جرمنی میں عیش پرست لڑکی اپنا نوزائیدہ بچہ قتل کرکے کلب چلی گئی

ویب ڈیسک  منگل 6 مئ 2014
ظالم ماں نے بچے کو مارنے کے بعد اس کی لاش دریا میں پھینک دی تھی۔ فوٹو؛ فائل

ظالم ماں نے بچے کو مارنے کے بعد اس کی لاش دریا میں پھینک دی تھی۔ فوٹو؛ فائل

برلن: جرمنی میں عیاش ماں نے اپنی زندگی کی راہ میں رکاوٹ جان کراپنے بچے کو پیدا ہونے کے آدھے گھنٹے بعد ہی گلا کاٹ کر قتل دیا اوراس کی لاش دریا میں پھینک کر خود ڈسکو چلی گئی۔

جرمنی کی ریاست بویریا کے شہر ریگنسبرگ کی نادین کوئنیگ نامی 20 سالہ لڑکی الزام ہے کہ گزشتہ برس اس نے ایک بچے کو جنم دیا جس کا اس کے والدین کو بھی علم نہ تھا، پیدائش کے آدھے ہی گھنٹے بعد اس نے اپنے بچے کو چھری سے گلا کاٹ کر قتل کردیا اور اس کی لاش دریا میں پھینک کر ڈسکو کلب چلی گئی، پولیس نے بچے کی لاش ملنے کے 12 روز بعد شواہد کی مدد سے خاتون کو حراست میں لیا تھا جس کے بعد اس پر بچے کے قتل کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔

وکیل استغاثہ نے اپنے دلائل میں کہا  کہ دنیا میں آنے والا بچہ نادین کوئنیگ کے لئے بہت بڑی ذمہ داری تھا جس سے عہدہ برا ہونا اس کے بس میں نہیں تھا اور اس بچے کی وجہ سے نا صرف اس کی زندگی پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہوتے بلکہ اس کی عیش پرستی پر بھی قدغن لگ سکتی تھی۔

لڑکی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اسے خدشہ تھا کہ وہ جس طرح کی عیش و عشرت سے بھرپور زندگی گزار رہی ہے مستقبل میں اس کا بچہ اس میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔