عمران خان کے وکیل کا ایف آئی اے پر کئی گھنٹے حبس بیجا میں رکھنے کا الزام

ویب ڈیسک  بدھ 9 اگست 2023
چیئرمین پی ٹی آئی کی وکالت کرنا قصور بن گیا ہے، وکیل نعیم پنجوتھہ (فوٹو: ویڈیو گریب)

چیئرمین پی ٹی آئی کی وکالت کرنا قصور بن گیا ہے، وکیل نعیم پنجوتھہ (فوٹو: ویڈیو گریب)

 اسلام آباد: عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ نے ایف آئی اے پر کئی گھنٹے حبس بیجا میں رکھنے کا الزام عائد کردیا۔

ایف آئی اے سائبر کرائمز سیل اسلام آباد میں جج ہمایوں دلاور کی فیس بک پر متنازع پوسٹوں کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی انکوائری  میں طویل پیشی کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھہ کا ویڈیو بیان سامنے آ گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ویڈیو میں انہوں نے ایف آئی اے پر 8 گھنٹے تک حبس بیجا میں رکھے جانے کا الزام عائد کردیا۔

 

نعیم پنجوتھہ نے کہا کہ مجھے ایف آئی اے سائبر کرائم کا نوٹس نہیں ملا، سوشل میڈیا پر دیکھ کر خود وہاں چلا گیا ۔ ایف آئی اے حکام کو بتایا کہ سپریم کورٹ  اور ہائی کورٹ میں پٹیشنز دائر کرنی ہیں۔ اس کے لیے ڈسٹرکٹ جیل اٹک اور  چیئرمین پی ٹی آئی سے بھی ملنے جانا ہے۔ لہٰذا آج کی گنجائش دی جائے ۔ ریکویسٹ کی کہ مجھے ریکارڈ دیا جائے تاکہ اس پر بھرپور طریقے سے جواب دے سکوں ۔

انہوں نے کہا کہ میں کچھ اور سوچ کرگیا لیکن ایف آئی اے میں منظر کچھ اور تھا۔ میری استدعا پر ایف آئی اے حکام نے کہا کہ کچھ اعلیٰ افسران آ رہے ہیں ہیں، بیٹھ جائیں، اس کے بعد آپ کو فارغ کیا جائے گا۔ بتانا چاہتا ہوں یہ انکوائری کا تمام معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر شروع ہوا۔ مجھے ایف آئی اے میں8 گھنٹے سے زائد تک حبس بیجا میں رکھاگیا ۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ میرے سامنے 8 سوالات رکھے گئے، ان کے لیے بھی وقت مانگا کہ مجھے کنسلٹ کرنے دیں، مکمل جوابات دوں گا، لیکن مجھے اجازت نہیں دی گئی۔ کہاگیا کہ جواب ابھی دیں ، آپ کو ابھی اٹیروگیٹ کرنا ہے ۔ یہ بھی کہاگیا کہ پی ٹی آئی آفیشل پیجز پر آپ کا بیان چلتا ہے، پوسٹیں لگتی ہیں ۔ جواب دیا بالکل لگتی ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو بطور وکیل ڈیفینڈ کرتا ہوں، کیایہ میرا قصور ہے ؟۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مجھے 8 گھنٹے تک وہاں پر رکھاگیا، مجھ سے زبردستی سوالات کے جوابات لیے گئے جو میں نے دے دیے۔ اس کے بعد میں نے کہا فارغ کردیں لیکن مجھے کہاگیا جب تک حکم نہ آجائے یہاں سے نہیں جا سکتے اور تذلیل کی گئی ۔ اب پتا چلا ہے کہ سنیئر ایڈووکیٹ خواجہ حارث کو بھی انہوں نے نوٹس کردیا ہے ۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا، صرف چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ  کے آرڈر کی وجہ سے ہوا ۔ ہم کلائنٹ کو کسی بھی حوالے سے ڈیفینڈ کرتے ہیں۔ کیا اب وکیل کسی کی وکالت بھی نہ کرے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی وکالت کرنا قصوربن گیا ہے۔ پیچھے نہیں ہٹیں گے کام جاری رکھوں گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔