پولیس ٹارگٹ کلنگ روکنے میں ناکام، شاہراہوں پر ناکے لگا کر شہریوں کو پریشان کیا جانے لگا

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 12 اپريل 2014
پولیس اور رینجرز متحرک ہو کر اسنیپ چیکنگ کا عمل شروع کر دیتی ہے جس میں صرف پرامن شہریوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے،
فوٹو : فائل

پولیس اور رینجرز متحرک ہو کر اسنیپ چیکنگ کا عمل شروع کر دیتی ہے جس میں صرف پرامن شہریوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے، فوٹو : فائل

کراچی: شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ ، قتل و غارت گری اور دیگر جرائم کی وارداتوں پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد پولیس حرکت میں آگئی اور شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں پر اسنیپ چیکنگ کا عمل شروع کردیا۔

شہریوں کو روک کر ان کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی دستاویزات سمیت دیگر غیر ضروری سوالات کی بوچھاڑ کے باعث شہریوں  میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے،آئی جی سندھ اقبال محمود کی تعیناتی کے چند روز میں کراچی سمیت سندھ بھر میں 2 درجن سے زائد دھماکے ہوئے اور مجموعی طور پر 27 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جس میں وکلا، ڈاکٹر، مدرسے طالبعلم ، سیاسی جماعت کا کارکن اور پولیس اہلکار شامل ہیں،  تفصیلات کے مطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز کی ناقص کارکردگی کے باعث شہر میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ اور دیگر قتل و غارت گری کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور ٹارگٹ کلرز وقتاً فوقتاً  شہر میں اپنی موجودگی کا یقین بھی دلاتے رہے ہیں۔

ان واقعات کے بعد پولیس اور رینجرز متحرک ہو کر اسنیپ چیکنگ کا عمل شروع کر دیتی ہے جس میں صرف پرامن شہریوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے، پولیس کی جانب سے نہ صرف ناکے لگائے جاتے ہیں بلکہ سڑکوں پر آڑھی ترچھی موبائلیں کھڑی کر کے گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کو روک کر ان کی تلاشی، دستاویزات کا طلب کرنا ، غیر ضروری سوالات کہاں رہتے ہو ، کہاں کام کرتے ہو اور کہاں سے آرہے ہو اس سمیت دیگر غیر ضروری سوالات کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے، پولیس اور رینجرز کی ناقص کارکردگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹارگٹ کلرز دن ہو یا رات کسی بھی وقت اپنے ہدف کو نشانہ بنا کر فرار ہوجاتے ہیں اور بعدازاں پولیس کا سارا غصہ پرامن شہریوں کو اسنیپ چیکنگ کی صورت میں برادشت کرنا ہوتا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس اسنیپ چیکنگ کے عمل کو موثر بنائے نہ کہ کسی بھی واردات کے بعد ناکے لگا کر اپنی کارکردگی ظاہر کی جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔