نئے عذاب کا دروازہ

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  اتوار 13 اپريل 2014
apro_ku@yahoo.com

[email protected]

ایک صاحب کسی ملنگ کے پاس گئے اور ملنگ سے کہا ’’سنا ہے آپ کی دعا قبول ہوتی ہے، آپ میرے لیے دعا کریں میری بیوی میری بات مان جائے‘‘۔ یہ کہہ کر ان صاحب نے سو کا نوٹ اس ملنگ کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ ملنگ نے سو روپے کا نوٹ اس شخص کو واپس کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر یہ دعا قبول ہوتی تو میں ملنگ نہ بنتا‘‘۔

مذکورہ لطیفہ معروف ایڈوکیٹ خواجہ نوید احمد نے چند روز قبل جامعہ کراچی کے ایک سیمینار میں سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحول بہت سنجیدہ ہوگیا تھا لہٰذا میں نے تھوڑا سا خوشگوار ماحول بنانے کے لیے یہ لطیفہ سنایا۔ واقعی ان کے آنے سے قبل سیمینار کا ماحول نہایت سنجیدہ اور کسی حد تک رنجیدہ ہوگیا تھا جس کی وجہ طلاق سے متعلق موضوع پر ایک خاتون کی تقریر تھی۔ ان خاتون کا نام فائزہ خلیل ایڈووکیٹ تھا (جو غالباً وویمن لائر ایسوسی ایشن کی صدر تھیں) انھوں نے جو کچھ کہا وہ میرے جیسے لکھاری کے لیے بھی آگاہی کا باعث تھا چنانچہ میں نے یہ ضروری سمجھا کہ ان کے قیمتی مشاہدات کو قارئین تک پہنچایا جائے۔

فائزہ خلیل ایڈووکیٹ نے دو ٹوک انداز میں حاضرین سے کہا کہ آپ جب بھی کسی وکیل کے پاس طلاق کا مشورہ کرنے کے لیے جائیں گے تو عموماً آپ کو بہت سہانا خواب دکھایا جائے گا کہ دو سے تین ماہ میں کورٹ سے طلاق حاصل کرکے آپ کا مسئلہ حل کردیا جائے گا مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا، کیسز 3 سے 4 سال تک بھی چلے جاتے ہیں، طلاق ہوتے ہی مسائل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہ مسائل مرد و عورت دونوں کے لیے ہوتے ہیں۔ خاص کر اولاد ہونے کی صورت میں مسائل بڑھ جاتے ہیں مثلاً بچہ کس کی تحویل میں ہوگا؟ یہ طے ہوجائے تو پھر یہ مسئلہ کہ اب کس طرح سے بچہ دونوں سے میل جول رکھے گا؟ مثلاً عدالت کے ذریعے بچہ ماں کے پاس ہو اور ملاقات والد سے کرانی ہو تو اس کے لیے عدالت کی راہداریوں میں ہر ہفتے جانا پڑتا ہے، وہاں دیگر مجرمین بھی آتے ہیں جو ہاتھوں میں ہتھکڑیوں اور پاؤں میں بیڑیوں سے جکڑے ہوتے ہیں۔

گرمی، حبس اور رش کا ماحول، بچہ ماں یا باپ کسی ایک کی طرف زیادہ مائل ہو تو دوسرا فریق ماں یا باپ اس کو عدالت کی راہداری میں اپنی طرف زبردستی کھینچ کر پیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے کھلونے لاکر دیتا ہے مگر بچہ پہلے ہی بری طرح ڈسٹرب اور پریشان ہے۔ یہ ملاقات بھی ایک آدھ گھنٹے پر مشتمل۔ تھانے اور کچہریوں کا ماحول کسی شریف آدمی کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوتا، ایسے ماحول میں ہر مہینے یا ہفتے خواتین اور بچوں کی حاضری بھی انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے اور تمام معمولات زندگی بشمول روزگار بھی متاثر ہوتا ہے اور بچے کی شخصیت خراب، نفسیاتی مسائل الگ، ایسے بچے کرمنل بھی بن جاتے ہیں اور نہ بھی بنیں تو جب یہ معاشرے میں مختلف عہدوں پر پہنچیں گے تو ان کی کارکردگی بھلا معاشرے کے لیے مفید کیسے ہوگی؟

ان خاتون ایڈووکیٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی جیسے شہر میں ایک محتاط اندازے کے مطابق خلع، طلاق اور بچوں کی تحویل کے لیے سالانہ 15 ہزار کیسز درج ہو رہے ہیں۔ انھوں نے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے چند ایک اہم انکشافات بھی کیے۔ ایک اہم بات یہ بتائی کہ زیادہ تر کیسز میں مرد حضرات آخری وقت تک علیحدگی نہ ہونے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں مگر خواتین فوراً طلاق یا خلع پر اصرار کرتی ہیں۔ اسی طرح ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زیادہ تر علیحدگیاں معیار زندگی کے حصول میں ناکامی پر ہو رہی ہیں، یعنی مادہ پرستی کے باعث ہو رہی ہیں۔ خواتین بھی بہتر زندگی کی تلاش میں علیحدگی کی طرف مائل ہوتی ہیں۔ عدالت کے ذریعے علیحدگی لینا آسان مگر حقوق حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ہاں عدالت کے ذریعے طلاق لینے کے طریقہ کار اور آگے کے مسائل کا مردوں کو بھی علم نہیں، ورنہ فریقین طلاق لینے سے قبل ہزار مرتبہ سوچیں۔

انھوں نے حاضرین کو مخاطب کرکے کہا کہ ہمیں اپنے نظام تعلیم پر بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ کس قدر ناکام ہے۔ اگر نظام تعلیم بہتر نتائج کا حامل ہوتا تو یوں تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی نہ مادہ پرستی ہوتی نہ ہی طلاق کی شرح میں یوں اضافہ ہوتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لوگ طلاق لے رہے ہیں یا لینا چاہتے ہیں وہ اگر ایک نظارہ عدالتوں میں ان لوگوں کا بھی کرلیں جو اپنے بچوں کے ساتھ عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں تو شاید اپنا ارادہ بدل دیں۔

سیمینار میں شریک ایک پروفیسر جن کا تعلق شعبہ عمرانیات سے تھا، کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں طلاق کی بڑھتی ہوئی وجوہات میں اربنائزیشن، جمہوریت، خواتین کی ملازمت اور ذرائع ابلاغ شامل ہیں۔ ایک اور محقق کا کہنا تھا کہ ہم تیزی کے ساتھ مغرب کو اپنا آئیڈیل تو بنا رہے ہیں اور ان کی نقالی کی کوشش کر رہے ہیں مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ مغرب میں خود خاندانی تعلیم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے جب کہ ہمارا خاندانی نظام آج بھی مغرب سے کہیں بہتر ہے۔

بہرکیف طلاق کے موضوع پر منعقدہ اس سیمینار میں ماہرین عمرانیات اور محققین کے علاوہ کورٹ میں عملی مشاہدہ رکھنے والی شخصیتوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ کورٹ کے ذریعے طلاق فریقین کے لیے ایک نئے عذاب کا دروازہ کھول دیتی ہے اور خاندان تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ ایک وکیل کے مطابق ہمارے ہاں کورٹ کا نظام اور ماحول اس قدر دردناک ہے کہ بڑے بڑے رو پڑتے ہیں، یہاں طلاق کے فریقین کے لیے دہری مصیبت سامنے آتی ہے۔

طلاق جائز کاموں میں سے وہ کام ہے جو اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل ہے، اس لیے بھی طلاق جیسے عمل سے حتی الامکان بچتے ہوئے اپنے گھریلو معاملات کے سدھار کی دونوں فریقین کو کوشش کرنی چاہیے۔ یاد رکھیے کہ میاں بیوی کے تعلقات میں کشیدگی کے زیادہ تر اسباب ناموزوں حالات، ذہنی غیر ہم آہنگی اور اختلافات کے باعث پیدا ہوتے ہیں، اور ان تمام ہی معاملات کو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ ہم دونوں فریقین کو طلاق جیسے انتہائی اقدام سے گریز کا ہی مشورہ دیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔