سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر مسلح افراد کا حملہ

ایکسپریس اردو  بدھ 11 جولائ 2012

ایک خبر کے مطابق گجرات میں دریائے چناب کے قریب سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 8 اہلکار شہید‘ چار زخمی ہو گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کیمپ 23 مئی کو پاک فوج کے ایک ہیلی کاپٹر کے گرنے کے بعد لاپتہ پائلٹ کی تلاش کے لیے لگایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں میں سے 2 موٹر سائیکل جب کہ 4 ایک گاڑی پر سوار تھے، فائرنگ کی آواز سننے پر گشت پر تعینات ایک پولیس موبائل موقعے پر پہنچی تو حملہ آوروں نے اس پر بھی فائرنگ کی جس سے ایک کانسٹیبل شہید ہو گیا۔

یہ حملہ بلاشبہ فوج کو ٹارگٹ کرنے کی ایک ایسی سوچی سمجھی سازش تھی۔ یوں تو ملک کے مختلف حصوں میں فوجی تنصیبات‘ فوجی ہیڈ کوارٹرز اور فوجی قافلوں پر حملوں کے اب تک کئی واقعات پیش آ چکے ہیں تاہم یہ سانحہ اس لحاظ سے ان سے مختلف ہے کہ اس میں ایک عارضی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا یعنی اس حملے کی منصوبہ بندی اس کیمپ کے قائم ہونے کے بعد کی گئی اور جس انداز میں حملہ کیا گیا‘ جس طریقے سے ٹائم بم نصب کیے گئے اور جس آسانی کے ساتھ دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حملے سے پہلے علاقے کی تفصیلی ریکی کی گئی اور حملے کی چھوٹی چھوٹی جزئیات تک طے کی گئیں۔

یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہونے کی وجہ سے فوج کے لیے سیکیورٹی مسائل زمانہ امن کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں‘ بی بی سی کے مطابق اس کے باوجود حملے کے وقت سیکیورٹی اہلکاروں کے پاس قابل ذکر اسلحہ نہیں تھا‘ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد اپنے مذموم منصوبے کو اتنی آسانی سے مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ واضح ہے کہ اگر کیمپ میں موجود فوجی اہلکاروں کے پاس مناسب اسلحہ موجود ہوتا تو وہ اپنا دفاع زیادہ موثر طور پر کر سکتے تھے۔

سیکیورٹی کے معاملے میں غفلت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک خبر کے مطابق واقعہ سے چند روز قبل کچھ نامعلوم افراد موٹر سائیکل پر اس علاقے کی نگرانی کرتے رہے اس کے باوجود کیمپ کی سیکیورٹی بہتر بنانے پر توجہ نہیں دی گئی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ صدر اور وزیر اعظم نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج، حکومت اور عوام متحد ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ صدر اور وزیر اعظم کا دہشت گردوں کے سامنے نہ جھکنے اور امن کی کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ اور اعلان خوش آیند ہے تاہم ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے چلائی گئی مہم منطقی انجام تک پہنچانے کی کوششیں تیز کی جائے۔

مشیر داخلہ رحمان ملک نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سیکیورٹی ہائی الرٹ اور بارڈر سیل کرنے کا حکم دے دیا جو ایک اچھا اقدام ہے تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں بھی ایسے عارضی فوجی کیمپ قائم کیے جائیں ان کی حفاظت کا مناسب انتظام کیا جائے۔ ادھر امیر جماعۃالدعوۃ حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ منظم منصوبہ بندی کے تحت افواج پاکستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ حال ہی میں رابطے بحال ہونے کے بعد امریکا اور افغانستان انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مزید اقدامات کرنے کا تقاضا شدت اختیار کر گیا ہے چنانچہ ضروری ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے وقت اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ یہ واقعہ فوج کو اشتعال دلانے کے لیے تو نہیں کیا گیا تاکہ اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ امید ہے کہ ٹھوس تحقیقات سے اس ایشو کی بہت سی پرتیں کھلیں گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔