آئی ایم ایف کے بغیر بھی ڈیفالٹ نہ کرتے، اسحاق ڈار

نمائندہ ایکسپریس  ہفتہ 5 اگست 2023
آئی ایم ایف کے ساتھ بیرونی فنانسنگ کی وجہ سے معاملات تاخیر کا شکار ہوئے، وفاقی وزیر خزانہ (فوٹو : فائل)

آئی ایم ایف کے ساتھ بیرونی فنانسنگ کی وجہ سے معاملات تاخیر کا شکار ہوئے، وفاقی وزیر خزانہ (فوٹو : فائل)

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اگر آئی ایم ایف پروگرام نہ بھی ہوتا تو پاکستان ڈیفالٹ نہ کرتا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتویں جائزے کی شرائط سے انحراف کیا، موجودہ حکومت نے ساتویں اور آٹھویں جائزے کو اکھٹا کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بیرونی فنانسنگ کی وجہ سے معاملات تاخیر کا شکار ہوئے، اگر آئی ایم ایف پروگرام نہ بھی ہوتا تو پاکستان ڈیفالٹ نہ کرتا، پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے بغیر پلان بی موجود تھا،آئی ایم ایف پروگرام میں نہ ہوتے تو نیا ٹیکس نہ لگاتے،مگر اب مجبوری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلیے آئی ایم ایف سے رجوع کیا، وزیراعظم

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر آئی ایم ایف معاہدہ موجود ہے، ٹیبل ٹو میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان کسی قسم کی ٹیکس ایمنسٹی نہیں دے گا۔

اجلاس قیصر احمد شیخ کی زیر صدار ت ہوا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ بجٹ جب 9 جون کو پیش کیا گیا تو کہا گیا تھا کہ نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے جب آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کے دوران معاہدے کیلئے نئے ٹیکس لگائے، گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدے سے انحراف کیا جس کی وجہ سے پاکستان کو آئی ایم ایف سمیت کسی ادارے سے قرض نہ ملا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔