ہر بجلی چور کا کنکشن کاٹ دیں گے، عابد شیر علی

مانیٹرنگ ڈیسک  جمعـء 11 اپريل 2014
پورے ملک کے90 ہزار بجلی چوروں میں87ہزار پنجاب میں ہیں، مراد سعید، کل تک میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

پورے ملک کے90 ہزار بجلی چوروں میں87ہزار پنجاب میں ہیں، مراد سعید، کل تک میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

لاہور: وزیر مملکت برائے پانی و بجلی چودھری عابد شیر علی نے کہا ہے کہ جو بھی بجلی چوری کریگا اس کی بجلی کاٹ دیں گے، چاہے وہ کسی بھی صوبے کا ہو۔ کسی بھی محکمے کا ہو۔

میری کسی سے لڑائی یا جنگ نہیں ہے۔ میں صرف توانائی بحران دور کرنا چاہتا ہوں۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چودھری سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ میں نے بجلی چوری کے خلاف آپریشن کے دوران تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی طرف سے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ویڈیو بنالی ہے۔ وہ میں عمران خان کو بھیجوں گا اور ان سے درخواست کروں گا کہ اپنے ارکان اسمبلی سے کہیں کہ وہ بجلی چوروں کو سپورٹ کرنا چھوڑ دیں ۔ جب ہم خیبرپختونخوا میں کنڈے اتارنے جاتے ہیں تو وہاں پر انتہائی غلط زبان استعمال کی جاتی ہے۔ بجلی چور جس بھی صوبے میں ہوں ہم نے کارروائی کی ہے۔ پورے پنجاب میں 15 فی صد لائن لاسزہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں 98 فی صد لائن لاسز ہیں۔ وہاں11فیڈر فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔ ہم نے اعلان کردیا ہے جو بجلی چوری کریگا تو ہم پیچھے سے فیڈر بند کردیں گے۔ میں نے خود بجلی چوروں کیخلاف ایف آئی آردرج کرائی ہیں۔

مارچ میں ہم نے خیبرپختونخوا سے ایک ارب33 کروڑ کی بجلی چوری روکی ہے۔ پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے کہا کہ سوات میں 100فی صد لوگ ادائیگی کررہے ہیں ۔ میرے حلقے میں بجلی چوری بھی نہیں ہوتی لیکن پھر بھی 16، 16گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ پورے پاکستان میں90 ہزار بجلی چور ہیں جن میں سے 87ہزار 183 پنجاب میں ہیں لیکن یہ پنجاب کے بجلی چوروں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے اور خیبر پختونخوا کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہم نے اپنے صوبے میں53 فیصد بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کی لیکن پنجاب میں صرف 4فیصد بجلی چوروں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ ہمارا یہ موقف ہے کہ چور چور ہے چاہے وہ جہاں بھی ہے، پنجاب میں ہے، سندھ میں ہے یا خیبرپختونخوا میں ہے۔ سب بجلی چوروں کے ساتھ ایک جیساسلوک ہوناچاہئے۔ہماری کوشش ہے کہ بجلی چوروں کو پکڑا جائے اور پاکستان کے اندھیرے دور کیے جائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔