کشمیرکی خصوصی حیثیت کی بحالی کا ٹائم فریم بتایا جائے، بھارتی سپریم کورٹ

ویب ڈیسک  منگل 29 اگست 2023
مودی سرکار نے سیاہ قانون کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی، فوٹو: فائل

مودی سرکار نے سیاہ قانون کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی، فوٹو: فائل

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کرنے کے لیے ٹائم فریم اور لائحہ عمل سے متعلق معلومات مانگ لیں۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور بھارت سے انضمام کے خلاف دائر درخواستوں کے دوران اہم ریمارکس دیئے۔

بینچ نے حکومتی وکلا سے پوچھا کہ آپ اٹارنی جنرل کے ذریعے حکومت سے پوچھ کر بتائیں کہ ان کے پاس مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا کوئی لائحہ عمل یا ٹائم فریم ہے۔

ججز نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت کو ہمارے سامنے بیان دینا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر کو مستقل طور پر یونین ٹیریٹری نہیں بنایا جائے گا۔ یہ اقدام عارضی بنیاد پر محدود مدت کے لیے ہے۔

جسٹس چندرچوڑ نے پوچھا کہ کیا پارلیمنٹ کو قومی سلامتی کی ضروریات کے پیش نظر محدود مدت کے لیے کسی ریاست کو وفاق کے زیر انتظام علاقے میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

اس موقع پر حکومتی وکیل نے چندی گڑھ کی مثال بھی دی کہ چندی گڑھ پنجاب سے علیحدہ ہوکر اکائی کی حیثیت سے وفاق کے زیر انتظام آیا اور اب یہ ایک ترقی یافتہ شہر بن چکا ہے۔

یاد رہے کہ مودی سرکار نے آرٹیکل 370 کو معطل کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے وفاق کی اکائی کی تسلیم کیا تھا جس سے ملک کے باقی حصوں کے لوگوں کو یہاں جائیداد خریدنے اور مستقل طور پر آباد ہونے کا حق مل گیا۔

اس طرح مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی آبادی بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

مودی سرکار کے اس سیاہ قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں دائر کی گئی تھیں جنھیں اب ایک ساتھ سنا جا رہا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔