مفت میں بدنامی اپنے نام کی

ڈاکٹر منصور نورانی  پير 7 اگست 2023
mnoorani08@hotmail.com

[email protected]

جمہوری نظام حکومت میں سیاسی پارٹیاں عام طور سے کسی عارضی سیٹ اپ کا حصہ بننے سے کتراتی رہتی ہیں۔

سال ڈیڑھ سال کے لیے کوئی بھی حکومتی ذمے داریاں سنبھالنے کو تیار نہیں ہوتا ہے اور وہ بھی ایسے حالات میں جب معیشت تباہی کے دہانے پرکھڑی ہو اور ملک اندر سے دیوالیہ ہوچکا ہو، بس صرف اس کے اعلان کی دیر ہو۔

ایسے میں توکوئی بھی سیاسی پارٹی یہ رسک لینے کو ہرگز تیار نہیں ہوتی ہے مگر ہمارے یہاں دیکھا گیا کہ میاں شہباز شریف نے اپریل 2022  میں یہ رسک لے کر نہ صرف خود کو بلکہ ساری پارٹی کو داؤ پر لگا دیا۔ اُن کے اس فیصلے میں بڑے میاں صاحب کی کتنی آشیر واد اور منظوری شامل تھی، اس کی کچھ شنید الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے لوگوں کو ملتی رہی ہے۔

سنا ہے بڑے میاں صاحب ابتدا میں یہ رسک لینے کو قطعاً تیار نہ تھے، لیکن بعد ازاںآصف علی زرداری کے کہنے اور نادیدہ قوتوں کے اشاروں پر انھوں نے بھی اس پر اپنی رضا مندی کی مہر لگادی، یہ ایک بہت ہی خطرناک رسک تھا۔

برسوں کی کمائی ہوئی عزت اور عوامی پذیرائی کو انھوں نے صرف چند ماہ کی حکومت کے لیے داؤ پر لگا دیا، اس کے بعد جو ہونا تھا وہ ہمارے سامنے ہے۔ زبوں حالی کا شکار معاشی حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور ملک ڈیفالٹ ہونے کے یقینی دہانے پر پہنچ گیا۔ یکے بعد دیگرے وزیر خزانہ تبدیل کیے جاتے رہے اورکسی سے بھی صورت حال بہتر نہ ہوسکی۔

ابتدا میں اسحقٰ ڈار یہ سمجھ رہے تھے کہ اُن کی پرانی دوستیاں اور وابستگیاںIMF سے ان کی ڈیل میں کارآمد ثابت ہونگی اور وہ اپنے پرانے تجربے کی بدولت یہ معرکہ بھی سر کرلیں گے، مگر اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا۔IMF ہمیں ناک رگڑوانے پر تلا ہوا تھا۔

جتنی ایڑھیاں ہم نے اس کے آگے رگڑیں ہیں، آج سے پہلے کبھی بھی نہیں رگڑی تھیں۔ اتنی منت سماجت ہم اگر اپنے پروردگار کے سامنے کرتے تو شاید یہ مشکل آسان ہوجاتی مگر ہم نے زمینی خداؤں کو اپنا ان داتا اور مشکل کشا سمجھ لیا تھا، جس کا شاخسانہ ہمیں اس بار خوب بھگتنا پڑا۔

مسلم لیگ اس عارضی حکومتی ذمے داریوں کے بوجھ کو یہ کہہ کر عوام کو اور خود کو تسلیاں تو ضرور دیتی ہے کہ ہم نے سیاست کے بجائے ریاست بچانے کے لیے یہ سب کچھ کیا ہے، لیکن اندر سے وہ بخوبی جانتی ہے کہ اس کا یہ فیصلہ ہرگز درست نہ تھا۔

عوام اس کی یہ توجیح قبول کرنے اور ماننے کو ہرگز تیار نہیں ہیں۔ وہ اس وقت جس معاشی بدحالی کا شکار ہیں، اس کا اندازہ وہ خود ہی کرسکتے ہیں۔ انھیں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ تیس چالیس ہزار روپے ماہانہ کمانے والا بھی آج اس وقت بہت پریشان ہے۔ وہ اس آمدنی سے یا تو گھرکا کرایہ دے سکتا ہے یا بھی روزمرہ کے اخراجات پورے کرسکتا ہے۔ بچوں کے اسکولوں کی فیس اور بجلی کے بل وہ اس آمدنی سے ہرگز ادا نہیں کرسکتا ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ حکومت اس کی ان مجبوریوں سمجھ نہیں پاتی۔ وہ IMF سے شرائط طے کرتے ہوئے ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے غریب لوگوں کی حالت زارکا خیال کر لیتی تو شاید ایسا معاہدہ کرنے کے بجائے استعفیٰ دینے کو ترجیح دیتی۔IMF اپنی شرائط منواتے ہوئے کبھی یہ نہیں سوچتا کہ اس ملک کی فی کس آمدنی کیا ہے۔

وہ تو صرف ہماری مجبوریوں سے فائدہ اُٹھانا جانتا ہے۔ ہم جتنے مفلوک الحال ہونگے وہ اتنا ہی سخت اور زور آور ہوتا جائے گا۔ وہ تو چاہتا ہی یہی ہے کہ ہم اس کے آگے گڑگڑاتے رہیں منت و سماجت کرتے رہیں اور اپنے بڑے بڑے اہم منصوبے ترک کر کے خود کو اس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں۔ ہمارے عوام اس وقت ایک لٹر پٹرول پر تقریباً سو روپے ٹیکس کی مد میں ادا کر رہے ہیں۔

دو سال پہلے ایک روپیہ بھی ٹیکس نہیں تھا، مگر اب ڈالر مہنگا ہونے اور سو روپے ٹیکس کی وجہ سے یہ پٹرول 273 روپے فی لٹر مل رہا ہے۔ حکومت IMFکو خوش کرنے کے لیے اس کے مطالبوں سے بڑھ کر ٹیکس میں اضافہ کیے جا رہی ہے۔

خان صاحب کے دور میں پٹرول پر 35 روپے لیوی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا وہ بھی 4 روپے ماہانہ کی شکل میں لیکن اسحقٰ ڈار نے اسے50اور60روپے تک پہنچا دیا۔ اسی طرح معاہدہ سائن ہونے سے پہلے قوم کو بتایا گیا کہ ہم نے اُن کی تمام شرائط تسلیم کر لی ہیں، مگر پھر معاہدہ سائن ہونے کے بعد بھی بجلی کی قیمت 5 سے 7روپے فی یونٹ بڑھا دی گئی اور وجہ ایک بار پھرIMFکی شرائط بتائی گئی۔

حکومت کو ذرا بھی احساس نہیں کہ اس ملک کے غریب عوام اس مہنگائی میں کیسے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ دنیا میں سب سے مہنگی بجلی ہم استعمال کر رہے ہیں، یہی حال پٹرول کا بھی ہے۔ باقی اشیائے ضروریہ کا حال تو مت پوچھیے۔

آٹا اور چینی جو ہماری اپنی پیداوار ہے اور اس کو مہنگا کرنے کے لیے IMF کی کوئی شرط بھی لاگو نہیں ہے تو پھر اسے کیوں مہنگا کیا جا رہا ہے۔؟ چینی پچھلے دنوں یک دم سو سے 150 روپے فی کلو پہنچ گئی اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ ایسا لگتا ہے اس میں بھی اس کی مرضی و منشاء شامل ہے۔ ایک وقت کی روٹی اور سالن فی کس کم سے کم 200 روپے میں دستیاب ہے ، پھرکس طرح پانچ چھ افراد پر مشتمل ایک گھرانہ اپنے ماہانہ اخراجات پورے کرسکتا ہے۔

حکومت کی بے حسی اور لاتعلقی بتا رہی ہے کہ اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ ایک عام آدمی کس طرح زندگی گذر بسر کر رہا ہے۔ اسے صرف عالمی مالیاتی اداروں کی خوش کرنے کی فکر لاحق ہے۔ ریاست بچانے کے شوق میں اس نے غریب عوام کا جو حشر نشر کر دیا ہے اس کے بعد بھی نجانے وہ کیسے توقع کر رہی ہے کہ آیندہ انتخابات میں عوام اسے ہی منتخب کریں گے، عوام اس وقت اس سے بہت ہی نالاں ہیں۔

شہباز شریف کی اس عارضی حکومت نے تو خان صاحب کے دور سے بھی زیادہ مہنگائی کے پہاڑ توڑے ہیں۔ حکومت نے ایسا کونسا کام کیا ہے جسے دیکھتے ہوئے لوگ اسے ایک بار پھر ووٹ دے کر اپنا حکمراں بنا لیں گے۔ اس حکومت نے تو مسلم لیگ نون کی ساری کمائی اور مقبولیت کو ٹھکانے لگا دیا ہے۔ ریاست کو تباہی کے دہانے پر کس نے پہنچایا۔

مسلم لیگ کے بقول یہ کام اگر خان صاحب کی حکومت نے کیا تھا تو اسے اس تباہی کے چنگل سے نکالنے کا ٹھیکہ مسلم لیگ ہی نے کیوں اپنے ذمے لیا۔ یہ درست ہے کہ جب میاں نواز شریف کو 2017 میں اقتدار سے جبراً بیدخل کیا گیا تھا اس وقت ملکی معیشت اتنی دگر گوں نہیں تھی۔ اس وقت ڈالر111 روپے کا تھا۔

آٹا35 روپے فی کلو اور چینی 53 روپے میں باآسانی دستیاب تھی۔ عوام سکھ چین کی زندگی بسر کر رہے تھے، مگر پاناما کیس کے بہانے جس دن سے میاں صاحب کو معزول کیا گیا، وہ دن ہے اور آج کا دن، ہم مسلسل انحطاط پذیری کی طرف تیزی سے گامزن ہیں۔

سیاسی افق پر بھی مایوسی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ الیکشن کے بعد بھی حالات کے سدھرنے کی کوئی آس و امید نہیں ہے۔ ایسے میں پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کا ٹرن آوٹ یقیناً اُن کی مایوسیوں کی نشان دہی کررہا ہوگا۔ اِن پندرہ ماہ کی حکومت میں مسلم لیگ نے کوئی نام نہیں کمایا ہے بلکہ گنوایا ہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بڑے میاں صاحب یہاں واپس آنے سے مسلسل کترا رہے ہیں۔ اُن کی واپسی اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب الیکشن میں ایک بار پھر مسلم لیگ کامیاب ہوجائے اور وہ نئی حکومت بھی بنالے تبھی جا کے میاں صاحب کی واپسی کی راہیں استوار ہوسکتی ہیں، اورجس کا امکان بہت کم ہے۔ اس سے پہلے اُن کا واپس آنا ان کے لیے مزید مشکلوں کا باعث بن سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔