ایشیاکپ؛ پاکستان میزبانی بچانے کیلئے ’’دوستوں‘‘ کا منتظر

سلیم خالق  منگل 9 مئ 2023
سری لنکا کو اضافی میچز اور میزبانی کی آس دلاکر بھارت اپنے ساتھ ملالیا (فوٹو: فائل)

سری لنکا کو اضافی میچز اور میزبانی کی آس دلاکر بھارت اپنے ساتھ ملالیا (فوٹو: فائل)

ایشیاکپ کی میزبانی بچانے کیلئے پاکستان دوستوں کی سپورٹ کا منتظر ہے، افغانستان اور بنگلادیش تعاون کیلیے تیار نظر آتے ہیں، البتہ سری لنکا کو بھارت نے 2 اضافی میچز کی آس دلا کر ساتھ ملالیا۔

تفصيلات کے مطابق پاکستان کی میزبانی میں ایشیاکپ کا انعقاد ستمبر میں ہونا ہے، البتہ بھارت دورے سے انکار کر کے ایونٹ کو خطرے میں ڈال چکا، تاحال شیڈول کا اعلان نہیں ہوسکاجبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ ایونٹ پاکستان میں ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے ہائبرڈ ماڈل کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایشیاکپ پاکستانی سرزمین پر ہو مگر بھارت کے میچز نیوٹرل وینیو پر کرا لیے جائیں، اس پر بھی بی سی سی آئی راضی نہیں ہے، نجم سیٹھی ان دنوں دبئی میں موجود ہیں جہاں ان کی گزشتہ روز آئی سی سی حکام سے ملاقات ہوئی، وہ منگل کو ایشین کونسل کے نائب صدر پنکج کھیمجی اوراماراتی کرکٹ حکام سے بھی میٹنگ کریں گے۔

اس موقع پر ہائبرڈ ماڈل کے تحت بھارتی میچز یو اے ای میں کرانے پر بات ہوگی، پی سی بی کو خدشہ ہے کہ اگر ابھی ایشیا کپ نہ ہوا تو یہی مسئلہ 2025میں چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے وقت بھی پیش آئے گا۔ ہائبرڈ ماڈل کے تحت بنگلادیش میں بلو شرٹس کے چیمپئنز ٹرافی میچز کرا دیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: ایشیاکپ پر چھائے سیاہ بادل؛ پاکستان متبادل پلان تیار کرنے لگا

ذرائع نے بتایا کہ ان دنوں پاکستان اور بھارتی حکام میں اعصاب کی جنگ جاری ہے جس میں بھارت اپنے میڈیا کا استعمال کر رہا ہے، بی سی سی آئی نے سری لنکا کو 2اضافی میچز کھیلنے کی لالچ دے کر ساتھ ملا لیا، وہ ایشیا کپ کی میزبانی کا خواب کئی دنوں سے دیکھ رہا ہے۔

پاکستان نے افغانستان کو یاد دلایا کہ حال ہی میں شارجہ میں اضافی میچز کھیلے تھے، وہ پی سی بی کے ساتھ کھڑا ہے، بنگلہ دیش کو دبئی کی گرمی میں کھیلنے پر خدشات ہیں مگر قائل کرنے کی کوشش جاری ہے، وہ تعاون پر آمادہ ہے۔

مزید پڑھیں: ایشیاکپ منتقلی سے متعلق بھارتی میڈیا کی خبریں جھوٹی نکلیں

پاکستانی بورڈ حکام عوامی سطح پر کئی بار کہہ چکے کہ ہمارے پاس پی ایس ایل کی وجہ سے بہت پیسہ آ چکا ایشیاکپ نہ ہوا تب بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا البتہ درحقیقت حکام مالی نقصان سے بچنے اور ورلڈکپ کی تیاری کے پیش نظر ایونٹ کا انعقاد بھی چاہتے ہیں، مگر نیوٹرل ویینو پر پورے ایونٹ کے انعقاد سے فیس سیوئنگ مشکل ہوگی۔

گذشتہ روز بھارتی میڈیا میں ایشیا کپ کے حوالے سے کئی خبریں زیرگردش رہیں، ایک میں تو یہ بھی کہا گیا کہ ممبران نے پی سی بی کا ہائبرڈ ماڈل مسترد کرتے ہوئے ایونٹ کو پاکستان سے منتقل کر دیا ہے، نمائندہ ایکسپریس کے رابطے پر ایک اعلیٰ پی سی بی عہدیدار نے ان خبروں کو بکواس اور بی سی سی آئی کی جانب سے دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ اے سی سی نے ہمارے ہائبرڈ ماڈل کو تسلیم کرنے سے انکار کا آفیشل طور پر کچھ نہیں بتایا، ہم اب بھی بات چیت کر رہے ہیں، بغیر کسی نام کے ذرائع سے جاری شدہ خبریں مستند نہیں ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔