قومی اسمبلی نے سیکریٹ ایکٹ میں ترامیم منظور کرلیں

ویب ڈیسک  منگل 1 اگست 2023
(فوٹو : فائل)

(فوٹو : فائل)

 اسلام آباد: قومی اسمبلی نے سیکریٹ ایکٹ 1923ء میں ترامیم کا بل منظور کرلیا جس میں زمانہ جنگ کے ساتھ زمانہ امن کو بھی شامل کیا جاسکے گا، حکومت کو حالت امن میں بھی کسی بھی جگہ، علاقے، بری یا بحری راستے کو ممنوعہ قرار دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرام درانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضٰی جاوید عباسی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ء میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ وفاقی وزیر نے اسے ضمنی ایجنڈے کے طور پر پیش کیا۔

بل کے تحت قابل گرفت دستاویز کی تعریف

بل کے مندرجات کے تحت تحریر شدہ، غیر تحریر شدہ، ورچوئل، الیکٹرانک یا ڈیجیٹل مسودے کو بھی دستاویز میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دفاع پاکستان سے متعلق دفاتر ممنوعہ مقامات میں شامل

ملٹری استعداد اور صلاحیت یا اسلحہ، گولہ بارود کی خرید و فروخت سے متعلق معاملات کو بھی ایکٹ میں شامل کرنے، انٹیلی جنس ایجنسی کی تعریف میں آئی بی کے ساتھ آئی ایس آئی کو بھی شامل کرنے، ممنوعہ مقامات کی تعریف میں دفاع پاکستان سے متعلق دفاتر، کیمپ آفسز اور عمارت کے کسی بھی حصے کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حالت امن میں بھی کسی علاقے، بری و بحری راستے کو ممنوعہ قرار دیا جاسکے گا

ایکٹ کے تحت زمانہ جنگ کے ساتھ زمانہ امن کو بھی شامل کرنے کی تجویز ہے، بل کے تحت حکومت کو کسی بھی اہم بنیادی ڈھانچے کو نوٹی فکیشن کے ذریعے ممنوعہ علاقہ قرار دینے کا اختیار دینے کی تجویز ہے، ذرائع مواصلات میں بری اور بحری راستوں کے ساتھ فضائی راستے بھی شامل کرنے کی تجویز ہے۔

مسلح افواج کے زیر استعمال عارضی جگہیں بھی ممنوعہ قرار ہوں گی

مسلح افواج کی جانب سے وار گیمز، مشقوں، تربیت، تحقیق یا ترقی، افواج کی نقل و حرکت، ان کیمرا بریفنگ کے لیے عارضی طور پر استعمال کیے جانے والے مقامات کو بھی ممنوعہ مقام قرار دینے کی تجویز ہے، اندرون یا بیرون ملک محفوظ معلومات یا اثاثوں کے حامل کسی بھی مقام، اراضی، عمارت یا جائیداد کو ممنوعہ مقام قرار دینے کی تجویز ہے۔

پاکستان کے مفادات کے خلاف کسی بھی مقام تک رسائی ممنوعہ ہوگی

کوئی بھی ایسا مقام جس تک رسائی یا اس کا استعمال پاکستان کے مفادات یا تحفظ کے خلاف ہو اسے ممنوعہ مقام قرار دیا جا سکے گا، کوئی بھی شخص جو بالواسطہ یا بلاواسطہ، ارادتاً یا غیر ارادی طور پر کسی غیر ملکی قوت، ایجنٹ، غیر ریاستی عناصر، اداروں یا گروپ کے لیے کام کرے گا اسے دشمن سمجھا جائے گا۔

ممنوعہ قرار دیے گئے مواد، نیٹ ورک، مقام تک براہ راست اور الیکٹرانک رسائی غیرقانونی ہوگی

کسی بھی ممنوعہ قرار دیے گئے مقام، انفارمیشن سسٹم، نیٹ ورک یا ڈیٹا تک براہ راست، الیکٹرانک یا ورچوئل رسائی کو غیر قانونی رسائی تصور کیا جائے گا، ممنوعہ قرار دیے گئے مقام تک رسائی، اس میں داخلہ، حملہ کرنا، تباہی پھیلانا جرم تصور کیا جائے گا۔

ممنوعہ قرار دیے گئے سرکاری پاس ورڈ، ڈیوائس کا حصول، ریکارڈ شائع کرنا جرم ہوگا

ممنوعہ قرار دیے گئے مقام کا اسکیچ بنانا، پلان یا ماڈل تیار کرنا جس سے دشمن کو فائدہ پہنچ سکے قابل سزا جرم تصور کیا جائے گا، کوئی بھی سرکاری کوڈ یا پاس ورڈ، الیکٹرانک ڈیوائس حاصل کرنا، ریکارڈ شائع کرنا یا کسی کو بتانا جرم تصور کیا جائے گا۔

الیکٹرانک ڈیوائس کے ذریعے مواد تک رسائی جرم قرار

کسی الیکٹرانک ڈیوائس کے ذریعے یا اس کے بغیر پاکستان کے اندر یا باہر سے دستاویز یا معلومات تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنا جرم تصور کیا جائے گا۔

فورسز کی استعداد، اسلحہ و آلات، مینٹی ننس و اسٹوریج کی معلومات تک رسائی جرم ہوگی

فورسز کی استعداد، اسلحہ یا آلات کی ایجاد، تحقیق، ترقی، پیداوار، مینٹی ننس، آپریشن یا اسٹوریج سے متعلق معلومات حاصل کرنا یا کسی کو بتانا جرم تصور کیا جائے گا۔

ملک کے اندر یا باہر فارن ایجنٹ سے رابطہ ملک دشمنی ہوگا

پاکستان کے اندر یا باہر کسی بھی فارن ایجنٹ کے پتے پر جانے یا اس سے منسلک ہونے کو دشمن سے رابطہ سمجھا جائے گا۔ پاکستان کے اندر یا باہر کسی بھی شخص سے دشمن یا فارن ایجنٹ کا نام یا پتا ملنے کی صورت میں بھی اسے دشمن سے رابطے میں سمجھا جائے گا۔

خفیہ اہل کاروں، مخبر یا ذرائع کی شناخت بتانا جرم ہوگا

خفیہ اداروں سے منسلک اہل کاروں، مخبر یا ذرائع کی شناخت ظاہر کرنے والے کو مجرم تصور کیا جائے گا۔ شناخت ظاہر کرنے والے کو تین سال تک قید یا 10 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ شناخت ظاہر کرنے والے کی معاونت کرنے، سازش کرنے یا شناخت ظاہر کرنے کی کوشش کرنے والے کو بھی یہی سزا دی جا سکے گی۔

شک کی بنا پر خفیہ ادارے کسی بھی مقام یا شخص کی بغیر وارنٹ تلاشی لے سکیں گے

ایکٹ کے تحت کوئی بھی جرم سرزد ہونے یا جرم کا شک ہونے پر خفیہ ادارے کسی بھی مقام یا شخص کی بغیر وارنٹ تلاشی لے سکیں گے۔

خفیہ ادارے کا افسر گرفتار شخص یا ضبط شدہ سامان کو تحقیقاتی افسر یا جے آئی ٹی کو دیے کا پابند ہوگا

ایکٹ کے تحت گرفتار کیے گئے شخص یا قبضے میں لیے گئے سامان کو خفیہ ادارے کا افسر تحقیقاتی افسر یا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو دینے کا پابند ہوگا۔ ایکٹ کے تحت تفتیشی افسر ایف آئی اے کا گریڈ 17 یا اس سے زائد کا افسر ہوگا۔

جے آئی ٹی 13 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کی پابند ہوگی

ایکٹ کے تحت تفتیشی افسر یا جے آئی ٹی 13 روز کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کے پابند ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : قومی اسمبلی؛ یونیورسٹیوں کے قیام کے بلز پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میں الجھ گئے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔