12جولائی سے سیاست کے سمندر میں نئی تلاطم خیزی

ایکسپریس اردو  بدھ 11 جولائ 2012
 12جولائی سے سیاست کے سمندر میں نئی تلاطم خیزی(فوٹو ایکسپریس)

12جولائی سے سیاست کے سمندر میں نئی تلاطم خیزی(فوٹو ایکسپریس)

سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے نااہل قراردئیے جانے کے بعد اپنے سرائیکی علاقے میں جانے کیلئے لاہور پہنچے جہاں متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین سید آصف ہاشمی،وزیراعظم کے سابق مشیر فواد چودھری،پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات راجہ عامر خان اور دیگر لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔پیپلزپارٹی لاہور تنظیم کے عہدیدار سابق وزیراعظم کے استقبال کیلئے کینٹ ریلوے اسٹیشن پر موجود نہیں تھے۔ اس طرح پنجاب اور لاہور پارٹی کا کوئی اہم عہدیدار ان کے ہمراہ ملتان بھی نہیں گیا۔ لاہور سے صرف آصف ہاشمی سابق وزیراعظم کے ساتھ ملتان گئے۔

وہ یوسف رضا گیلانی کے ساتھ اپنا تعلق نبھا رہے ہیں ۔ دراصل پیپلزپارٹی کی مقامی تنظیم لاہور کو نظرانداز کئے جانے پر سابق وزیراعظم سے بڑی شاکی رہی ہے۔ وہ اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں ہر ہفتے لاہور آتے تھے مگر لاہور میں پارٹی کیلئے کچھ نہیںکر سکے ۔ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی عہدے سے ہٹنے کے بعد سے لے کر اب تک خاصے خاموش ہیں۔ وہ نجی محفلوں میں کہتے ہیں کہ ان کی خاموشی ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔اپنے بیٹے عبدالقادر گیلانی کی الیکشن مہم میں حصہ لینے کیلئے وہ لاہور سے بذریعہ ٹرین خانیوال اور ملتان کیلئے روانہ ہوئے۔ کافی عرصے کے بعد کسی سیاسی لیڈر نے ٹرین مارچ کا آغاز کیا ۔ملتان میں ان کے بھر پور استقبال کیلئے ہزاروں افراد اکھٹے ہوئے ۔

جس کے باعث سابق وزیراعظم نے خانیوال سے ملتان اپنی رہائش گاہ تک کا سفر دس گھنٹے میں طے کیا۔ لوگ صبح چار بجے تک ان کے استقبال کیلئے موجود رہے ان میں خواتین ، بچے اور بزرگ بھی شریک تھے۔گھروں کی چھتوں سے پھول نچھاور ہوتے رہے۔اس موقع پر تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے چھوٹے بھائی مرید حسین قریشی نے بھی پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا وہ سابق وزیراعظم کے استقبال کیلئے خانیوال ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئے اس سے ملتان میں شاہ محمود قریشی کی سیاست کو شدید دھچکا پہنچا ہے ۔ سابق وزیراعظم کی نشست این اے 151 کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ(ن) کے امیدوار اسحاق بچہ بھی اپنے ساتھیوں سمیت مسلم لیگ(ن) چھوڑ کر دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے ہیں ۔ اسحاق بچہ پیپلزپارٹی کے ایم پی اے رہ چکے ہیں تاہم سید یوسف رضا گیلانی کے قریبی ساتھی اور رکن صوبائی اسمبلی احمد حسن ڈاہیڑ اسحاق بچہ کی پیپلزپارٹی میں شمولیت پر ناراض ہیں ۔

اسلام آباد میں نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ابھی ٹھیک طور پر کرسی پر جمے ہی نہیں کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخارمحمد چودھری نے واضح کر دیا کہ اصل میں پارلیمنٹ نہیں آئین سپریم ہے۔ جس پر سابق وزیراعظم گیلانی کاکہناتھاکہ آئین سپریم ہے مگر آئین کو بنانے والی پارلیمنٹ ہے جو لوگ سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ بالا دست ادارہ نہیں، وہ غلط فہمی میں ہیں اور ان کی غلط فہمی جلد دور ہوجائے گی۔

12 جولائی کو سپریم کورٹ میں این آراوعمل درآمد کیس کی سماعت ہورہی ہوگی تو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف یقینا تسبیح ہاتھ میں لے کر کرسی پر بیٹھیں گے۔ پیپلز پارٹی والوں کا یہ گلہ شدت پکڑتا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ ان کے مقدمات پر زیادہ توجہ رکھتی ہے جبکہ باقی مقدمات کی باری سالہا سال سے نہیں آسکی ہے۔ اس حوالے سے دواہم بل پارلیمان کے سامنے پیش کئیے گئے اور ان میں توہین عدالت کا بل کثرت رائے سے منظور ہوگیا ہے ۔دونوں قوانین سپریم کورٹ میں موجود مقدمات سے متعلق ہیں،اس لئے ان میں اصل دلچسپی کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ ان دونوں قوانین پر کیا ردعمل دیتی ہے۔

بلاشبہ سابق وزیر اعظم گیلانی کی ایوان وزیرا عظم سے عدالتی فیصلے کے نتیجے میں رخصتی پارلیمنٹ کی حیثیت اور طاقت کو بری طرح متاثر کر گئی ہے اور سپریم کورٹ نے کافی طاقت پکڑ ی ہے لیکن دوسری طرف سیاسی مبصرین کو یہ اندازہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کو سندھ خصوصاً جنوبی پنجاب میں بھرپور سیاسی فائدہ پہنچا ہے۔ حتیٰ کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے شدید ستائے جنوبی پنجاب کے لوگ سرائیکی وسیب کے وزیر اعظم کو یوں عدالتی فیصلہ کے ذریعے اسلام اباد سے ملتان بھیجنے پر خاصے ناراض ہیں۔ ملتان میں سابق وزیراعظم کے استقبال سے اس رائے کو کافی تقویت ملی ہے۔

جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی آئندہ الیکشن کے دوران اچھے نتائج حاصل کر سکتی ہے ۔ ان حالات میں دیکھنا ہوگا کہ کیا سپریم کورٹ پیپلز پارٹی کے ایک اور وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا سیاسی خطرہ مول لے سکتی ہے یا نہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید سپریم کورٹ راجہ پرویز اشرف کے بارے میں نااہلی کا فیصلہ نہ کرے بلکہ چھ آپشنز میں دی گئی کسی اور آپشن کا سہارا لیا جائے۔پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ ہماری مدت تو پوری ہو چکی ہے، ہم انتخابات کرانا چاہتے ہیں مگر کچھ اور قوتیں انتخابات کی بجائے لمبی مدت کی نگران حکومت بنانا چاہتے ہیں بہر حال جو بھی ہو 12جولائی سے شروع ہونے والا معاملہ سیاست کے سمندر میں خاصا تلاطم بر پا کرے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔