اسوان؛ مصر کا خوب صورت اور تاریخی شہر

ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی  اتوار 13 اگست 2023
مصر کا خوب صورت اور تاریخی شہر ۔ فوٹو : فائل

مصر کا خوب صورت اور تاریخی شہر ۔ فوٹو : فائل

(ایسو سی ایٹ پروفیسر، عین شمس یونیورسٹی، قاہرہ، مصر)

اسوان کو تاریخی طور پر جنوبی مصر اور اس کے جنوبی دروازے کے اہم ترین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ مصر کا جنوبی گیٹ وے ہے اور دریائے نیل کے مشرقی ساحل پر دریائے نیل کے پہلے آبشار پر واقع ہے۔

اس کا کچھ حصہ نیل کے چاروں طرف میدان میں واقع ہے اور دوسرا پہاڑیوں پر ہے، جو مشرقی صحرائی سطح مرتفع کے کنارے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے جنوب میں دریائے نیل کا پہلا آبشار ہے جو بالائی مصر اور ’نوبیا‘ کے درمیان قدرتی حد کی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ قاہرہ سے ۸۷۹ کلومیٹر دور ہے اور ریلوے، صحرائی اور زرعی زمینی سڑکوں، نیل کی کشتیوں اور گھریلو پروازوں کے ذریعے قاہرہ سے منسلک ہے۔ اسوان ۲۰۰۵ء سے دست کاری اور فنون کے شعبے میں یونیسکو کی فہرست میں رجسٹرڈ تخلیقی شہروں میں سے ایک ہے۔

قدیم مصری زبان میں اسوان شہر کو ’سونو‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، جس کا مطلب بازار ہے۔ جہاں یہ ایک تجارتی علاقہ تھا اور تجارتی قافلوں کا ایک ٹھکانا تھا، وہیں یہ نوبیا آنے اور جانے والے قافلوں کا تجارتی مرکز بھی تھا۔ بطلیما کے دور میں یونانیوں نے اس نام کو بدل کر ’سین‘ رکھ دیا، پھر ’’اقباط‘‘ نے اسے ’سوان‘ کہا۔ اسے سونے کا ملک بھی کہا جاتا تھا، کیوںکہ یہ ’نوبیا ‘ کے بادشاہوں کے لیے ایک بہت بڑا خزانہ یا قبرستان تھا جو وہاں ہزاروں سال سے مقیم تھے۔

اور اسوان کی سرحدیں مشرق میں ’اسنا‘ سے جنوب میں ’سوڈان‘ کی سرحدوں تک ہجرت سے پہلے پھیلی ہوئی تھیں اور اس کے باشندے نوبیان تھے۔ چھٹی صدی عیسوی میں ’نوبیا‘ پر اسلامی فتح کے بعد کچھ عرب قبائل اس میں رہنے لگے۔ عرب کے آنے کے بعد اس کا تلفظ اور نام ’ اسوان‘ پڑا۔

چوںکہ اسوان ملک کی جنوبی سرحد کی نمائندگی کرتا تھا، اس لئے اس کی اہمیت مصر کی پرانی سلطنت کے دور میں شروع ہوئی۔ یہ وسطی بادشاہوں کے دور میں ان فوجوں کے اجتماع کا مرکز بھی تھا، جنہوں نے جنوب میں اپنی حکمرانی کو بڑھانے کی کوشش کی۔

اسوان نے ’ہکسوس‘ کے خلاف جنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ بادشاہ محمد علی نے ۱۸۳۷ء میں مصر میں پہلا ملٹری اسکول قائم کیا۔ دسویں صدی عیسوی میں اسلامی دور میں اسوان کی ترقی ہوئی، جہاں سے بحری جہاز حجاز یمن اور ہندوستان جاتے تھے۔

چھٹی اور ساتویں صدی میں یہ ایک اہم ثقافتی مرکز بھی تھا۔ مصر کے دوسرے شہروں کی طرح اسوان کے زیادہ تر باشندوں نے سُنی مکتبہ فکر اور صوفی طریقوں کے مطابق اسلام قبول کیا۔ ان کا ایک حصہ عیسائیوں سے ہے، جن میں سے زیادہ تر قبطی آرتھوڈوکس ہیں۔

اسوان میں سردیاں مختصر اور گرم ہوتی ہیں۔ موسم سرما بہت دل چسپ اور پُرلطف ہوتا ہے، جب کہ موسم گرما طویل اور بہت گرم ہوتا ہے۔ گرمیوں میں چلچلاتی دھوپ کے ساتھ موسم ناقابل برداشت حد تک گرم ہوتا ہے۔ کم موسمی تغیرات کے ساتھ تمام موسموں میں اسوان کا موسم پورے سال روشن اور دھوپ والا رہتا ہے اور ہر سال بارش نہیں ہوتی ہے۔

درحقیقت پوری دنیا میں اسوان کو مصر کے خوب صورت ترین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جو موسم سرما گزارنے کے لیے بہت مناسب ہے۔ یہاں معتدل آب و ہوا، گرم دھوپ اور سکون جو اس میں ہر جگہ غالب ہے، یہاں تک کہ کشتیاں جو ایک شان دار اور خوب صورت پرسکون انداز میں دریائے نیل پر بہتی ہیں۔

اسوان شہر اور اس کے گردونواح کو ایک سیاحتی اور آثارقدیمہ کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں غیرملکی سیاحوں کی تعداد میں خاص طور پر یورپ اور مشرقی ایشیا سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں ’ پرانا اسوان ڈیم‘ شامل ہے۔

اس کی تعمیر کا کام ۱۸۹۹ء اور ۱۹۰۶ء کے درمیان اسوان میں شروع ہوا۔ اس کا سنگ بنیاد خدیوی عباس حلمی دوم نے رکھا تھا اور ان کے دور میں اس کا افتتاح کیا گیا۔ اس پر ایک سڑک کی تعمیر ہوئی جو دریائے نیل کے مشرقی اور مغربی کناروں کو ملاتی ہے۔یہ ڈیم۲۱۴۱میٹر لمبا،۹ میٹر چوڑا ہے اور اس کے ۱۸۰ دروازے ہیں۔

یہ علاقے میں دست یاب گرینائٹ پتھر سے بنایا گیا ہے۔ اس سائز کا بنایا جانے والا پہلا ڈیم تھا اور اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ڈیم بنایا گیا تھا۔ اس ڈیم کا مقصد دریائے نیل کے سیلاب کے دوران پانی کو محفوظ کرنا ہے، جس کی مدد سے آب پاشی کے لیے ضروری مقدار میں پانی نکالا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ جزیرہ ’ہیسا‘ کو بہت ساری یادگاروں اور فرعونی نقشوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ یہ جزیرہ اسوان شہر کے مشرق میں فیلہ مندر کے قریب، ہائی ڈیم اور اسوان ریزروائر کے درمیان واقع ہے۔ نیوبین کے قدیم ترین جزیروں میں سے ایک ہے۔ یہ نام بادشاہ ہیس کے نام پر ہے، جو ساتویں خاندان کے سب سے اہم بادشاہوں میں سے ایک تھا۔ اس کے ممتاز مقام ہونے کی وجہ سے اسے ایک میلہ منعقد کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

ماضی میں یہ جزیرہ اس شہر میں رہنے والے پادریوں کے لیے قبرستان کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ ساتھ ہی ہم سایہ جزیرہ فیلہ کے باشندوں کے لیے بھی، کیوںکہ یہ پتھر اور لکڑی نکالنے کے لیے ایک قدرتی کان تھی، جنھیں دریا کے پار لے جایا جاتا تھا، تاکہ اہرام کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جزیرے کے گھر چمک دار رنگوں کی وجہ سے چمکتے ہیں۔ یہ چھوٹے پہاڑ کی چٹانوں پر ایک خوب صورت ہم آہنگی کے ساتھ تقسیم کیے گئے ہیں، جو کہیں اور تلاش کرنا مشکل ہے۔ پہاڑ کے پتھروں سے جڑی ہوئی چمک دار رنگ کی تصویریں گھروں کو باہر اور اندر سے آراستہ کرتی ہیں، یہ ایک خوب صورتی اور نفاست بخشتی ہیں، جو دیکھنے والوں کے دلوں کو موہ لیتی ہیں۔

فرعونی، قبطی اور اسلامی ماڈلز اس کے فن تعمیر میں ایک ہم آہنگ خوب صورتی پائی جاتی ہے۔ گھروں کو چاروں طرف سے پہاڑ اور دریا گھیرے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے اس جزیرے کے لوگ آلودگی سے پاک اور خوب صورت صاف ہوا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

یہ بیماریوں سے پاک صحت مند آب وہوا ہے، جس کی وجہ سے یہ گٹھیا اور جوڑوں کے درد کے مریضوں کے لیے ایک صحت بخش مرکز ہے۔ یہ جزیرہ نیل کی مٹی سے مٹی کے برتن بنانے، جزیرے کے لوگوں کی دست کاری اور رنگین موتیوں کے ساتھ نیوبین لوازمات کی تیاری کے لیے بھی مشہور ہے، جنھیں عورتیں پہنتی ہیں۔

اس جزیرے پر بھنڈی، مٹر، کاؤ پیاز، مونگ پھلی اور کھجوروں کی کاشت بھی ہوتی ہے۔ جزیرے کے لوگ کشتیاں بنانے کے لیے بھی مشہور ہیں، جو اس جزیرے سے باہر نکلنے، یا شہر میں داخل ہونے کے لیے نقل و حمل کا واحد ذریعہ ہے۔ اس شہر کے زیادہ تر باشندوں کا پیشہ غیرملکیوں اور سیاحوں کو ماہی گیری اور کشتیاں کرائے پر دینا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ بڑھئی کا پیشہ بھی کرتے ہیں۔

اسوان کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں فیلہ مندر بھی ہے، جو فرعونی مصر کے سب سے مشہور مندروں میں سے ایک ہے۔ یہ دریائے نیل کے وسط میں جزیرہ فیلہ پر واقع ہے، جو کہ مصر کے سب سے اہم دفاعی قلعوں میں سے ایک تھا، لیکن مندر کی تعمیر کے بعد نیل کے سیلاب کے خوف سے ابو سمبل کے مندر اور کلابشا کے مندر کی طرح اگیلیکا جزیرے پر اس کی اصل جگہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔

فیلہ ٹیمپل خاص طور پر تیسری صدی قبل مسیح میں دیوی ’ایزیس‘ کی پوجا کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور یہ بات قابل غور ہے کہ یہ دیوی مصر میں سب سے اہم اور طاقت ور دیوتاؤں میں سے ایک تھی، جس کی پوجا یونانی اور رومانی دونوں ہی کرتے تھے۔

فیلہ جزیرے پر بہت سے مندر ہیں، جن میں سے شاید سب سے اہم اور مشہور مندر تیسرے بادشاہ تحتمس کے تعمیر کردہ ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ مندر جو بادشاہ ’نخت نباف‘ نے تعمیر کیا تھا اور ساتھ ہی رومیوں کے مندر بھی ہیں۔ لفظ فیلہ کے مختلف زبانوں میں کئی معنی ہیں۔

قدیم مصری قبطی زبان میں بیلاک یا بیلاخ میں اس کا مطلب حد یا انتہا ہے، کیوںکہ یہ جنوب میں مصر کی آخری سرحد تھی اس لیے اسے یہ نام دیا گیا، یونانی زبان میں اس کا مطلب محبوب ہے اور عربی زبان میں انس الوجود ہے۔ فیلہ جزیرے پر فرعونی مجسمے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہاں تیس خاندان سے منسلک ’نختنبو اول‘ کا مزار ہے اور رومی اور بطلیمی دور کے ستون ہیں جیسے حتھور کا مندر، امحوٹپ کا مندر اور ٹراجان کا چیپل ہے۔

یہاں ایک بات کا ذکر کرنا ضروری ہے، جب پانچویں صدی عیسوی میں عیسائیت ملک کا سرکاری مذہب بن گیا تو فرعونیوں کے زیادہ تر مندر گرجا گھروں میں تبدیل ہوگئے اور جزیرہ فیلہ ’بشپس‘ میں سے ایک کا مرکز تھا، جس کی وجہ سے عیسائیت جنوب میں مصر اور سوڈان میں نوبیا کی طرف پھیلی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔