سارک لیبر کانفرنس خطے کے مزدوروں کے لیے روشنی کی کرن

عظیم نذیر  جمعرات 10 اپريل 2014
 گھریلو صنعتوں کے لیے نئی منڈیاں ملیں گی، قوانین کا جائزہ لیا جائے گا، انتظامی کمیٹی کے ارکان اور ماہرین کا ایکسپریس فورم میں اظہارِ خیال ۔ فوٹو : وسیم نیاز/ ایکسپریس

گھریلو صنعتوں کے لیے نئی منڈیاں ملیں گی، قوانین کا جائزہ لیا جائے گا، انتظامی کمیٹی کے ارکان اور ماہرین کا ایکسپریس فورم میں اظہارِ خیال ۔ فوٹو : وسیم نیاز/ ایکسپریس

پہلی سارک لیبر کانفرنس 24 سے 26 اپریل تک لاہور میں ہوگی۔ اس کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ، لیبر سیکرٹری اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسر شرکت کریں گے۔

کانفرنس کے آخری دن 26 اپریل کو وزیراعظم لیبر کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کریں گے۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد سارک ممالک میں لیبر قوانین کا جائزہ لینا اور گھریلو صنعتوں کیلئے نئی منڈیاں تلاش کرنا بھی ہے۔

سارک لیبر کانفرنس کے انتظامات اور اغراض و مقاصد جاننے کیلئے روزنامہ ایکسپریس نے ایک خصوصی فورم کا اہتمام کیا جس میں ایم پی اے وحید گل، ایم پی اے سائرہ افتخار، ایم پی اے حنا بٹ، وائس کمشنر پنجاب سوشل سکیورٹی شاہد عادل، ڈی جی پنجاب سوشل سکیورٹی طارق اعوان، ڈی جی لیبر ویلفیئر حسنات جاوید، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ خالد محمود اور ڈائریکٹر لیبر ڈیپارٹمنٹ عمر جاوید گل شریک ہوئے۔ فورم کے شرکاء نے جن خیالات کا اظہار کیا اس کی تفصیل ذیل میں بیان کی جارہی ہے۔

سید حسنات جاوید
(ڈائریکٹر جنرل لیبر ویلفیئر)
اس کانفرنس میں لیبر سے متعلقہ تمام ایریاز کو زیر بحث لائیں گے اس میں قومی ماہرین اور بین الاقوامی ماہرین جن کا تعلق انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن سے تعلق ہے وہ حصہ لیں گے۔ سات ایریا زیر بحث ہوں گے ان میں ایک ایریا خواتین، چائلڈ لیبر اور جبری مشقت بھی ہے جہاں تک پاکستان کے حالات کا تعلق ہے تو خواتین کے متعلق حکومت نے Women empoverment Packege پر کام شروع کردیا ہے۔ ہمارے لیبر لاز میں عمر، جنس اور مذہب کے حوالے سے کوئی تفریق نہیں ہے۔ چائلڈ لیبر کے حوالے سے تمام قوانین واضح ہیں۔ 14 سال سے کم عمر بچوں سے کام لینا بالکل ممنوع ہے۔اس طرح جبری مشقت بھی ممنوع ہے۔ پنجاب حکومت نے مزدوروں کی بہتری کیلئے پانچ سو ملین کے پراجیکٹس شروع کررکھے ہیں۔

ورکرز کی تنخواہوں کے متعلق ہمارے قوانین موجود ہیں۔ جو قانون میں طے شدہ طریقے سے تنخواہ نہ دے تو یہ جرم ہے۔ اس حوالے سے کروڑوں کی ڈگریاں ہوچکی ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد لیبر لاز کے متعلق قانون سازی کا کام صوبوں کے پاس آگیا۔ اس حوالے سے تمام قوانین صوبائی بن چکے ہیں۔ یہ قوانین صوبوں نے اپنائے ہی نہیں بلکہ اس میں تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں اور انہیں بدلتے حالات کے مطابق بنایا گیا ہے۔ حادثے کی صورت میں معاوضہ اور گروپ انشورنس کو بھی دوگنا کردیا گیا ہے۔ خواتین کے متعلق چھ سات قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔ ایجوکیشن سیکٹر صوبے کے پاس آگیا۔ ای او بی آئی فنڈ ابھی تک وفاق نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے لیکن اس میں بہت پیچیدگیاں ہیں ابھی ساری چیزیں طے ہورہی ہیں کہ فنڈز صوبے جمع کریں یا وفاق ہی جمع کرے اور بعد میں وہ صوبوں میں تقسیم ہوجائے۔

شاہد عادل
(وائس کمشنر پنجاب سوشل سکیورٹی)
اگر ہم ورلڈ اکنامومی کی طرف دیکھیں تو ساری اکنامومی آپس میں جڑی ہوئی نظر آئیگی اور اس کا ایک دوسرے پر انحصار ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں سے گلوبلائزیشن کی ایک ویو چلی ہے اس کی وجہ سے اکنامومی کو بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کیلئے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے اور چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے اپنے آپ کو تیار کرنے کیلئے جو لیبر مارکیٹیں ہیں ان کی پالیسیاں اور ان کو ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک جو ہیں ان کی لیبر مارکیٹ کو انٹرنیشنل لیبر سٹینڈرڈ کے مطابق بنانا ضروری ہے پاکستان کو جی ایس ٹی پلس سٹیٹس ملنے کے بعد یہ چیلنج اور بھی بڑھ گیا کہ ہم اپنی انڈسٹری کو کس طرح انٹرنیشنل لیبر سٹینڈرڈ کے مطابق بنائیں ۔اس لیے حکومت نے سوچا کہ ایک ایسی کانفرنس بلائی جائے جس میں سارک مالک شامل ہوں اور اس کے ساتھ ہم ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کو بھی کانفرنس میں بلائیں۔ اس میں یورپی یونین ہے، ترکی ہے، چائنہ ہے تاکہ ہم ان ممالک کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھائیں اور خطے کے جو اپنے ممالک ہیں وہ اپنے اپنے ممالک زیر بحث لائیں۔

یہ کانفرنس 24 اپریل سے 26 اپریل تک لاہور میں ہوگی۔ جس میں ٹیکنیکل ماہر حصہ لیں گے۔ اس کانفرنس میں ہونے والی بحث کے بعد حکومت کی کوشش ہوگی کہ کچھ ایسے فورم بنائے جائیں جس میں خطے کے لوگ مزدوروں کیلئے کوئی یکساں پالیسی مرتب کریں اور اس پر عمل کرسکیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور یورپی یونین وہ ہمیں اس کانفرنس میں سپورٹ کررہے ہیں اور اس میں جتنی ٹیکنیکل سپورٹ ہے وہ آئی ایل او مہیا کررہی ہے۔ مزدوروں کیلئے کبھی کام نہیں کیا گیا یہ ابھی شروعات ہے۔

لیبر کانفرنس میں ہم یہ چیزیں سامنے لائیں گے۔ صرف دیہاڑی دار ہی نہیں بلکہ گاؤں کی لیبر کا سماجی تحفظ، سوشل سکیورٹی میں یہ ایشو ہے کہ یہ کسی کنٹری بیوشن کی وجہ سے ملتی ہے جو بندہ سوشل سکیورٹی کی سہولیات لیتا ہے اس کا مالک سوشل سکیورٹی کے ادارے کو پیسے دیتا ہے۔ دیہاڑی دار مزدور گاؤں سے شہر میں مزدوری کرنے آجاتا ہے لیکن اسے نہیں پتا کہ شہر میں مزدوروں کی کتنی ڈیمانڈ ہے۔ اگر ڈیمانڈ کم ہوگی تو اسے مزدوری ملنا مشکل ہوجائے گا۔

ہم ایسی پالیسی لارہے ہیں جس میں ورکر کو پتا چلے کہ جو مارکیٹ میں ڈیمانڈ ہے اس کے مطابق اپنی ماہرانہ صلاحیت بڑھائیں اور اس کو سڑکوں پر کھڑا نہ ہونا پڑے۔ جب وہ اپنی ماہرانہ صلاحیت بڑھائیں گے تو انہیں فیکٹریوں میں کام ملے گا۔ سارک لیبر کانفرنس میں جب سارے ملکوں کے نمائندے مل بیٹھیں گے اپنے تجربات بتائیں گے تو ایک مربوط پالیسی بنے گی اور آگے چلے گی۔

سائرہ افتخار
(رکن پنجاب اسمبلی)
سارک ممالک میں جو مسائل یکساں ہیں وہ ایک طویل عرصے سے چلے آرہے ہیں لیکن ان مسائل کو اجاگر کرنے میں موجودہ حکومت اور موجودہ لیبر منسٹر راجہ اشفاق سرور کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ نواز شریف جب 85 میں وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو انہوں نے ایک لیبر پالیسی دی تھی جو آج تک لاگو ہے۔گو سارک لیبر کانفرنس کا میزبان پنجاب ہے لیکن راجہ اشفاق سرور جب یہ کانفرنس بلانے کا پلان بنارہے تھے انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں صرف پنجاب کی ہی نہیں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی بھی بات ہوگی۔ اس کانفرنس میں ملک کے تمام صوبے حصہ لیں گے۔ اس کانفرنس سے پہلے چاروں صوبوں میں سیمینار کرائے گئے۔

یہ کانفرنس آئی ایل او کی چھتر چھایہ تلے ہوگا۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ خطے میں بجائے اس کے ہم ایک دوسرے سے مقابلہ کریں ہم ایک دوسرے کا آسرا کیوں نہ بنیں۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیومن ریسورس یہی خطہ مہیا کررہا ہے۔ خطے کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہورہا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی ہیومن ریسورس کے حوالے سے ایسی مربوط پالیسی وضع کرنے جارہے ہیں جس سے ہماری لیبر کو جب وہ باہر جاتی ہے تو اس کے حقوق کا مکمل طور پر تحفظ کیا جاسکے۔ یہ سارک کانفرنس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ جس سری لنکا کی ٹیم پر حملہ ہوا تھا اسی سری لنکا کے تین سینئر وزیر اس کانفرنس میں آرہے ہیں۔پاکستان میں اگر آپ لیبر کیلئے بنا نواز شریف ہسپتال دیکھیں وہاں ہر قسم کی سہولیات موجود ہیں۔ لیبر کیلئے شاندار سکول ہیں۔ لیبر کے بچے میڈیکل کالجوں اور انجینئرنگ یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔ سارک لیبر کانفرنس کے متعلق انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب 24 اپریل کو کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔

19 اپریل سے اس کانفرنس کے حوالے سے میڈیا پر آگاہی مہم شروع کردی جائے گی۔ راجہ اشفاق سرور کانفرنس کے چیئرمین ہیں۔ سارک کے ممالک کی ویلیوز تقریباً ایک جیسی ہیں۔ ہر ملک میں حالات کے مطابق لیبر قوانین مختلف ہوسکتے ہیں لیکن ان قوانین کی بنیاد مشترکہ ہونی چاہیے۔ اس بات پر بھی فوکس کیا جائے گا۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی بجائے ایسے اصول وضع کیے جائیں گے کہ بیرون ملک جانیوالی تمام ملکوں کی افرادی قوت کے معاوضوں میں یکسانیت ہو۔ کانفرنس میں بحث کرنے کیلئے سات ایریاز مخصوص کیے گئے ہیں۔ جیسے صحت ہے، لیبر کی مائیگریشن ہے، کام کرنے کی جگہ کا ماحول ہے، لیبر کے قوانین ہیں، سماجی تحفظ ہے، تمام شعبوں پر بحث کے بعد آخری دن تمام ملکوں کے نمائندے اپنی اپنی تجاویز پیش کریں گے۔

آئی ایل او ان ساری تجاویز کو اکٹھا کرے گا۔ 26 اپریل کو ہی وزیراعظم نواز شریف ایک قرارداد پیش کریں گے۔ اس قرارداد میں پورے خطے کیلئے ایک ویژن سیٹ کریں گے۔ اب لیبر کانفرنسوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ یہی کانفرنس اگلے سال کھٹمنڈو میں ہورہی ہو گی یا دہلی میں ہورہی ہوگی۔ یہ کانفرنس کوئی صرف پنجاب کی کانفرنس نہیں ہے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، چاروں صوبوں کے لیبر سیکرٹری، لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پالیسی میکرز بھی اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ اس کانفرنس میں آپ کو قومی یک جہتی کی فضا نظر آئے گی۔ یہاں یہ بات ضروری ہے کہ وفاق اس حوالے سے مکمل تعاون کررہا ہے کیونکہ اس کے تعاون کے بغیر کچھ کرنا ممکن نہیں ہے۔

محمدجاوید گِل
(ڈائریکٹر لیبر ڈیپارٹمنٹ)
چائلڈ لیبر کی بہت سی وجوہات ہیں جیسے تعلیم پوری نہیں ہورہی، غربت ہے، استادوں کا رویہ ہے، سکول کی موجودگی نہ ہونا ہے یا لیبر والدین کی ترجیحات ہیں آپ اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بچوں کی بحالی کیلئے کسی سکول میں بھیجتے ہیں ایسے پراجیکٹ مخصوص مدت کیلئے ہوتے ہیں۔ اگر پراجیکٹ کامیاب ہو تو پھر اسے مستقل پروگرام کی شکل بھی دی جاسکتی ہے۔ جب بھی کوئی پراجیکٹ شروع ہوتا ہے تو اس کے مخصوص ایریاز ہوتے ہیں۔ اس کیلئے کوئی رقم مختص کی جاتی ہے اور اس کے ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ چائلڈ لیبر کی ایک وجہ بڑی آبادی بھی ہے۔ جب بچے مارکیٹ میں آتے ہیں تو کام پر جاتے ہیں اس پر یکدم مکمل طور پر کنٹرول کرنا مشکل ہے۔ چائلڈ لیبر پر آہستہ کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ آپ کی آبادی کنٹرول ہو، ایجوکیشن بڑھے، ادارے بچوں کی مدد کریں اور والدین کا رویہ درست ہو۔ جہاں تک سارک لیبر کانفرنس کا تعلق ہے۔

18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں پر یہ ذمہ داری آئی کہ وہ لیبر کے حوالے سے قانون سازی کریں تو یہ محسوس کیا گیا کہ یہ صوبوں نے تو کرنا ہی ہے لیکن بہت سارے ایسے مسائل ہیں جو پورے علاقے میں ایک جیسے ہیں، علاقے میں ہمارے رسم و رواج ایک جیسے ہیں، ہمارے قوانین کا ماخذ ایک ہی ہے۔ مختلف شعبوں میں ہماری مہارت ایک جیسی ہے ہماری مارکیٹ بھی یکساں ہے اس لیے اس کانفرنس میں بحث کرنے کیلئے لیبر لاز رکھے، چائلڈ لیبر، جبری مشقت اور خواتین کو رکھا۔ ہجرت ایک ایسا شعبہ ہے جس سے ملک کو بہت پیسہ ملتا ہے۔ ہیلتھ اینڈ سیفٹی کو رکھا اور سماجی تحفظ جیسے معاملات رکھے ہیں۔ ان پر ٹیکنیکل سیشن ہوں گے اس پر بین الاقوامی ماہرین بات کریں گے۔ پورے خطے میں ان میدانوں میں جو کام ہورہا ہے ہمارے ماہرین اس سے بہت کچھ سیکھیں گے۔

حنا بٹ
(ایم پی اے)
جہاں تک ہوم بیسڈ ورکرز کی بات ہے پہلی بار سارک لیبر کانفرنس میں 25 اپریل کو گورنر ہاؤس میں ایک ڈنر کا اہتمام کیا گیا ہے جہاں خواتین کی تیار کی گئی اشیاء کے سٹال لگے ہوں گے۔ ان خواتین کی تیار کردہ اشیاء کو سارک ممالک کی مارکیٹ میں متعارف کرایا جائے گا۔ قریباً 40 سٹالز پر ہوم انڈسٹری کی اشیاء رکھی جائیں گے۔ ہومبیسڈ ورکرز کے متعلق پالیسی بن چکی ہے اور بہت جلد یہ بل اسمبلی میں پیش ہوجائے گا۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے تدارک کیلئے بھی قانون بنے گا۔ یہ بھی تجویز کیا جارہا ہے کہ خواتین گھریلو ملازمین کے تحفظ کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ ان کی کم از کم تنخواہ مقرر کی جائے اور کم از کم عمر کا بھی تعین کیا جائے۔ اس بات پر بھی کام کیا جارہا ہے کہ ایمپلائنٹ ایجنسی کے ذریعے رجسٹرڈ ہونے والے ہی کام کرسکیں۔

یکم مئی کو نئی لیبر پالیسی کا اعلان ہوگا۔ سارک کانفرنس کے ذریعے ہماری مارکیٹ کھلے گی۔ گھریلو صنعت کیلئے سارک ممالک کی مارکیٹ میں ہم جگہ بنائیں گے۔ ایکسپو سنٹر میں لگنے والی نمائش سے یہ بات بھی واضع ہوجائے گی کہ ہم کون سی اشیا برآمد کرسکتے ہیں۔

گھریلو صنعتوں سے وابستہ خواتین کو یہ موقع ملے گا کہ وہ بڑے پیمانے پر اشیاء تیار کرسکیں۔ یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ یہ کانفرنس گھریلو صنعتوں کیلئے ایک پل کا کردار ادا کرے گی اور خواتین اپنا تیار کردہ مال اپنی قیمت پر بیچ سکیں گی۔ کیونکہ ایکسپورٹر ان سے مال اپنی قیمت پر خرید کر برآمد کرتا ہے اور جب یہ خواتین سارک ممالک کی مارکیٹ کے ساتھ براہ راست کاروبار کریں گی تو انہیں پتا چل جائے گا کہ انہیں ان کی پراڈکٹ کی قیمت کہاں زیادہ مل سکتی ہے۔

طارق اعوان
(ڈائریکٹر جنرل سوشل سکیورٹی پنجاب)
ہم ان ورکرز کو بینیفٹ دیتے ہیں جو ایسے ادارے میں کام کررہے ہوں جہاں پانچ یا اس سے زیادہ ورکرز کام کررہے ہوں۔ پاکستان میں سردست مزدوروں کیلئے جو قوانین ہیں وہ انڈسٹریل اور کمرشل سیکٹر میں لاگو ہوتے ہیں۔ کھیت مزدور، عام مزدور اور گھریلو ملازمین اس زمرے میں نہیں آتے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد پنجاب میں گھریلو ملازمین کیلئے پالیسی مرتب کی گئی ہے اس کی ابھی کابینہ سے منظوری باقی ہے۔ کھیت مزدوروں کیلئے بھی پالیسی بنائی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے حال ہی میں ایک سمری منظور کی ہے جس میں ڈومیسٹک ورکر پالیسی کی بات کی گئی ہے۔

جہاں تک کام کرتے ہوئے مزدوروں کیلئے حفاظتی اقدامات کا تعلق ہے تو اس کیلئے بڑے جامع قوانین موجود ہیں۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو یقینا کہیں نہ کہیں قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ حکومت پر تو نہیں ڈالا جاسکتا۔ ان اداروں کا خود بھی کچھ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ہاں کام کرنے والے مزدوروں کی سیفٹی کا خیال رکھیں۔ اس حوالے سے مزید قوانین بنائے جارہے ہیں۔ عمارتیں بناتے ہوئے بلڈنگ قوانین پر عمل نہیں ہورہا۔ الیکٹریسٹی کوڈز پر عمل نہیں کیا جارہا۔

وحید گل
(ایم پی اے)
سارک لیبر کانفرنس ہمارے ملک کے امیج کا معاملہ ہے۔ ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ ہم دنیا کے سامنے یہ بات رکھیں کہ ہمارا ملک بھی امن پسند ہے اور ہم اپنے لیبر کو کیا کیا سہولتیں دے رہے ہیں۔ ہمیں اس کانفرنس کو کامیاب بنانے پر پوری توجہ دینی ہے۔ ہمیں اس کانفرنس میں ملک میں ہونے والے والے اچھے کام سامنے لانے ہیں نہ کہ کسی پر تنقید کرنی ہے۔

اگر ہم مثبت پہلو اجاگر کریں گے تو دنیا میں ہمارا امیج بہتر ہوگا۔ وزیراعلیٰ کا یہ ویژن ہے کہ ان لوگوںکو سہولیات دی جائیں جو ابھی تک ان سے محروم ہیں۔ جہاںتک رہائشی سہولتیں دینے کا تعلق ہے اس پر بھی بہت کام ہورہا ہے۔ کانفرنس کے دوران ایکسپو سنٹر میں نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس نمائش سے دیگر ملکوں کو جاننے میں مدد ملے گی کہ ہمارے ملک کی لیبر کیا کیا کام سرانجام دے سکتی ہے۔

خالد محمود
(سیکرٹری ویلفیئر بورڈ)
پنجاب حکومت اس وقت 27 لیبر کالونیاں بناچکی ہے جس میں 30 ہزار سے زیادہ مزدوروں کو یا تو پلاٹ دیئے گئے ہیں یا گھر دیئے گئے ہیں یا فلیٹ دیئے گئے ہیں۔ یہ تقسیم انتہائی شفاف طریقے سے کی گئی ہے۔

مزدوروں کو رجسٹرڈ کیا گیا، انہیں شارٹ لسٹ کیا گیا پھر قرعہ اندازی کی گئی۔ سات مزید لیبر کالونیاں اس وقت تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں کہ مزدوروں کے بچے حکومت کے اخراجات پر اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔