بدین، بچی سے 4 افراد کی اجتماعی زیادتی، 12 سالہ مقدس جاں بحق

ایکسپریس نیوز ڈیسک  اتوار 13 اپريل 2014
ورثا کا لاش سمیت سڑک پر دھرنا، واپس نہ آنے پر والدین مدرسے گئے، بچی ایک کمرے میں بیہوش پڑی تھی، مولوی گرفتار۔ فوٹو: فائل

ورثا کا لاش سمیت سڑک پر دھرنا، واپس نہ آنے پر والدین مدرسے گئے، بچی ایک کمرے میں بیہوش پڑی تھی، مولوی گرفتار۔ فوٹو: فائل

بدین: بدین میں مبینہ طور پر4 افرادکی 12سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی، تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔ بچی چل بسی، ورثاء کا لاش سمیت احتجاج۔ ملزم مولوی گرفتار، دیگر4 ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے۔

کڈھن کے قریبی گائوں خوشی محمد آرائیں میں مدرسے کے مولوی سمیت 4 درندہ صفت افراد نے12 سالہ مقدس کو مبینہ طور پر زیادتی کانشانہ بنایا اور تشدد بھی کیا ۔ بچی کو تشویشناک حالت میں مقامی اسپتال داخل کرایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی۔ ورثاء نے واقعہ کے خلاف شدید احتجاج کیا اور لاش سڑک پر رکھ کردھرنا دیا۔متوفیہ کے والد نے بتایا کہ مقدس مدرسے گئی تھی جب واپس نہ آئی تو اسے تشویش ہوئی وہ مدرسے گئے تو مولوی غلام مرتضی شر نے بتایا کہ مقدس گھر جا چکی ہے لیکن جب وہ رات کو دوبارہ مدرسے گئے تو بچی کمرے میں بے ہوش پڑی تھی اور مولوی غائب تھا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ مولوی غلام مرتضیٰ شر، بلاول آرائیں، عادل آرائیں اور وسیم آرائیں نے ان کی بیٹی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایااور تشدد بھی کیا۔  ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ پولیس نے مولوی غلام مرتضیٰ کو گرفتار کرلیا جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلیے سول اسپتال بدین بھیج دیا گیا ہے، رپورٹ آنے کے بعد واقعہ کا مقدمہ درج کیا جائیگا۔ دوسری طرف بدین اسپتال میں ڈاکٹر نہ ہونے کے باعث بچی کی لاش 4گھنٹے تک پڑی رہی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔