- پسند کی شادی سے متعلق چیف جسٹس کے ریمارکس پر وضاحتی بیان جاری
- بلوچستان بڑی تباہی سے بچ گیا، گاڑی سے اسلحے کی بڑی کھیپ اور دھماکا خیز مواد برآمد
- نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے شہریوں کے مسائل جاننے کیلیے ای کچہری کا انعقاد
- ایشین گیمز مینز اسکواش ٹورنامنٹ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے دی
- ورلڈکپ میں شرکت کیلئے قومی کرکٹ ٹیم بھارت پہنچ گئی
- مارکیٹ میں غیر معیاری آئی ڈراپس کی موجودگی کا انکشاف
- ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے متحد ہیں، آرمی چیف
- سرچ انجن ’گوگل‘ 25 برس کا ہوگیا
- بھیڑوں کا ریوڑ 272 کلو بھنگ چٹ کر گیا
- بیت المقدس کو ہی فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے، سعودی عرب
- شمالی کوریا نے سیاہ فام امریکی فوجی کو پناہ دینے کے بجائے ڈیپورٹ کردیا
- گذشتہ مالی سال ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی مالیت میں 81 فیصد اضافہ ہوا،اسٹیٹ بینک
- بیرون ملک میں 90 فیصد گرفتار بھکاریوں کا تعلق پاکستان سے ہے، رپورٹ
- کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کا اعلان: بابر، رضوان اور شاہین اے کیٹیگری میں شامل
- ہردیپ سنگھ قتل کیس میں بھارت نے کینیڈا سے تعاون پر آمادگی ظاہر کردی
- صحت کے لیے مفید برتنوں کا انتخاب کیسے کریں؟
- میٹا نے پاکستان میں عام انتخابات سے متعلق حکمت عملی کا اعلان کردیا
- کراچی سمیت سندھ بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز2 اکتوبر سے ہوگا
- ڈرون حملے میں زخمی بحرینی فوج کا اہلکار چل بسا؛ تعداد 3 ہوگئی
- پاکستان ریلویز پولیس نے آفیشل ویب سائٹ لانچ کردی
آئی ایم ایف بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری، پاکستان کا معاملہ شامل نہیں

ڈیڈ لاک کے باوجودحکومت30 جون تک اسٹاف سطح کے معاہدے کیلیے پرامید۔ فوٹو: فائل
اسلام آباد: آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا گیا جب کہ پاکستان کا معاملہ شیڈول میں شامل نہیں ہے۔
آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کے اہداف سے متعلق تخمینہ جات پر اختلافات برقرار ہیں۔
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا 14جون تک کا نیا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے اور اسٹاف سطح کا معاہدہ تاحال نہ ہونے کے باعث پاکستان کا معاملہ شیڈول میں شامل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معاہدے میں ڈیڈ لاک برقرار، آئی ایم ایف زیادہ سے زیادہ ٹیکسز لگانے پر بضد
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی پر ڈیڈ لاک برقرار ہے تاہم حکومت30 جون تک اسٹاف سطح کے معاہدے کیلیے پر امید ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکس ہدف9800 ارب روپے تک لے جانے پر زور دے رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ کی جانب سے سالانہ ٹیکس ہدف9200 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔