنانے میں کام آتی ہے۔

یہ دونوں اقسام دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے چار ارب انسانوں کا من پسند کھاجا ہیں۔وہ انہی کے ذریعے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔اس بنا پر گندم دنیا کے اہم ترین اناجوں میں سے ایک ہے۔دلچسپ بات یہ کہ پچھلے سال تک گندم کے بیج ماہرین جینیاتی انجینرئنگ کے لیے شجر ِممنوعہ کی حیثیت رکھتے تھے۔اس کی وجہ؟

وجہ ہے گندم کی سبھی اقسام کا جینیاتی میٹریل! انسان صرف ایک جینوم رکھتا ہے، یعنی ڈی این اے کی مکمل ہدایات کا مجموعہ جو ایک خلیے میں ملتا ہے۔

پاستا گندم کا بیج ایسے دو جبکہ روٹی گندم کا بیج تین جینوم رکھتا ہے۔گندم کے بیجوں کی جینیاتی خصوصیات جاننے سے پہلے ضروری تھا کہ ماہرین جینیات گندم کے تینوں جینوم کا عمیق مطالعہ کر لیں۔ان جینوم کے ہزارہا جین کی شناخت پر کئی سال لگ گئے۔

آخر 2018ء میں یہ کام مکمل ہوا۔اس تحقیق میں دنیا بھر کے ماہرین جینیات نے حصہ لیا۔یوں مشترکہ جہدوجہد اور اتحاد سے یہ پیچیدہ واہم کام انجام کو پہنچا۔جب ماہرین نے گندم کی پاستا اور روٹی اقسام کے تین جینوم پر تحقیق کی تو منکشف ہوا کہ ان میں ایک خصوصی جین ’’Zip4.5B‘‘ملتا ہے۔

اس جین کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ تینوں جینوم کے جینز کو ایک دوسرے کی سلطنت میں نہ جانے دے اور انھیں اپنے حصّے تک محدود رکھے۔

یہ ایک نیا اہم مسئلہ تھا جو ماہرین جینیات کے سامنے آیا۔وجہ یہی کہ گندم کی جنگلی اقسام اور دیگر پودوں کے جین پاستا و روٹی گندم میں پائے جانے والے خصوصی جین کی وجہ سے ان کے ڈی این اے کا حصہ نہیں بن سکتے تھے۔یوں مطلوبہ جینز کے ملاپ سے گندم کی زیادہ عمدہ قسم ایجاد کرنا کٹھن کام بن گیا۔

مستقبل کے عزائم

برطانیہ کے شہر، ناروچ میں ایک خودمختار تحقیقی و علمی ادارہ، جان اینس سینٹر(John Innes Centre)کام کر رہا ہے۔یہ دنیا میں نباتاتی سائنس اور خرد حیتیات(مائکروبیالوجی)کی تحقیق کا بہت بڑا مرکز ہے۔اسی ادارے میں پچھلے چند برس سے ایک خصوصی تحقیقی گروپ’’ڈیزائنگ فیوچر وہیٹ(Designing Future Wheat )کام کررہا ہے۔

اس گروپ سے نامی گرامی سائنس داں وابستہ ہیں۔یہ تحقیقی گروپ قائم کرنے کا مقصد ہے کہ ماہرین جینیاتی انجینرئنگ کی مدد سے گندم کے ایسے بیج تیار کر سکیں جو درج ذیل خصوصیات کے حامل ہوں:

٭…زیادہ پیداوار دے سکیں۔

٭…ان میں مختلف بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔

٭…بیج سے نکلی شاخیں موٹی ہوں تاکہ وہ طوفان یا سیلاب میں ٹوٹ نہ جائیں۔

٭…پودے میں موٹے خوشے یا دانے لگ سکیں تاکہ زیادہ آٹا حاصل ہو۔

٭…بیج کی فصل جلد پک جائے یعنی تیزی سے پروان چڑھے۔

٭…گندم جلد خراب نہ ہو بلکہ تادیر کھانے کے قابل رہے۔

٭…سب سے بڑھ کر بیج سے نکلی فصل قدرتی آفات مثلاً شدید گرمی، پانی کی کمی، سیلاب اور طوفانی بارشوں کا موثر مقابلہ کر سکے۔

پروفیسر گراہم مور گندم کی جینیات کے عالمی شہرت یافتہ ماہر اور جان اینس سینٹر کے ڈائرکٹر ہیں۔کہتے ہیں:’’گندم کی جنگلی اقسام اور دیگر پودوں کے جین کئی خصوصیات رکھتے ہیں…وہ امراض کا مقابلہ کرتے، بلند درجہ حرارت میں بھی پودے کو پروان چڑھاتے ،پانی کی کمی برداشت کرتے اور سیم وتھور کے حملے ٹالتے ہیں۔

ضروری تھا کہ پاستا وروٹی گندم کے جینوم میں بھی یہ جین داخل کیے جائیں تاکہ وہ نامساعد حالات میں بھی نشوونما پا کر اچھی پیداوار دے سکیں۔‘‘خصوصی جین کی وجہ سے مگر دیگر پودوں کے جین پاستا وروٹی اقسام کے ڈی این اے میں شامل کرنا مسئلہ بن گیا۔

چناں چہ فیصلہ ہوا کہ سائنس وٹکنالوجی کی مدد سے اس جین(Zip4.5B)کی ایسی انسان ساختہ قسم تخلیق کی جائے جو گندم کی پاستا وروٹی اقسام میں دیگر پودوں کے جینز کو شامل ہونے سے نہ روک سکے۔اب ماہرین یہ قسم تخلیق کرنے کے کام پر جت گئے۔

کامیابی مل گئی

شب و روز محنت کے بعد آخر انھیں دو سال بعد کامیابی مل ہی گئی۔2020ء میں انسان جینZip4.5Bکی ایسی قسم بنانے میں کامیاب ہو گیا جو پاستا وروٹی اقسام میں دیگر جینز کے دخول پر پابندی نہیں لگاتی۔یہ سائنس و ٹکنالوجی کی ایک اور بڑی کامیابی تھی۔

اس انسان ساختہ جین کو پھر گندم کی دونوں اقسام میں شامل کیا گیا۔تحقیق و تجربات نے دکھا دیا کہ یہ انسان ساختہ جین کوئی مضر صحت اثرات نہیں رکھتا۔یوں دونوں قسمیں انسانی استعمال کے قابل قرار پائیں۔

اس ایجاد نے ارجنٹائن کے ماہرین جینیات میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔قصّہ یہ ہے کہ 2004ء میں وہاں ایک ماہر حیاتی کیمیا، ڈاکٹر ریکویل چان( Dr. Raquel Chan)نے دریافت کیا تھا کہ سورج مکھی پودے میں پایا جانے والا ایک جین’’ hahb-4‘‘اسے پانی کی کمی والے ماحول میں بھی پروان چڑھاتا رہتا ہے۔

گویا اس جین کی وجہ سے قحط کے منفی اثرات سورج مکھی کو متاثر نہیں کر پاتے۔بعد ازاں ماہرین نے کوشش کی کہ یہ جین گندم کے ڈی این اے میں شامل کر دیا جائے تاہم خصوصی جین(Zip4.5B)کی وجہ سے وہ ناکام رہے۔

گندم کا پہلا جی ایم او بیج

جب 2020ء میں انسان ساختہ خصوصی جین والی پاستا وروٹی کی اقسام سامنے آئیں تو ارجنٹائن کے ماہرین جنییات کوشش کرنے لگے کہ سورج مکھی کا جین(hahb-4)ان کے جینوم میں داخل کر دیا جائے۔انھیں جلد ہی کامیابی مل گئی۔

اس طرح دنیا میں گندم کا پہلا جی ایم او بیج تیار ہو گیا جسے ’’HB4 Wheat‘‘کا نام دیا گیا۔یہ بیج اب باقاعدہ طور پر ارجنٹائن کی نجی کمپنی،بائیوسریس (Bioceres)وسیع مقدار میں بنا کر فروخت کر رہی ہے۔ارجنٹائنی ماہرین کا دعوی ہے کہ HB4 گندم کے بیج نہ صرف کم پانی والے علاقوں میں پروان چڑھتے ہیں بلکہ پیداوار بھی گندم کی دیگر اقسام کے مقابلے میں دس تا بیس فیصد زیادہ دیتے ہیں۔

مذٰید براں یہ بیج اگر معمول کے پانی والے علاقوں میں بویا جائے تو گندم کی پیداوار پچیس سے پچاس فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔اس جی ایم او بیج کو اگانے کے لیے امریکا، برازیل، آسٹریلیا و نیوزی لینڈ، ارجنٹائن، نائیجیریا اور کولمبیا کی حکومتیں منظوری دے چکیں۔ارجنٹائن کے لاکھوں ہیکٹر رقبے پر HB4 گندم کا بیج کاشت ہو رہا ہے۔

پاکستان کے کئی علاقوں میں پانی کی کمیابی کے باعث وہاں گندم نہیں اگ پاتی۔ضروری ہے کہ ان علاقوں میں HB4 بیج سے گنام اگانے کا تجربہ کیا جائے۔ممکن ہے کہ علاقوں کے قحط جیسے حالات سے یہ نیا بیج مطابقت پیدا کر لے۔

اس طرح گندم کی پیداوار بڑھنے سے نہ صرف آٹے کی قلت پہ قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ اس کی قیمت بھی کم ہو سکے گی۔نیز علاقے کے کسانوں کو معقول آمدن کا ذریعہ مل جائے گا۔ان علاقوں میں HB4 بیج اگانے کی خاطر حکومت کو کسانوں کی ہر ممکن مدد کرنا چاہیے۔

گرمی برداشت کرنے والے بیج

گندم کی مختلف اقسام جنگلات و غیر آباد علاقوں میں اگتی ہیں۔ جان انیس سینٹر کے ماہرین سبھی جنگلی اقسام میں نZip4.5B دریافت کر چکے۔تحقیق و تجربوں سے یہ نیا انوکھا انکشاف ہوا کہ یہ جین ان گھاسوں کو شدید گرمی سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔اسی لیے گندم کی بہت سی جنگلی اقسام ایسے علاقوں میں بھی اگ جاتی ہیں جہاں ازحد گرمی پڑتی ہے۔

ماہرین اب بذریعہ تحقیق جانچ رہے کہ کس قسم کا جینZip4.5B گرمی کا مقابلہ کرنے میں سب سے زیادہ موثر ہے۔مقصد یہ ہے کہ اس جین کو پھر روٹی و پاستا گندم کی اقسام میں بذریعہ جین ایڈیٹنگ شامل کر کے ایسی قسمیں تیار کر لی جائیں جو افریقا،ایشیا و یورپ کے ایسے علاقوں میں بھی کاشت ہو سکیں جہاں درجہ حرارت کافی بلند ہوتا ہے۔

گندم کی ایسی نئی اقسام سے پاکستان کے ان علاقوں میں مقیم کسان بھی مستفید ہوں گے جہاں زیادہ گرمی پڑنے کی وجہ سے گندم کاشت نہیں ہو سکتی۔یہ کرشمہ جینیاتی انجیرئنگ کی بدولت ہی ظہورپذیر ہو گا۔

موذی بیماری کا مقابلہ

’’زنگ گندم‘‘(stem rust) گندم، جواور رائی کو چمٹنے والی بیماری ہے۔یہ Puccinia graminisنامی پھپوندی سے جنم لیتی ہے۔یہ بیماری پاکستان میں بھی گندم کی فصل کو نقصان پہنچاتی ہے۔مگر اب اس سے بچاؤ کی تدبیر نمودار ہو چکی۔لبنان واسرائیل میں Aegilops sharonensis نامی گندم کی جنگلی گھاس اگتی ہے۔

پچھلے سال ماہرین نے اس کی تینوں جینوم کا مطالعہ مکمل کرلیا۔اسی تحقیق سے انکشاف ہوا کہ اس میں موجود ایک جین ’’Sr62‘‘ اسے زنگ گندم سے محفوظ رکھتا ہے۔یہ ایک اہم دریافت ہے کیونکہ اب ماہرین جینیاتی ایڈیٹنگ کی مدد سے Sr62 جین روٹی وپاستاگندم کے ڈی این اے میں داخل کرسکیں گے۔

یوں یہ اقسام زنگ گندم بیماری سے محفوظ ہو جائیں گی جو ہزارہا سال سے گندم کی فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔اس طرح عالمی سطح پر گندم کی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور بھوک کا عفریت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

پیداوار بڑھانے والا جین

ماہ نومبر 22ء میں جان انیس سینٹر کے ماہرین نے خوش خبری سنائی کہ انھوں نے گندم کے جینوم میں ایک نیا جین’’Rht13‘‘ دریافت کیا ہے۔یہ جین چھوٹے قد والی گندم کی اقسام کے لیے بہت موزوں پایا گیا۔سبز انقلاب کے دوران یہ اقسام متعارف کرائی گئی تھیں۔

ان کا فائدہ یہ ہے کہ پودا پلتے بڑھتے شاخوں نہیں خوشوں کو پروان چڑھاتا ہے۔یوں گندم کی ان اقسام کے خوشے زیادہ موٹے ہوتے ہیں۔

دنیا کے کئی کسان گندم کی چھوٹی اقسام بونے لگے تاکہ بڑے خوشے پا کر مالی فائدہ پا سکیں۔ان اقسام کے ساتھ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اگر زمین میں پانی کم ہو تو بیجوں سے پودے پھوٹ کر مٹی سے باہر نہیں نکل پاتے۔یوں گندم کی بیشتر فصل تباہ ہو جاتی ہے۔

چونکہ دنیا بھر میں پانی کی کمی جنم لے چکی لہذا گندم کی چھوٹی اقسام کاشت کاری کے لیے موزوں نہیں رہیں۔گو ان میں خوشے یا دانے موٹے لگتے ہیں۔مگر اب صورت حال تبدیل ہو چکی۔جان انیس سینٹر کے ماہرین نے دریافت کیا کہ اگر گندم کی چھوٹی اقسام میں جین Rht13 داخل کر دیا جائے تو ایک اہم تبدیلی رونما ہوتی ہے۔

یہ کہ ان کے بیج اگر مٹی کی گہرائی میں بھی بوئے جائیں تاکہ مطلوبہ پانی لے سکیں تو کونپلیں پھوٹ پڑتی ہیں۔وجہ یہ کہ جین پھوٹتے پودوں کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ مٹی میں موجود تھوڑی سی نمی بھی چوس کر پروان چڑھ جائیں۔

ماہرین کی رو سے جین Rht13 والی گندم کی چھوٹی اقسام ان ایشیائی اور افریقی علاقوں کے لیے موزوں ہیں جہاں پانی کم ملتا ہے۔درحقیقت یہ اقسام قحط جیسے حالات میں بھی زندہ رہتی اور ایسی اچھی فصل دیتی ہیں جس کے خوشے موٹے ہوتے ہیں۔

ماہرین نے تحقیق سے جانا کہ جین پودوں کی شاخوں کو بھی موٹا کرتا ہے۔یوں فصل تیز ہوا حتی کہ طوفان کا بھی مقابلہ کر لیتی ہے۔گویا یہ اقسام نہ صرف کم پانی والے علاقے میں پنپ جاتی ہے بلکہ تیز ہوائیں بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتیں۔

یہ اقسام پاکستان کے ان علاقوں کے لیے مفید ہیں جہاں پانی کم ہوتا ہے اور تیز ہوائیں چلتی ہیں۔بلوچستان میں ایسے علاقے گندم کی ان اقسام کے لیے موزوں ہیں۔انھیں بو کر بلوچ کسان گندم کی فصل حاصل کر سکتے ہیں۔اس طرح صوبے میں آٹے کی قلت ختم کرنے میں آسانی ہو گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔