حکومت عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی راہ پر گامزن؟

 بدھ 11 جولائ 2012
توہین عدالت اور دوہری شہریت بل کی پارلیمان سے منظوری کافی نہیں، آخری فیصلہ سپریم کورٹ کا ہوگا (فوٹو ایکسپریس)

توہین عدالت اور دوہری شہریت بل کی پارلیمان سے منظوری کافی نہیں، آخری فیصلہ سپریم کورٹ کا ہوگا (فوٹو ایکسپریس)

آخرکار طویل مذاکراتی عمل کے بعد حکومت پاکستان نے نیٹو سپلائی بحال کردی ۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان نیٹو سپلائی کی بندش کے باعث تعلقات بڑی حد تک کشیدہ ہوگئے تھے۔ ایک مرحلے پر امریکہ نے پاکستان کو باقاعدہ دھمکاناشروع کردیا تھا۔ سلالہ حملہ پر امریکی حکام معافی مانگنے یا معذرت کرنے سے مسلسل انکارکرتے رہے۔ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے مگر نیٹو سپلائی بحال نہ ہوسکی تھی۔ وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کی زیرصدارت کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں نیٹو سپلائی کی بحالی کے فیصلے پر مذہبی جماعتیں سراپا احتجاج ہیں اور اس فیصلے کو ملک کے مفادات کے منافی قرار دے رہی ہیں۔

وزیراعظم پرویزاشرف نے اس فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہم نے یہ فیصلہ ملکی مفاد میں کیا ہے، ہم عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ نہیں رکھ سکتے۔ بعض حلقے اس بات پر تنقید کررہے ہیں کہ امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے سلالہ واقعہ پر معافی مانگنے کے بجائے صرف لفظ ’’سوری‘‘ کہا اور پاکستانی قیادت نے لفظ ’’سوری‘‘ کے بعدہی نیٹو سپلائی بحال کرنے کا فیصلہ کردیا۔ اپوزیشن جماعتیں اس حکومتی فیصلے پر شدید تحفظات ظاہرکررہی ہیں جبکہ حکومتی حلقے سلالہ واقعہ پر امریکی معافی کو اپنی سفارتی اور سیاسی فتح اور اپنے موقف کی جیت سے تعبیر کررہے ہیں۔وزیراطلاعات قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ یہ کسی کی شکست یا فتح نہیں ہے۔

پاکستان امریکہ کے ساتھ ٹھوس بنیادوں پر تعلقات کا خواہاں ہے۔ سفارتی حلقے 8 ماہ کی بندش کے بعد نیٹو سپلائی کی بحالی کو پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات میں تنائو کی کیفیت ختم ہونے اور سٹریٹجک ڈائیلاگ بحال ہونے کا قوی امکان ہے۔دفاع پاکستان کونسل کے اکابرین نے نیٹو سپلائی کی بحالی کے خلاف لانگ مارچ کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرادیا ہے۔ دفاع پاکستان کونسل کے رہنمائوں نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے اختتام پر نیٹو سپلائی بحالی کے فیصلے کو ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کو امریکی تسلط سے آزاد کرائیںگے اور نیٹو سپلائی روکنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ دفاع پاکستان کونسل میں شامل مذہبی جماعتوں نے لانگ مارچ کے دوران اپنی عوامی قوت کا بھرپور مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

نیٹو سپلائی بحالی کے بعد ڈرون حملوں میں شدت آگئی ہے جس سے پاکستانی عوام میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔ پاکستان کے بار بار تحفظات کے باوجود امریکی حکومت ڈرون حملے روکنے کے بجائے ان میں اضافہ کررہی ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے بجائے کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کافی عرصہ بعد چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے معاملے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کافی ماہ سے اس معاملہ پر ڈیڈلاک تھا اور پارلیمانی کمیٹی کے کئی اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ اب جب ملک کے صف اول کے وکیل اور سابق وزیر قانون فخرالدین جی ابراہیم کے نام پر اتفاق ہوا ہے تو اسے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ فخرالدین جی ابراہیم ایک ایماندار اور بے داغ شخصیت کے حامل ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر کیلئے ان کی نامزدگی پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے نئے چیف الیکشن کمشنر کیلئے جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کے علاوہ موجودہ قائمقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس شاکراللہ جان اور جسٹس ناصراسلم زاہد کے نام دیئے تھے۔ کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ فخرالدین جی ابراہیم تجربہ کار اور غیرجانبدار شخص ہیں

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان میثاق جمہوریت پر چیف الیکشن کمشنر کے تقرر سے بڑی حد تک عمل درآمد ہوگیا ہے۔ ملک میں شفاف، غیر جانبدارانہ اورمنصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے ایک غیرجانب دار اور بے داغ کردار کی حامل شخصیت کا چیف الیکشن کمشنر ہونا ازحد ضروری تھا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پہلی مرتبہ وسیع پیمانے پر اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔ سیاسی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ متفقہ طور پر بنائے گئے نئے چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں آئندہ عام انتخابات کی ساکھ پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکے گی اور ان انتخابات میں دھاندلی کے امکانات کم ہوںگے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگران سیٹ اپ کے معاملے پر بھی جلد مذاکرات ہوںگے۔ توہین عدالت بل پر اپوزیشن نے شدید تحفظات ظاہر کئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ بل آزاد عدلیہ پر حملہ کے مترادف ہے۔ حکومت کی اتحادی جماعتوں کے اندر بھی اس بل پر مکمل اتفاق رائے نہیں تھا۔حکومت نے ایڈوائزری کمیٹی میں اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد صدر، وزیراعظم اور وفاقی وزراء کو توہین عدالت کی کھلی چھٹی مل جائے گی۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حکومت آزاد عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ حکومت توہین عدالت بل پر ممکنہ ردعمل سے بچنے کیلئے ججز کی مراعات میں اضافہ کرنے کیلئے 21 ویں ترمیم لانے کی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔مسلم لیگ (ن) نے توہین عدالت بل کی شدید مخالفت کی ہے۔ اب حکومت نے دوہری شہریت کے بل کو بھی پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ توہین عدالت بل کو جلد کالعدم قرار دے سکتی ہے اور اسے عدلیہ کی آزادی سے متصادم قرار دیا جاسکے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔