قومی وقار کا خیال رکھنے کی ضرورت

ایڈیٹوریل  منگل 8 اپريل 2014
پاکستان2050 تک دنیا کی 18ویں بڑی معیشت بن جائے گا، معروف معیشت دان جم اونیل   فوٹو: اے پی پی/فائل

پاکستان2050 تک دنیا کی 18ویں بڑی معیشت بن جائے گا، معروف معیشت دان جم اونیل فوٹو: اے پی پی/فائل

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے شدید احتجاج ، ہنگامہ آرائی اورواک آئوٹ کے باوجود تحفظ پاکستان ترمیمی بل 2014ء کی کثرت رائے سے منظوری دے دی گئی، جب کہ بجلی چوروں کی گرفتاری اوران کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے فوجداری قانون ترمیمی آرڈیننس میں 120 دن توسیع پر بھی اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا اور شیم شیم کے نعرے لگائے۔

قومی اسمبلی میں پیر کو ایوان میں کئی مواقع پر جس سطح کی گرما گرمی دیکھنے میں آئی وہ اگرچہ جمہوری روایات سے مربوط کہی جاسکتی ہے اور ملک دہشت گردی اور قانون شکنی کے جس پر آشوب دورانئے سے گزر رہا ہے اس میں جذبات سے لبریز خطابات اور ایوان میں تند و تیز تقاریر سے بھی بلاشبہ آسمان نہیں ٹوٹے گا اور اس ضمن میں اگر اپوزیشن جماعتوں نے دو بار واک آئوٹ بھی کیا مگر سب سے بنیادی بات اس ساری تگ و دو کے ماحصل کی ہے، ایک دیدہ ور پارلیمنٹ میں اس قسم کی روایات کا ذکر سیاسی اور پارلیمانی تاریخ کا زیور ہے ، چنانچہ اگر ایوان کے اندر جمہوری طریقے سے احتجاج کیا گیا تو یہ اپوزیشن کا حق ہے اور حکومتی اراکین پر بھی فرض ہے کہ وہ تحفظ پاکستان بل کی منظوری اور فوجداری قانون کے ترمیمی آرڈیننس میں توسیع کے ممکنہ احتجاج کا پہلے سے ادراک کرلیتے تو اس شور شرابہ کا امکان نہ رہتا اور قانون سازی کے سنجیدہ عمل میں حکومتی بنچوں کی جانب سے کی گئی عجلت یا یک طرفہ رعونت آمیز طرز عمل کی شکایت نہ ہوتی۔

یہ احتیاط اس لیے ضروری اور ناگزیر ہے کہ ابھی جمہوریت خود بھی تحفظ کی طلبگار ہے، ملک کو اقتصادی ترقی اور عوام کو اپنے مسائل کا حل چاہیے۔جمہوریت اگر سلطانی جمہور کا نام ہے تو ان خاک بسر سلطانوں کو رزق خاک بنانے سے جمہوریت کبھی مستحکم نہیں ہوگی ۔ اس حوالہ سے اپوزیشن کا یہ الزام نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ تحفظ پاکستان بل اور بجلی چوری کے خلاف آرڈیننس کی مدت میں توسیع کی قرارداد کی منظوری اپوزیشن کی غیر موجودگی میں دی گئی جب کہ اپوزیشن جماعتوں سمیت حکومت کی اتحادی جماعت جے یوآئی (ف) نے بھی تحفظ پاکستان بل کی کھل کر نہ صرف مخالفت کی بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ واک آئوٹ میں بھی حصہ لیا۔ وفاقی وزیر زاہد حامد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحفظ پاکستان ترمیمی بل 2014ء ایوان میں اس طرح پیش کیا گیا کہ بل میں تحفظ پاکستان بل 2013 کی شقیں بھی شامل کی گئیں، اسپیکر نے ایوان سے بل کی شق وار منظوری لینے کا عمل شروع کیا تو اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ جن امور پر قانون سازی کی جارہی ہے وہ ملک کو درپیش اہم ترین مسائل کی فہرست میں نمایاں ہیں ۔ ایک طرف وطن عزیز کو جنگل کے قانون کا طعنہ ملتا ہے، لاقانونیت ، شورش ،مزاحمت اور انارکی کا یہ عالم ہے کہ بلوچستان میں بد امنی شعلہ جوالابنی ہوئی ہے جس کے تدارک کے لیے پیر کو بلوچستان کے ضلع قلات کے پہاڑی سلسلے میں سیکیورٹی فورسز کے ٹارگٹڈ آپریشن میں 40شر پسند ہلاک جب کہ 10ایف سی اہلکارزخمی ہوگئے، ادھر دہشت گردی کے خطرات کے پیش فول پروف سیکیورٹی کے لیے ماڈل ٹاون لاہور میں واقع مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ کے اردگرد دیوار کی تعمیر شروع کردی گئی ہے ، خفیہ اداروں نے مرکزی سیکریٹریٹ پر دہشت گردوں کے حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ قومی سلامتی اور تحفظ پاکستان ترمیمی بل اور بجلی کی چوری روکنے کے لیے فوجداری قانون کے ترمیمی آرڈیننس کی منظوری پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سمیت دیگر رہنمائوں کی معروضات ارباب اختیار اور اسپیکر قومی اسمبلی کے پیش نظر رہنی چاہئیں۔

اراکین کا کہنا ہے کہ بل انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،گفت وشنید کے بعد اسے منظور کرنا چاہیے ، اس بل کے تحت سیکیورٹی حکام کسی کے گھر میں گھس کر اسے بغیر کسی وجہ 90 دن حراست میں رکھ سکتے ہیں ، اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جائے ، تحفظ پاکستان بل کالا قانون ہے ، بل پاس ہوگیا تو ملک پولیس اسٹیٹ بن جائیگا ، جب کہ اپوزیشن کی غیرموجودگی میں بل کی کثرت رائے سے شق وار منظوری دی گئی اور اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں ۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ حکومت نے بہت سوچ سمجھ کر تحفظ پاکستان ترمیمی بل پاس کیا ہے ، یہ بل دہشتگردی کے خاتمے کیطرف ایک قدم ہے، اگر اپوزیشن کو اعتراض ہے تو یہ اپنی بات پارلیمنٹ میں کریں،اس بل پر تین ماہ تک پارلیمنٹ میں بحث ہوتی رہی، اپوزیشن رہنمائوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ یہ حساس معاملہ ہے اس پر بحث کر لی جائے لیکن حکومت نے کسی کی نہیں سنی ۔یہ استدلال بھی مناسب ہے کہ گورننس کا مطلب ہے سب کو ساتھ لے کر چلا جائے اور دوسروں کے مینڈیٹ کا بھی خیال رکھنا چاہیے ،سیکشن ٹو سیکشن بات کرنے کے لیے سب تیار ہیں لیکن حکومت ٹائم نہیں دینا چاہتی۔

ان اعتراضات کو رد کرنے کا کوئی جواز نہیں بلکہ ان پر اتفاق رائے کے لیے پارلیمنٹ سے بہتر جگہ کوئی نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جمہوریت تو مشاورت ، صحت مند مباحثے سے عبارت ہے، جتنی جامع تقاریر ایوان میں اس بل کے حق یا مخالفت میں ہوسکتی تھیں وہ جمہوری عمل کے استحکام اور جمہوری روایات اور پارلیمانی آداب کے عین مطابق ہوتیں، اس قدر عجلت میں بل کی منظوری سے اپوزیشن کی قومی مفاداور انفرادی و شہری آزادیوں کے حق میں آرا کو بل ڈوز کرنے کا جو منفی تاثر ابھرا ہے وہ نیک شگون نہیں ۔پارلیمانی تاریخ میں تو برطانوی مدبر ایڈمنڈ برک کے طویل ترین اور پر مغز خطابات کے حوالے ملتے ہیں،کیا ہمارے اراکین مجلس اس قسم کی فکر انگیز اور تاریخ ساز تقاریر کرنے اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مفید آرا دینے کے اہل نہیں ، ایسا ہر گز نہیں ہے۔

اپوزیشن کے پاس بھی ایک مینڈیٹ ہے اور جمہوری نظام میں حزب مخالف حکومت کے خون کی پیاسی نہیں ہوتی اس کی تنقید اور مخالفت کو بھی حکمراں پارٹی جمہوری رویوں کے فروغ اور آزادی اظہار کی ضمانت سمجھے ، اسی دو طرفہ خیر سگالی اور روادارانہ بحث و تمحیض سے قومی مفادات کے تعین اور جمہوری مقاصد پر اتفاق رائے کی راہیں نکلتی ہیں ۔ اس حقیقت پر کسی لیکچر کی ضرورت نہیں کہ پارلیمنٹ کے معاملات ایوان کے اندر زیر بحث لائے جائیں، میڈیا تک بل کی کاپیاں لہرا کر جانے اور دستاویزات کو پھاڑ کر پھینکنے سے جمہوریت مستحکم نہیں ہوسکتی ۔ ملک کو معاشی استحکام کی ضرورت ہے ۔ عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے نفسیاتی مریض بنادیا ہے۔

دہشتگردی عذاب انگیز ہے۔ ایسی صورتحال میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹراسحق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان امن کوایک موقع دینا چاہتا ہے۔ وزیراعظم کی کوششوں سے انشااللہ ملک میں جلد امن قائم ہوجائے گا جب کہ معروف معیشت دان جم اونیل نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان2050 تک دنیا کی 18ویں بڑی معیشت بن جائے گا۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ خوب شرمندہ تعبیر ہوگا ۔ منتخب اراکین پارلیمنٹ اپنی قومی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی پوری کوشش کریں گے اورقانون سازی کے عمل میں جمہوری اسپرٹ اور اسپورٹس مین شپ کی ایسی روایات قائم کریں گے جس سے دنیا میں پاکستان ، اس کے عوام اور پارلیمنٹ کے وقار کا پرچم بلند ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔