سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا ڈیجیٹل مردم شماری فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

ویب ڈیسک  پير 7 اگست 2023
الیکشن کمیشن 90 روز میں الیکشن کروانے کا پابند ہے،ایسوسی ایشن:فوٹو:فائل

الیکشن کمیشن 90 روز میں الیکشن کروانے کا پابند ہے،ایسوسی ایشن:فوٹو:فائل

 اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن  کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری کا فیصلہ جلد سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ملک بھر میں آئین کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے لیے پرامن احتجاج کی کال دے گی۔

مزید پڑھیں: ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری پرحکومتی و اپوزیشن سینیٹرز کا احتجاج

سپریم کورٹ بار نے 2023 کی مردم شماری کے تحت انتخابات کرانے کے حکومتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی فیصلہ انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کا سبب بنے گا۔ بروقت انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ الیکشن کمیشن آئینی طور پر 90 روز میں انتخابات کرانے کا پابند ہے۔

مزید پڑھیں: مردم شماری منظوری، وزیرقانون نے عام انتخابات میں پانچ ماہ تک تاخیر کا اشارہ دے دیا

اعلامیے کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل اور وفاقی حکومت کے فیصلوں میں نگران وزیراعلیٰ کی شمولیت غیر آئینی ہے۔ نگراں حکومت کا کام صرف شفاف انتخابات کرانا ہے۔ انتخابات میں تاخیر کرنے کے ایسے حربے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ آبادی میں اضافے کی بنیاد پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد میں اضافے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے۔

مزید پڑھیں: سی سی آئی نے ڈیجٹیل مردم شماری کے نتائج کی منظوری دے دی

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر شفاف انتخابات کے لیے کردار ادا کریں۔  شفاف انتخابات سے ہی جمہوریت، استحکام اور قانون کی حکمرانی ہوگی۔ سپریم کورٹ بار آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے لیے اپنی جدو جہد جاری رکھے تاکہ ملک میں بروقت انتخابات ہو سکیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔