پالیسی برطانیہ کی، اطلاق پاکستان پر؛ کیمبرج سسٹم فیس بڑھادی گئی

صفدر رضوی  پير 23 جنوری 2023
فیس پر ہمارا اختیار نہیں، سیکریٹری آئی بی سی سی، پاکستان میں ہماری فیسیں نسبتاً کم، کیمبرج۔ فوٹو:فائل

فیس پر ہمارا اختیار نہیں، سیکریٹری آئی بی سی سی، پاکستان میں ہماری فیسیں نسبتاً کم، کیمبرج۔ فوٹو:فائل

کراچی: پاکستان میں کام کرنے والے برطانوی ایجوکیشن بورڈ ’’کیمبرج اسیسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن‘‘ (سی اے آئی ای) نے ملک میں بدترین مہنگائی کے باوجود امتحانی رجسٹریشن فیسوں میں اضافہ کردیاہے، یہ اضافہ ’’اے‘‘ اور ’’او لیول‘‘ کے طلبہ کے لیے مئی/جون سیشن 2023کے لیے کیاگیا ہے۔

روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث برطانوی پاؤنڈ میں لی جانے والی ان فیسوں میں یہ اضافہ ہزاروں پاکستانی روپے کے مساوی ہے۔ ’’او‘‘ لیول کی سطح پر بعض مضامین میں فی سبجیکٹ 3 ہزار روپے تک اضافہ کردیا گیا ہے اور اس اضافے کے باعث طلبہ یا ان کے والدین پر ایک کلاس کی سطح پر 15ہزار روپے تک اضافی فیس کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔

عمومی رائے یہ ہے کہ کیمبرج بورڈ کی پالیسیاں برطانیہ کے حالات کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں لیکن ان کا اطلاق پاکستان سمیت متعلقہ ممالک پر بھی کردیا جاتا ہے۔ فیسوں میں اضافے کے اس فیصلے سے پاکستان میں 85 ہزار کے لگ بھگ طلبہ متاثر ہورہے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ برطانوی پاؤنڈ میں فیسوں میں فی مضمون 16فیصد تک اضافہ کیاگیا ہے اور اگر ایک طالب علم کم از کم 3 یا 5 مضامین کے لیے رجسٹریشن کراتا ہے تو اسے 48 فیصد سے 80 فیصد تک یہ اضافہ برداشت کرنا ہوگا۔

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں قائم ایک کیمبرج اسکول کے انتظامی عملے نے ’’ایکسپریس‘‘ سے اس حوالے سے معلومات شیئرکرتے ہوئے بتایاکہ’’کیمبرج کی جانب سے او لیول کی سطح پر سائنس کے مضامین کے لیے گزشتہ برس فی مضمون 19340روپے چارج کیے گئے تھے۔

اب نئے سرکلر کے مطابق فی سائنسی مضمون رجسٹریشن فیس 22390 روپے کردی گئی ہے جبکہ غیرسائنسی مضامین کی رجسٹریشن فیس فی مضمون 17500 روپے سے کچھ زیادہ تھی جو اس بار 2023کے لیے 20340 روپی فی مضمون مقررکی گئی ہے۔

اگر کوئی طالب علم او لیول کی سطح پر اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور اردوکے مضامین کا انتخاب کرتا ہے تو اسے رواں برس ان تین مضامین کے لیے 61 ہزار روپے کی ادائیگی کرنی ہوگی جبکہ گزشتہ برس یہ ادائیگی ساڑھے 52 ہزار روپے تک تھی۔

مزید براں اگر طالب علم ریاضی، انگریزی،کمپیوٹرسائنس اور اختیاری مضامین کے طور پر کیمیا اور طبیعیات کے مضامین کا انتخاب کرے گا تو اسے مذکورہ فارمولے کے حساب سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کی ادائیگی کرنی ہوگی۔

بیکن ہاؤس اسکول سسٹم میں زیرتعلیم ایک طالب علم کے والد کا کہنا تھا کہ اپنے بچوں کی معیاری تعلیم کے لیے ہمیں اس مہنگائی کے طوفان میں بھی یہ سمجھوتا کرنا پڑ رہا ہے۔

پی ای سی ایچ ایس کے ایک نجی اسکول میں زیرتعلیم ایک طالب علم کے والد کا کہنا تھا کہ ’’اس بدترین معاشی صورتحال میں جب مجھے فیسوں میں اضافے کا علم ہوا تو میں نے اسکول انتظامیہ سے بات کی، جس پر انتظامیہ نے مشورہ دیا کہ بیک وقت کئی مضامین میں بچے کی رجسٹریشن نہ کرائیں،اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا‘‘۔

’’ایکسپریس‘‘ نے اس سلسلے میں جب آئی بی سی سی کے سیکریٹری ڈاکٹر غلام علی ملاح سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ آئی بی سی سی ان کی اسناد کی تصدیق اور ایکویلنس جاری کرتا ہے، فیسوں کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے کچھ عرصے قبل کراچی میں آئی بی سی سی کے دفتر کا افتتاح کیا تھا۔ اس موقع پر یہ سوال سامنے آیا تھا کہ کیمبرج بورڈ یہاں کے طلبہ سے بھاری فیسیں لے رہا ہے، جس پر وفاقی وزیر نے مذکورہ سیکریٹری آئی بی سی سی کو پابند کیا تھا کہ وہ اس معاملے پر باقاعدہ نوٹ بناکر وزارت کو پیش کریں، تاہم ایسا نہیں ہوسکا۔

دوسری جانب اس سلسلے میں کیمبرج کا موقف ہے کہ ’’پاکستان میں کیمبرج کی فیس دنیا کے دیگر ممالک میں ہماری فیسوں میں سب سے کم ہے، ایک نان پرافٹ آرگنائزیشن ہونے کے ناتے ہم فیسوں کو ممکنہ طور پر کم سطح پر رکھتے ہیں‘‘۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔