ڈیراور کی کہانی

پریتم داس بالاچ  اتوار 26 مارچ 2023
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

کہتے ہیں جو کہانی پشت در پشت چلتی ہوئی سینہ بہ سینہ بیان کی جاتی ہے اس میں حقیقت ہی حقیقت جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، کیوں کہ کسی کے زور و جبر سے یہ کہانی لکھی نہیں جاتی بلکہ دل کی کتاب میں صدیوں سے محفوظ ہوتی ہے۔

آئیے دوستو! آج ہم آپ کو ’قلعہ ڈیراور‘ کی سچی کہانی سناتے ہیں جو ہم بزرگوں سے سنتے آ رہے ہیں، اور اس کے علاوہ ہمارے روہی و چولستان کے مایہ ناز فن کار و معروف کہانیوں کے بے تاج بادشاہ استاد غلام حیدر خاں منگنہار (مرحوم) و دیگر سگھڑ حضرات ’’قلعہ ڈیراور‘‘ کی کہانی یوں بیان کرتے تھے:

روہی و چولستان سے ملحق انڈیا کے صوبہ راجستھان مارواڑ راجپوتانہ کے ضلع جیسلمیر کے قریب قدیمی شہر ’’لیدر واہ‘‘ پر راجا بھوبھان پنوار راجپوت راج کرتا تھا وہ بیٹے جیسی نعمت سے محروم تھا۔

کافی عرصہ بعد جب بیٹی رحمت بن کر گھر میں جنم لیا تو راجا نیا پنے جیوتشیوں (نجومیوں) سے پوچھا کہ میرے بعد اس تخت و تاج کا مالک کون ہوگا؟

جیوتشیوں نے اپنی جیوتش کی کتابیں کھنگھالتے ہوئے حساب کتاب لگا کر بتایا کہ جہاں پناہ! آپ کی شاہی کا مالک پنواروں کی بجائے بھاٹی خاندان میں سے ہوگا۔ راجا یہ حیرت زدہ بات سن کر آگ بگولہ ہوگیا اور حکم جاری کیا کہ بھاٹی راجپوتوں کی نسل کو ختم کردیا جائے۔ نہ رہے گا بانس۔ نہ بجے کی بانسری۔

پھر تو قتل و غارت کا بازار ایسا گرم ہوا کہ ہر طرف بکھرتی لاشوں کے انبار لگنے لگے۔

مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے

اسی ظلم و زیادتی کو دیکھ کر بھاٹی سرداروں میں ’’وینتی‘‘ نام کی عورت نے بھیس بدل کر اپنے پیٹ میں پلنے والے بچے کو بچانے کے لیے اپنے بھائی ’’ججہ بھٹہ سولنکھی راجپوت‘‘ کے پاس آ کر پناہ لی۔ کہتے ہیں یہ جگہ موجودہ ’’قلعہ ڈیراور‘‘ کے مغرب کی طرف مزارات کے پاس واقع ’’ججہ بھٹہ‘‘ کا قلعہ نما محل تھا۔

’’وینتی دیوی‘‘ نے اپنے بھائی کو تمام حالات سے آگاہ کیا تو بھائی نے کہا کہ بہنا! چنتا مت کرو ہم اس ظلم کا بدلہ لیں گے، وینتی بدلے کی دہکتی آگ میں تیر تلوار و دیگر جنگی آلات کی ہر وقت کسرت کرتی تاکہ پیٹ میں پلنے والا بچہ جنگجو بن کر اپنے خاندان اور بھاٹی قوم کا بدلہ لے سکے۔ وہ دن قریب آ گیا۔

ماموں کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ شاہی شادیانے بجنے لگے۔ مگر ’’وینتی‘‘ نے شاہی بگل، ڈھول دمامے روک کر بھائی سے کہا، جب تک میرا لخت جگر جوان نہیں ہوتا تب تک یہ راز راز ہی رہے تو اچھا ہے ورنہ وہ ظالم ادھر حملہ کر کے نقصان پہنچائے گا۔

’’ڈیراور سنگھ بھاٹی‘‘ جب جوان ہوا تو ہتھیاروں سے لیس ہوکر شکار کھیلنے کے لیے نکلا تو موجودہ قلعہ جزیرہ نما جگہ کے درمیان جال کے درخت کے پاس عجیب نظارہ دیکھا کہ ایک بھیڑ نے بچے کو جنم دیا ہے اور پاس ہی کھڑا خونخوار بھیڑیا جونہی بچے پر لپکتا ہے تو آگ کے شعلے بھیڑ کے بچے کی حفاظت کرتے ہوئے بھیڑیے پر پڑتے ہیں اور وہ واپس پلٹ کر پھر حملہ آور ہو کر بچے کو اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

’’ڈیراور سنگھ‘‘ نے یہ ماجرا دیکھا تو حیران ہوگیا۔ بھیڑیے کو مار کر جب اس جگہ کو کھودنا شروع کیا تو بیش بہا خزانہ نکلا۔ کہتے ہیں یہ قیمتی خزانہ ’سکندر اعظم‘ نے جو لوٹ کھسوٹ کی اس سے حاصل شدہ خزانہ دریائے ہاکڑہ کی اس بیٹ نما جگہ کو محفوظ مقام سمجھ کر دبا دیا تھا۔

تاکہ بعد میں نکال کر اپنے وطن لے جائے، مگر سکندر ’’راجا پورس‘‘ کے لگے ہوئے تیروں کی ضرب سے سخت بیمار پڑ گیا اور سخت بخار کی حالت میں واپس روانہ ہوگیا۔ جب ڈیراور سنگھ کو یہ قیمتی ہیرے جواہرات سونا چاندی کا خزانہ ملا تو اس نے اپنے ماموں ججہ سے کہا کہ ماموں ! مجھے بھینس کے چمڑے جتنی جگہ دو تاکہ میں علیحدہ رہ کر شکار کھیل سکوں۔ ماموں نے لاڈلے بھانجے کی بات مان لی۔

’’ڈیراور سنگھ‘‘ نے گنڈھیر نامی موچی سے بھینس کے چمڑے کی باریک دھاگے جیسی ڈور بنوا کر موجودہ قلعے کی جگہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ (یہ گنڈھیر خاندان آ ج بھی ڈیراور میں موجود ہے ) جب ججہ سنگھ نے گھیرا نما ڈور کی جگہ دیکھی تو بلبلا اٹھا اور وینتی سے شکوہ کیا تو بہن نے کہا۔

سنڑ ججہ وینتی کہہ بول نہ پاچھالے

کا بھٹے کا بھاٹیہ کوٹ اڈاون ڈے

وینتی نے کہا بھائی! قلعہ بھٹے کا بنے یا بھاٹی کا بات تو ایک ہی ہے۔ راجپوت قول کا پکا اور وعدے کا سچا ہوتا ہے، قول و اقرار سے پھرنا ایک راجپوت کا کام نہیں۔ اگر آپ کیے ہوئے وعدے پر قائم نہ رہے تو بدنامی ہوگی لوگ طعنے دیں گے۔ تاریخ میں بھٹوں کی وعدہ خلافی لکھی جائے گی۔

جگ ہنسائی ہوگی اور یہ سب باتیں مجھے جیتے جی مار کر زندہ لاش بنا دیں گی۔ ججہ بھٹہ نے کہا بہن!… ٹھیک ہے کیے ہوئے وعدہ کے مطابق یہ جگہ ’’ڈیوراؤ سنگھ‘‘ کی ہوئی مگر ڈور سے باہر والی جگہ سے مٹی گارا اٹھانے نہیں دوں گا۔

تو ’’ڈیراور سنگھ‘‘ نے اوچ شریف کے راجا سے بات کی خزانوں کا منہ کھول دیا اور تمام زیرتعمیر چیزیں اوچ سے لائی گئیں۔ کہتے ہیں کہ ستر میل لمبی قطاروں کے ذریعے سے اینٹ پتھر گارا و دیگر سامان قطار در قطار لایا گیا اور 834ء میں یہ قلعہ تعمیر ہونے لگا۔ جب جیسلمیر لیدر واہ کے راجہ بھوبھان کو علم ہوا تو لشکر بھیج کر ’’ڈیراور سنگھ‘‘ کو مارنا چاہا تو ڈیراور سنگھ بڑی عقل مندی اور چال بازی سے اونٹ پر سوار ہوکر ’’رتنا گر پنڈت‘‘ کے کھیت میں جا چھپا، پیچھا کرنے پر پہچان نہ سکے اور لشکر واپس آ گیا۔

جیوتشیوں نے کہا اے راجا! ’’ دیو قامت ڈیوراؤ سنگھ‘‘ اب قلعے کا مالک بن چکا ہے۔ مضبوط فوج بنا کر بدلہ لے گا۔ پھر قتل و غارت کا بازار گرم ہوگا جس کے تمام تر ذمے دار آپ کہلائیں گے۔ بھلا اس میں ہے کہ اپنی بیٹی کا رشتہ ’’ڈیراور سنگھ‘‘ سے طے کر لو بیٹی راج کرے گی اور دشمنی بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی۔

پھر ایسا ہی ہوا۔ روایت کے مطابق ناریل بھیجا گیا۔ وینتی، ججہ بھٹہ اور ڈیراور سنگھ کو پنڈتوں نے منت سماجت کر کے منالیا۔ شادی ہوگئی۔ ڈیراور سنگھ لیدروا اور ڈیراور شہر کا مالک بن گیا اور اسی طرح بھاٹیوں نے کئی قلعے آباد کیے۔

کاسی، متھرا، پراگ بھڑ، کسنیری، بھٹ نیر

ڈگم، ڈیراور، گڑھ گنجنی، نوووں جیسلمیر

ان نو مقامات پر بھاٹیوں نے حکومت کی۔ پنواروں سے رشتہ جوڑ کر ہمیشہ کے لیے دشمنی کو رشتے داری میں بدل کر پُرامن راج کرنے لگے۔

1735ء تک یہ عظیم قلعہ 17 پشتوں تک ڈیراور سنگھ کے جانشینوں کے قبضہ میں رہا۔ بھاٹی جانشینوں نے تقریباً 900 سال تک جیسلمیر، بیکانیر، مروٹ، بجنوٹ، نواں کوٹ و دریائے ہاکڑہ کے کنارے بسے ہوئے شہروں پر حکومت کی، 1735 میں نواب صادق محمد اول نے گورگیج خیرے خاں کی مدد سے قلعہ پر قبضہ کرلیا تو بھاٹی شاہی خاندان سمیت جیسلمیر تک لمبی سرنگ کے ذریعے بچ نکلنے میں کام یاب ہوگئے۔

مگر ’’راول رائے سنگھ‘‘ کو قید کر لیا۔ نواب صاحب نے پچاس روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر کر کے قلعہ میں رہنے کی اجازت دے دی تاکہ خفیہ ٹھکانوں، رازدار سرنگوں کے ذریعے خزانہ حاصل کر سکیں۔ یاد رہے کہ یہ وظیفہ 1833 تک رائے سنگھ کی اولاد بھوم سنگھ تک جاری رہا۔ بھوم سنگھ کی اولاد ریاست جے پور چلی گئی اور بعد میں بھی گاہے بگاہے نوابوں سے ملتی اور عزت و احترام و انعامات سے نوازی جاتی رہی۔ اس قلعے کے 40 خوب صورت برج ہیں ہر برج کا نقشہ مختلف ہے۔ ان برجوں پر فوجی چوکیاں ہوتی تھیں۔

یہ شان دار مورچے اب ختم ہوتے جا رہے ہیں، جن سے تیر تلوار، توپ کے گولوں و پتھروں کے علاوہ گرم پانی سے حملے کیے جاتے، اس کے بیش بہا خفیہ تہہ خانوں کے علاوہ ہر راج دہانی سے ملانے والی لمبی سرنگیں تھیں جس کا نقشہ آج تک نہیں مل سکا، کیوں کہ جب نواب نے قلعہ فتح کیا تو قلعہ دار کو کہا کہ مجھے خزانہ دکھاؤ تو وہ بھول بھلیوں سرنگوں سے ہوتا ہوا سات منازل پر مشتمل تہہ خانے میں لے گیا۔

جہاں قیمتی خزانوں کا انبار دیکھ کر نواب حیران رہ گیا اور تلوار کے وار سے قلعہ دار کا خاتمہ کرنا چاہا، اس نے کہا نواب صاحب! مجھے مارنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ ان خفیہ تہہ خانوں کی سرنگوں سے آپ نکل کر واپس زندہ نہیں جا پائیں گے۔

نواب نے کافی کوشش کی مگر ہر بار سرنگ میں پھنس جاتا۔ آخر قلعہ دار کی منت سماجت کرتے ہوئے واپس نکلا تو قلعہ دار سے چابیوں کا گچھا چھیننے اور تہہ خانوں کا نقشہ حاصل کرنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑا۔ قلعہ دار نے چابیاں ہوا میں لہراتے ہوئے مشرقی تالاب میں پھینک دیں اور اونچی فصیل سے کود کر جان دے دی۔ آج تک نہ وہ چابیاں ملیں اور نہ ہی وہ نقشہ مل سکا۔

کہتے ہیں کہ اگر وہ سات منازل پر مشتمل تہہ خانوں والا خزانہ مل جائے تو ہمارا وطن پوری دنیا میں امیر ترین ملک کہلائے گا۔ مشہور ہے کہ اس خزانے پر روحوں اور شیش ناگ کا پہرہ ہے۔

جسے کوئی حاصل نہیں کر سکتا۔ نواب نے پرانے محلات کی تمام بنیادیں اکھاڑ پچھاڑ کر کوشش کی مگر بے سود۔ موجودہ قلعے کے اندر تمام عمارات نواب صاحب نے نئے طرزتعمیر کے مطابق بنوائیں، جن میں شاہی محلات ، زنان خانہ، مہمان خانہ، اسلحہ خانہ، رنگ محل، جیل خانہ، پھانسی گھاٹ، و دیگر خوب صورت عمارات شامل تھیں جو اب کھنڈرات میں بدل کر بھوت بنگلہ دکھائی دیتی ہیں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ہر عمارت میں چمگادڑوں کا بسیرا ہے۔

یہ اجڑا ہوا قلعہ نواب کے دورحکومت میں خوب صورت قلعہ تصور کیا جاتا تھا۔ ڈیراور شہر تجارتی منڈی تھا۔ پُررونق بازار میں دیس بدیس کے تاجر تجارت کرتے ہوئے قافلوں کی صورت میں جوق در جوق کھنچے چلے آتے۔ آج وہ شان دار پُررونق بازار کھنڈرات میں بدل چکے ہیں۔

قلعے کے باہر خوب صورت فصیل تھی جو اب معدوم ہو چکی ہے۔ فصیل کے باہر شہر آباد تھا، جس میں ساہوکاروں، امراء و تاجروں کی شان دار حویلیاں تھیں۔ جنوبی پرانی دیوار کے پاس دل کش شومندر ہے جہاں ہر سال شو راتری منا کر پوجا پاٹ کی جاتی تھی مگر اب یہ مندر دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ حکومت اور اقلیتی ارکان اسمبلی اس قدیم مندر پر خصوصی توجہ دے کر اس کی تعمیر و تزئین کے لیے گرانٹ مہیا کریں تاکہ یہ مندر سیاحوں اور ہندوؤں کی توجہ کا مرکز بن کر مذہبی ہم آہنگی کا ثبوت پیش کر سکے۔

1947 میں کاروباری تاجر ہندو انڈیا چلے گئے، مگر مفلس چرواہے اس دھرتی کے اصل وارث دراوڑی نسل کے میگھوال، بھیل، بالمیکی، باوریہ ہندوؤں نے اپنی جنم بھومی کو نہیں چھوڑا۔ آج بھی یہ مزدور اور چرواہے ڈیراور و دیگر چولستانی علاقوں میں موجود ہیں، جو پُرامن زندگی بسر کر رہے ہیں۔ شاہی درباروں کے پاس جین مت پیروکاروں کے گرو جی دادا کشل گرو کی سمادھی تھی جسے ٹھیڑ مندر کہتے تھے۔ اب وہاں اسٹیج نما تھڑا بنا ہوا ہے، جہاں ہر پونم کو بھگتی پروگرام سجایا جاتا ہے۔

قلعہ کی تمام تاریخی عمارات قابل دید ہیں۔ مرکزی دروازہ، داخلی دروازہ، شاہی مسجد، بزرگوں کے مزارات، شاہی مزارات، کے علاوہ ہندوؤں کا راما پیر مندر، تکیہ روشن فقیر، تکیہ تاج محمد سئیں، اجڑی حویلیاں ، چولستانی گھر، جھونپڑے، روہی کے ٹیلے، ٹوبھے تالاب، جانوروں کے ریوڑ، خوش مزاج ملنسار لوگ، ہنس مکھ چہرے، مہمان نواز نوجوان، بزرگ، دل کے سچے مخلص ڈیراوری دوست، چرند پرند، و دیگر تمام جان دار و بے جان چیزیں قابل دید ہیں، مگر ہمارے پاس و ہ الفاظ نہیں جن سے ہم صحرائے چولستان و اس قلعہ کی تعریف کر سکیں اگر آپ اس علاقے میں جائیں گے تو پُرسکون ماحول پا کر قلبی سکون میسر آئے گا۔

اس کے علاوہ ہر سال 9 تا 13 فروری کو چولستان جیپ ریلی منعقد کی جاتی ہے۔ ملک بھر سے شائقین حضرات حصہ لے کر لطف اندوز ہوتے ہیں، جس میں شان دار محفل موسیقی، ادبی و کلچرل رنگا رنگ پروگرام، بائیک ریس جیپ ریس ، اونٹ ریس اور دیگر کھیلوں کے ایونٹ ہوتے ہیں۔ اس موقع پر قلعے کو دلہن کی طرح سجایا جاتا ہے اور آتش بازی کی جاتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔