ماں باپ کی تلاش۔۔۔

آصف فراز  جمعرات 10 اپريل 2014
ہاشم اور ننھے احس کی طرح چائلڈپروٹیکشن بیورومیں مقیم ہر بچے کی کہانی ایسی ہے جسے سن کر رونا آجاتا ہے۔ فوٹو: فائل

ہاشم اور ننھے احس کی طرح چائلڈپروٹیکشن بیورومیں مقیم ہر بچے کی کہانی ایسی ہے جسے سن کر رونا آجاتا ہے۔ فوٹو: فائل

اس کانام ہاشم علی ہے،عمرگیارہ ،بارہ سال ہوگی اور تعلق کراچی کے علاقہ لیاری سے ہے ۔پانچ سال پہلے ہاشم کی آنکھوں کے سامنے اس کی ماں کو چھریاں مارکرزخمی کردیا گیا تھا ۔چھریاں مارنے والا کوئی اور نہیں اس کا اپنا باپ اوربڑابھائی تھا۔ ہاشم ماں کو بچانے کے لئے بہت رویا ،باپ اوربھائی کے سامنے ہاتھ جوڑے ،چیخاچلایا اورپھران دونوں کو رحم آ ہی گیا وہ ہاشم کی ماں کو نیم مردہ حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔

ہاشم  فوٹو: آصف فراز 

ہاشم تک خون سے لت پت ماں سے لپٹ کرروتارہا،ہمسایوں نے اس کی زخمی ماں کو اسپتال پہنچایا۔ وہ ہرروزماں کی صحت یابی کی دعاکرتا۔دوسری جانب اس کی ماں کی درخواست پراس کے بھائی اورباپ کو گرفتارکرلیا گیا ،دونوں نے اپنے جرم کااعتراف کرلیااوراس وقت جیل میں چکی پیس رہے ہیں۔ ہاشم کی ماں بھی چندہفتوں بعد صحت یاب ہوکراسپتال سے گھرپہنچ گئی مگراس کا رویہ بدلا ہواتھا،ہاشم کو ایسے لگتا جیسے اس کی ماں اس سے دورہوتی جارہی ہے اورپھرایک دن اس کاخدشہ درست ثابت ہوا،اس کی ماں اسے رات کو سوتاچھوڑکرچلی گئی ۔بعد میں پتہ چلااس نے دوسر ی شادی کرلی ہے۔ ہاشم کی توجیسے دنیا ہی اجڑگئی ۔باپ اوربھائی جیل چلے گئے اور ماں چھوڑکرچلی گئی۔

ہاشم کئی روز لیاری کی گلیوں میں آوارہ گھومتارہا ۔رات کسی تھڑے پرسوکرگزارلیتا۔پھرایک دن اس کا دل روشنیوں کے اس شہرسے بھرگیا ۔اس نے کراچی کو خیربادکہنے کا فیصلہ کرلیامگرجاتا توجاتا کہا جیب میں توایک کھوٹاسکہ بھی نہیں تھا۔دودن تک بھوکا پیاساکراچی ریلوے اسٹیشن پر پڑا رہا اورپھرایک دن ہمت کرکے کراچی سے لاہورآنیوالی ٹرین میں بیٹھ گیا۔چندلمحوں بعدہی ہاشم نیندکی آغوش میں چلاگیااورجب اس کی آنکھ کھلی توکراچی بہت پیچھے رہ گیا تھا۔

بالاآخرہاشم لاہور آگیا ریلوے اسٹیشن سے داتادربارپہنچا،یہاں جی بھرکرکھانا کھایا اورپھردربارکے صحن میں ہی سوگیا۔اس کی آنکھ اس وقت کھلی جب ایک کرخت آوازکے ساتھ اسے بری طرح جھنجوڑا گیا۔ہاشم اچانک اٹھ کربیٹھ گیا،کالی وری میں ملبوس ایک سیکیورٹی گارڈاسے جھنجوڑکرپوچھ رہا تھا ،لڑکے کون ہوتم ؟یہاں کیوں سو رہے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم یہاں سونا منع ہے ؟ہاشم کھڑاہوگیا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اب کہاں جائے۔اس دوران قریب سے گزرنے والے ایک بزرگ نے شفقت بھرے اندازمیں اس کے سرپرہاتھ رکھااورپوچھا اوربیٹاکون ہوتم ،کہاں سے آئے ہو۔ہاشم نے روتے ہوئے مختصر لفظوں میں اپنی داستان زیست اس بزرگ کو سنادی۔ بزرگ نے ہاشم کو حوصلہ دیا ،چندروپے بھی دیئے اور پھر سے چائلڈپروٹیکشن بیورولاہورپہنچادیا ۔

ہاشم سے میری ملاقات چائلڈ پروٹیکشن بیورومیں ہوئی تھی ،جہاں اس نے روتے ہوئے اپنی داستان سنائی ۔ ہاشم اورسندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے دیگر16 بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈویلفیئربیورونے سندھ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے،تاکہ ان بچوں کے والدین کو تلاش کرکے انہیں ان تک پہنچایا جاسکے۔میں نے ہاشم سے پوچھا کہ وہ کراچی میں کس کے پاس جائے گاتوبولاوہاں اس کے چاچولوگ رہتے ہیں وہ ان کے پاس رہیگا۔اس نے بتایا اس کی ماں بہت بری ہے جو اسے روتاچھوڑگئی اسے اب بھی ماں کی یادآتی ہے مگروہ کبھی بھی اس کے پاس نہیں جائیگا۔اسے اپنے باپ اوربھائی سے بھی ڈرلگتا ہے کہیں وہ اسے مار نہ دیں۔

ہاشم کی کہانی سن کر میں خاموشی سے پلٹ گیا۔ چائلڈپروٹیکشن بیورومیں مقیم بچوں میں ہرایک کی اپنی کہانی ہے جسے سن کررونا آجاتا ہے۔ یہاں کئی بچے ایسے ہیں جو گھروں سے بھاگ کریہاں تک پہنچے بلکہ بعض تو ایسے بھی ہیں جن کے ماں باپ غربت کے ہاتھوں مجبورہوکرخود انہیں یہاں چھوڑگئے۔ مجھے سب سے زیادہ افسوس تین چار سال کے ایک چھوٹے سے بچے احسن پر ہواجسے اس کا باپ خودیہاں چھوڑگیا کیونکہ اس نے تیسری شادی کرنی تھی اورماں اس بدنصیب کو اس لئے بھول گئی کیونکہ اس نے بھی دوسری شادی کرلی ہے، میرا دل خون کے آنسو اس وقت رویا جب مجھے پتا چلا کہ یہاںکئی نومولود بچے ایسے بھی ہیں جن کا ماں باپ کا کچھ پتہ نہیں ہے ،انہیں چنددن یا پھرچند ماہ کی عمرمیں یہاں لایا گیا تھا ،ان بچوں کو نام بھی اسی چائلڈ پروٹیکشن بیوروسے ملے ہیں۔


احسن۔  فوٹو: آصف فراز

چائلڈپروٹیکشن اینڈویلفیئربیوروکی چیئرپرسن صباصادق بھی ان بچوں کے حوالے سے کافی پریشان ہیں، وہ ان بچوں سے پیارکرتی ،ان کے ساتھ کھیلتی انہیں کھلونے اورٹافیاں لاکردیتی ہیں لیکن وہ ان بچوں کو ان کے حقیقی ماں باپ کے پاس بھیجنا چاہتی ہیں ،اس ادارے میں بے شک بچوں کو تعلیم ،صحت اورکھانے پینے کی تمام سہولتیں میسرہیں مگریہ سب ماں کی گودکا متبادل تونہیں ہوسکتاہے ۔

اس مقصد کے لئے سندھ سے تعلق رکھنے والے 16بچوں کو چائلڈویلفیئر یونٹ سندھ کے حوالے کیا جارہا ہے ۔یہ ادارہ ان بچوں کے والدین اوررشتہ داروں کو تلاش کریگااورپھرانہیں انکے گھروں تک پہنچادیا جائیگا اوراگربدقسمتی سے کسی بچے کے والدین نہ مل سکے یاانہوں نے غربت اورمجبوری کی وجہ سے اپنے لخت جگرکو لینے سے انکارکردیا توپھرچائلڈپروٹیکشن بیوروہی ہمیشہ کے لئے ان بچوں کا مسکن بنارہیگا۔

میں چائلڈپروٹیکشن بیورو کو سلام پیش کرتا ہوں جو حالات کے ستائے ہوئے بچوں کو سہارا دے کر انہیں معاشرے کی برائیوں سے بچاتے ہیں ۔ ذرا سوچئے اگر یہی بچے کسی خطرناک گروہ کے ہاتھ لگ جاتے تو ان کا بچپن بھی چھن جاتا اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی وہ شرپسند اور سفاک عناصر کی فہرست میں شامل ہوجاتے ۔ ہم اگر ایسے بچوں کی کوئی مدد نہیں کرسکتے تو کم از کم انہیں چائلڈپروٹیکشن بیورو جیسا گھر تو فراہم کرسکتے ہیںجہاں پورے نہ سہی لیکن انہیں خوشیوں کے چند لمحات تو میسر آسکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 300 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔