پیپلزپارٹی نے حکومت سے متعلق گیلپ سروے رپورٹ مسترد کردی

اسٹاف رپورٹر  اتوار 13 اپريل 2014
لوڈشیڈنگ ختم نہ کرنے پر شہباز شریف اپنا نام کب تبدیل کریں گے؟ وقار مہدی۔ فوٹو: فائل

لوڈشیڈنگ ختم نہ کرنے پر شہباز شریف اپنا نام کب تبدیل کریں گے؟ وقار مہدی۔ فوٹو: فائل

کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات وقار مہدی نے نواز شریف حکومت سے متعلق کرا ئے گئے گیلپ سروے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق قرار دیا ہے۔

وقار مہدی نے کہا کہ 2013 میں کرایا گیا سروے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے متر ادف ہے، انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنی انتخابی مہم جس میں ملک سے لوڈ شیڈنگ 6 ماہ میں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج 11ما ہ گزرنے کے باوجود پورا ملک لوڈ شیڈنگ کے بدترین عذاب سے گزر رہا ہے، بے روزگار ی انتہا کو پہنچ گئی ہے، ملک کی کل آبادی کے 52% سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ،مذاکرات کے باوجود دہشت گردی عروج پر ہے اورگیلپ سروے میں (ن) لیگ کی حکومت 59% بہتر بتایاجا رہا ہے جو کہ سفید جھوٹ اور لطیفے سے زیادہ کچھ نہیں ہوسکتا ہے ،ڈالر کی قیمت کم ہونے کے باوجود عوام کی قوت خرید مزید کم ہوگئی، غریب طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔

پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت نے سابق صدرآصف علی زرداری کی قیادت میں اپنی 05 سالہ حکومت میں عوام کی محدود وسائل کے باوجود بہتر سے بہتر خدمت کی لاکھوں نوجوانوں کو میرٹ پر ملازمتیں ، کنٹریکٹ ملازمتوں کی مستقلی ، مزدوروں کی12% شیئر کی فراہمی ، بجلی کی کمی کو دور کرنے کے لیے تھر کول اور دیگر منصوبوں کا آغاز ، دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے موٗثر حکمت عملی ، سوات کے علاقے کو دہشت گردوں سے وگزار کراکے وہاں پاکستانی پرچم کو سربلند کرنا اور امریکہ، انڈیا ، افغانستان کے ساتھ اصولوں پر مزاکرات اور تعلقات ، مسلئہ کشمیر کو اجاگر کرنا ، ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا آغاز ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے زریعے 70 لاکھ خاندانوں کو 1000 روپے ماہانہ کی فراہمی، غریب ہاری خواتین کو 25 ایکڑ زمین کی مفت فراہمی، بے نظیر شہید یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کی فنی تربیت کا آغاز ، اٹھارویں اور انسیوویں ترمیم کی منظوری۔

صدارتی اختیارات کی پارلمینٹ کو منقتلی سمیت بے شمار عوام دوست اقدامات سے تاریخ بھری پڑی ہے لیکن گیلپ سروے کا ادارہ ان اقدامات کو بیان کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ کس کی کارکردگی بہتر تھی یا بہتر ہے عوام 2018 کے الیکشن میں فیصلہ کردیں گے ، ا نھوں نے سوال کیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے جو دعوے اور وعدے کیے تھے ان کا نتیجہ کیا نکلا جو کام وہ 06 ماہ میں کرنے والے تھے اس کا انجام کیا ہوا اور شہباز شریف اپنا نام کب تبدیل کریںگے ؟ انھوں نے گیلپ سروے کے ادارے کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ٹھنڈے کمروں سے باہر نکلیں اور غریبوں کی بستیوں اور گائوں اور گوٹھوں کا دورہ کر کے عوام کی رائے لیں تو اصل حقیقت سامنے آ جائے گی اور انہیں اپنے اس سروے پر خود شرمندگی ہوگی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔