کسٹمز افسران کا رشوت کے عوض اسمگلنگ کی اجازت دینے کا انکشاف

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 5 اگست 2023
افسران نے پوش علاقوں میں مہنگی جائیدادیں خریدیں، واٹس ایپ گروپ کا بھی انکشاف۔ فوٹو فائل

افسران نے پوش علاقوں میں مہنگی جائیدادیں خریدیں، واٹس ایپ گروپ کا بھی انکشاف۔ فوٹو فائل

کراچی: کسٹمز افسران کا رشوت کے عوض اسمگلنگ کی اجازت دینے کا میگا اسکینڈل، کسٹمز افسران کا رشوت کی رقم سے پوش علاقوں میں مہنگی جائیدادیں خریدنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

کسٹم افسران کے حوالے سے ایف آئی اے حکام کی جانب سے عبوری چالان میں انکشاف ہوا ہے کہ کسٹمز کے 3 ڈائریکٹرز کو کروڑوں روپے نقد اور رشوت کی رقم سے 61 تولہ سونا خرید کر دیا گیا، کروڑوں روپے ماہانہ رشوت ڈیزل، چھالیہ، کپڑے، ایرانی جوسزاورچاکلیٹس کی اسمگلنگ کے عوض وصول کی گئی۔

اسمگل اشیا کی حامل گاڑیوں کی پاکستان بھر میں کلیئرنس کے لیے واٹس ایپ گروپ کا بھِی انکشاف ہوا ہے، گاڑیوں کی کلیئرنس کے لیے ہدایت اجرا پر مبنی واٹس ایپ گروپ میں کئی فیلڈ افسران بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایک ہفتہ سے لاپتا پاکستان کسٹمز کے افسران گرفتار؛ اسمگلرز کی پشت پناہی کے انکشافات

گروپ میں درج نمبرز کی حامل گاڑیوں کو 386 کسٹمز انٹیلیجنس اور فیلڈ افسران کلیئِرنس دیتے رہے،گروپ چلانے والا کسٹم افسراسمگل شدہ ڈیزل پر فی لیٹر 3 روپے وصولی کی رقم بھی افسران کو روانہ کرتا رہا، افسران کو حوالہ کے ذریعے بیرون شہر بھی رشوت کی رقم منتقل کی گئی، رشوت وصولی پرمامور افسران نے بھِی کروڑوں روپے وصول کیے۔

واضح رہے کہ رشوت کے عوض اسمگلنگ میں ملوث 2 درجن کے قریب اسمگلرز میں سے کوئی گرفتار نہ ہو سکا، ایف آئی آر میں درج ملزمان کے علاوہ مزید کسی اہلکارکو ایف آئی اے گرفتار کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔