وزیراعظم کی ہدایت پر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے مظاہرہ کرنیوالے گرفتار افراد رہا، 2 اے ایس پیز معطل

ویب ڈیسک  پير 28 اپريل 2014
وزیر داخلہ چوہدری نثار نے وزیر اعظم کی ہدایت پر اے ایس پی سٹی اور اے ایس پی سیکریٹریٹ کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے معطل کردیا۔   فوٹو: آئی این پی

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے وزیر اعظم کی ہدایت پر اے ایس پی سٹی اور اے ایس پی سیکریٹریٹ کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے معطل کردیا۔ فوٹو: آئی این پی

اسلام آباد: ڈی چوک پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے مظاہرہ کرنے والے اہل خانہ پر پولیس نے لاٹھیوں اور آنسو گیس کی برسات کردی جس کے نتیجے میں خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کےمطابق لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے اسلام آباد کے ڈی چوک پر مظاہرہ کیا جارہا تھا تاہم اعلیٰ حکام کی جانب سے مذاکرات نہ کئے جانے پر مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس جانے کی کوشش کی جس پر پولیس اہلکاروں نے انہیں روکنے کے لئے ان پر لاٹھی چارج شروع کردیا جس پر مظاہرین مشتعل ہوگئے، پولیس نے انہیں منتشر کرنے کےلئے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی  جس کے نتیجے میں خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس نے اس دوران آمنہ مسعود جنجوعہ سمیت کئی خواتین کو حراست میں لے کر تھانہ سیکریٹریٹ اور تھانہ خواتین منتقل کردیا تاہم وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر  تمام مظاہرین کو رہا کردیا گیا۔ نواز شریف کا تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہنا تھا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے اور نہتے مظاہرین پر پولیس کا تشدد اور غیر مناسب سلوک ناقابل برداشت ہے جب کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اے ایس پی سٹی اور اے ایس پی سیکریٹریٹ کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہیں معطل کردیا اور ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ مظاہرین پر تشدد کی تحقیقات کی جائیں۔

دوسری جانب آمنہ مسعود کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑوں گی اور ہر لاپتہ شخص کے لئے آواز اٹھاؤں گی،وزیراعظم کے حکم کے باوجود ہمارے تمام ساتھی رہا نہیں کئے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ  کسی سے ٹکرانا نہیں چاہتے ہمیں صرف انصاف فراہم کیا جائے اورجہاں تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کی بات ہے تو وہ  صورت دیا جائے، پولیس نے  گرفتاری کے وقت  قبضے میں لئے گئے ہمارے لیپ ٹاپ،پیاروں کی تصاویر سمت دیگر سامان واپس نہیں کیا

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔