جیو اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کے پیچھے دبئی تک جاؤں گا، عمران خان

ویب ڈیسک  بدھ 7 مئ 2014
عدلیہ کا احترام کرتے ہیں  اس کے خلاف کسی بھی کارروائی کی مخالفت کریں گے، عمران خان فوٹو: ایکسپریس

عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اس کے خلاف کسی بھی کارروائی کی مخالفت کریں گے، عمران خان فوٹو: ایکسپریس

لاہور: چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ جیو اور جنگ گروپ ان کی کردار کشی کررہا ہے لیکن وہ ان کا مقابلہ کریں گے اور میر شکیل الرحمان کے پیچھے دبئی تک جائیں گے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے کہا کہ انہوں نے 11 مئی کے انتخابات میں 4 حلقوں سے حصہ لیا، 3 میں کامیابی حاصل کی اور 2 میں ریکارڈ ووٹ لئے۔ خیبر پختونخوا کے ہرحلقے میں دوبارہ ووٹنگ کرانے کے لئے تیار ہیں، ہمارا مطالبہ تھا کہ این اے 122 سمیت ملک کے صرف 4 حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کرائی جائے، لاہور ہائی کورٹ صرف اس لئے آئے ہیں کہ سب کے سامنے حقائق رکھ سکیں۔ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور اس کے خلاف کوئی بھی کارروائی ہوئی تو تحریک انصاف مخالفت کرے گی۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے لئے قوم ان کے لئے دو مرتبہ صرف اس لئے  باہر نکلی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ملک میں حقیقی جمہوریت آئے گی لیکن ان ہی کی موجودگی میں ملک میں سب سے زیادہ دھاندلی والے انتخابات ہوئے اس وجہ سے وہ ان سے مایوس ہوئے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دھاندلی والے الیکشن کے ذریعے جھوٹے مینڈیٹ پر کسی حکومت کا اپنے آپ کو جمہوری کہنا مناسب نہیں۔ جمہوریت تو اس وقت ڈی ریل ہوگی جب ملک میں جمہوریت کا وجود ہوگا۔ این اے 118 پر ووٹوں کی گنتی کے جو نتائج سامنے آئے ہیں اس کے مطابق ایک لاکھ  70 ہزار ووٹوں میں سے 90 ہزار میں مہریں ہی نہیں لگی ہوئیں، دیگر 80 ہزار میں سے 40 ہزار ووٹوں کی شناخت ہی نہیں ہوسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا مینڈیٹ چوری کرنے والوں کو آرٹیکل 6 کے تحت سزا نہیں دی جائے گی اس وقت تک ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آئے گی۔ وہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کرتے ، صاف اور شفاف انتخابات ہمارا حق ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص جیو اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی راہ میں رکاوٹ بن جائے تو ملک میں جمہوریت اور آزادی صحافت خطرے میں آجاتی ہے۔ میر شکیل الرحمان ان کی کردار کشی کی مہم چلارہے ہیں لیکن وہ ان کا مقابلہ کریں گے اور ان کے پیچھے دبئی تک جائیں گے۔ 11 مئی کو وہ پر امن احتجاج کریں گے، اس دن وہ جو مطالبات پیش کریں گے وہ تحریک انصاف کے نہیں پاکستانی قوم کے ہوں گے اور ان مطالبات کی منظوری کے لئے وقت بھی دیا جائے گا۔ اگر دھاندلی ہی ہونی ہے تو ملک میں انتکابات میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں، اگر احتجاج کے جمہوری حق کو روکنے کی کوشش کی گئی تو پھر حکومت خطرے میں ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔