وکلا کا احتجاج جاری، 3 روز سے عدالتی امور ٹھپ، سائلین پریشان

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 12 اپريل 2014
وقار الحسن شاہ ایڈووکیٹ کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف وکلا احتجاج کر رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

وقار الحسن شاہ ایڈووکیٹ کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف وکلا احتجاج کر رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: کراچی کی تمام ماتحت عدالتوں میں وکلا کی جانب سے عدالتی بائیکاٹ کے باعث 3 روز سے مسلسل عدالتی امور پر کام معطل ہے۔

آج(ہفتہ کو) بھی چوتھے روزغلام حیدر رضا ایڈووکیٹ کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائیگا، اپریل کے پہلے عشرے میں عدالتی امور پر صرف4 روز کام ہوسکا،3اپریل کو سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے انتقال اور 4 اپریل کو بھٹو کی برسی کے موقع پرصوبائی تعطیل ہونے کے باعث2روز عدالتی امورپر کام نہیں ہوسکا جبکہ9اپریل کو وکلانے یوم سیاہ منایا اور10 اپریل کو وقار شاہ کے قتل کیخلاف 2 روز مسلسل ہڑتال اور احتجاج کیا گیا تھا، اس دوران سیکڑوں مقدمات کے فیصلے موخر ہوئے اور ہزاروں مقدمات کی سماعت نہیں ہوسکی، دس روز میں سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوئیںکیونکہ فیملی عدالتوں میں بچوں سے ملاقات کے لیے انھیں آنا پڑا لیکن ہڑتال کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

علاوہ ازیں سینئر وکیل وقارالحسن شاہ کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جمعہ کو وکلا نے عدالتوں کا  بائیکاٹ کیا، قیدیوں کو عدالتوں میں پیش کیے بغیر واپس جیل بھیج دیے،وکلا کی بڑی  تعداد نے کراچی بار کے صدر صلاح الدین احمد کی قیادت میں ایم اے جناح روڈ اور ملیر بارکے صدر اعجاز خان بنگش کی قیادت میں نیشنل ہائی وے پر احتجاج اور دھرنا دیا،کراچی بار کے صدر صلاح الدین نے اپنے بیان میںکہا کہ کراچی میں دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں اور وہ آئے دن ججوں اور وکلا کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ ججوں اور وکلا کو کسی قسم کی کوئی سیکیورٹی فراہم نہیں۔

دوسری جانب ملیر بار کے وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ملیر کورٹ کے باہر دھرنا دیا اور سینئر وکیل وقار شاہ کے قاتلوں کی گرفتاری کا فوری مطالبہ کیا، کراچی بار نے ہفتے کو سینئر وکیل وقار الحسن شاہ کے قتل پر تعزیتی ریفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، علاوہ ازیں کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر صلاح الدین ایڈووکیٹ ، جنرل سیکریٹری خالد ممتاز ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا نے کہا کہ وکلا کے قتل کا سلسلہ سال 2000 سے شروع ہوا جو تاحال جاری ہے، انھوں نے کہا کہ دیگر بار کونسلوں کے ہمراہ ملکر ہفتے کو لائحہ عمل طے کریں گے، کراچی بار و ملیر بار کے صدور اور جنرل سیکریٹریزنے غلام حیدر کے قتل کی شدید مذمت کی اور مکمل ہڑتال اور احتجاج کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔