سروش

رفیع الزمان زبیری  منگل 13 مئ 2014

گورنمنٹ کالج میرپور،آزاد کشمیرکا علمی اور تحقیقی مجلہ ’’سروش‘‘ 2012 اپنے مدیر اعلیٰ، پروفیسر غازی علم الدین کی علم دوستی، ادب نوازی، ذوق نفاست اور حسن انتخاب کا آئینہ دار ہے۔ اس مجلے میں جن اصحاب قلم کی تحریریں شامل ہیں ان میں طاؤس بانہالی کا گوجری زبان پر مضمون ہے۔ میں سب سے پہلے اس مضمون کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کہ اس نے کچھ پرانی یادیں تازہ کردیں۔ طاؤس بانہالی میرا دوست تھا۔ ہماری ملاقات کا زمانہ بہت مختصر تھا لیکن اس کی شخصیت کے بہت سے پہلو مجھ پر کھلنے کے لیے کم نہ تھا۔ طاؤس دیوانہ تھا۔ ادب سے اسے محبت تھی، شاعری کا وہ دل دادہ تھا، دوستی میں مخلص، تنقید میں بے لاگ، خطابات زندگی سے بیگانہ، سیدھا سچا انسان جس کی محبت اور وفاداری کا مرکز اس کا وطن کشمیر تھا۔ یہ محبت اس کی رگ و پے میں پھیلی ہوئی تھی۔ گوجری زبان پر اس کا مضمون اہل علم کے لیے ہے، اس سے وابستہ میری یادیں اس کا نام دیکھ کر تازہ ہوگئیں۔

پھر رشید ملک کے مضمون ’’یوم شہدائے جموں‘‘ کو پڑھ کر اس کرب کا احساس تازہ ہوگیا جو ان دنوں روح پر طاری رہتا تھا۔ یادوں کے سلسلے میں ظہیر الحسن جاوید کی ’’سروش‘‘ کے لیے خصوصی تحریر خوب ہے۔

’’مولانا چراغ حسن حسرت سے ظہیر کا تعلق ان کی تحریر سے نمایاں ہے۔ وہ جب اپنی کم عمری کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’میں اکثر سوچتا ہوں کہ بچپن خوشیوں کی مہار پکڑے کہاں چلا گیا۔ محبت کا وہ قافلہ جس کا ہر چھوٹا بڑا جھولیاں بھر بھر کے شفقتیں لٹایا کرتا تھا، کسی وادی میں اتر کر مجھے تنہا چھوڑ گیا۔ ایسے میں دل سے بس یہی آواز اٹھتی ہے۔

اکھاں روندیاں تے بل ہسدے نیں
سجن پیارے دلاں وچ وسدے نیں

ظہیر کا مضمون خالد نظامی سے منسوب ہے جو ان کے قافلہ محبت کے ایک ساتھی تھے۔ خالد ظہیر کے پھوپھی کے لڑکے تھے، ان سے عمر میں بڑے تھے۔ ان کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں ’’بھائی خالد نظامی گورنمنٹ کالج میرپورخاص میں پروفیسر تھے۔ سانولی رنگت، درمیانہ قد، سفید شلوار قمیض، سیاہ کوٹی کے ساتھ سیاہ جوتے پہنتے اور چلتے ہوئے جوتوں کی ٹک ٹک سے سرگم کے سر بکھیرتے رہتے تھے۔ ان کی آواز میں ملاحت تھی۔ وہ نیچے سروں میں گاتے تھے۔ فلمی گیتوں میں وہ طلعت محمود کے گائے ہوئے گانے بڑی خوبی سے نبھاتے۔ وہ جب یہ نعت ’’صبا بہ سوئے مدینہ ‘‘ پڑھتے تو ایک سحر بندھ جاتا۔ پھر ان کا سیف الملوک پڑھنا کمال تھا‘‘۔

ظہیر الحسن کا اصل مضمون جو اس شمارے میں شامل ہے وہ ہے جو انھوں نے اپنے پدر بزرگوار مولانا حسرت اور فیض احمد فیض پر لکھا ہے۔ یہ حسرت اور فیض کے قرب کا خاکہ ہے کہ ایک خاص ادبی ماحول میں ان دونوں کا ایک دوسرے سے کیا تعلق تھا لیکن وہ لکھتے ہیں ’’اپنے تعلق کی اصل تصویر تو ان دونوں بزرگوں نے خود آپ کے لیے مرتب کردی ہے اور وہ تصویر ان خطوط سے واضح ہوتی ہے جو انھوں نے ایک دوسرے کو لکھے ہیں۔ یہ اس وقت لکھے گئے ہیں جب فیض صاحب پنڈی سازش کیس میں سزا کاٹ رہے تھے ‘‘ ظہیر بتاتے ہیں کہ یہ کل چھ خط تھے جو فیض صاحب نے انھیں بھیج دیے تھے۔ مولانا حسرت کے انتقال کے بعد نقوش کے طفیل صاحب ان سے یہ خط لے گئے اور پھر واپس نہیں کیے۔

چراغ حسن حسرت اور فیض کے حلقہ احباب میں پطرس بخاری، تاثیر اور مجید ملک نمایاں تھے۔ ظہیر لکھتے ہیں کہ انھوں نے جب ان لوگوں کو پہلی بار دیکھا تو وہ دہلی میں ان کی کوٹھی کے لان میں بیٹھے کشمیری چائے پی رہے تھے اور ان کے درمیان ادبی گفتگو جاری تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مجید ملک برطانوی فوج کے تعلقات عامہ میں افسر ہوچکے تھے اور انھوں نے حسرت اور فیض کو بھی اس شعبے میں بھرتی کرلیا تھا۔

ظہیر لکھتے ہیں ’’میں جب انکل فیض کو دیکھتا تو وہ مجھے عجیب انسان معلوم ہوتے تھے۔ نہ چٹکی بجاتے، نہ کوئی گیت گنگناتے جب کہ میرے نزدیک شاعر وہی تھا جو سر تال میں رہے، سریندر، پنکج ملک، سہگل، مکیش اور طلعت جیسی آواز میں لہراتی ہوئی گفتگو کرے۔میں چونکہ فیض صاحب کی ’’نقش فریادی‘‘ پڑھ چکا تھا اور یہ جانتا تھا کہ وہ شاعر ہیں اس لیے مجھے ان پر افسوس ہوتا تھا۔ میں ان کے لیے دکھی تھا اور یہ دکھ اس وقت اور بڑھ جاتا تھا جب میں دیکھتا کہ وہ والد صاحب کے پاس آکر بیٹھتے ہیں، جھجھک جھجھک کر کچھ سیاسی گفتگو کرتے ہیں، عجیب عجیب سوال کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

نہ ہنستے ہیں، نہ گاتے ہیں۔آخر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے ایک دن (امروز لاہور کے ایبٹ آباد روڈ والے دفتر کے) کوریڈور میں فیض صاحب کو روک لیا اور بڑے مدبرانہ انداز میں انھیں مشورہ دیا۔ انکل! آپ ماسٹر مدن کا ’’یوں نہ رہ رہ کر ہمیں تڑپائیے‘‘سنا کیجیے۔ فیض صاحب کچھ حیرت زدہ ہوئے، پھر مسکرائے اور والد صاحب کے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔ پہلے وہاں سے قہقہے اٹھے، پھر میری طلبی ہوئی اور قہقہوں کے درمیان مجھ سے ’’یوں نہ رہ رہ کر ہمیں تڑپائیے‘‘ سنانے کی فرمائش کی گئی۔ یہ میری کھنچائی کا حصہ تھی‘‘۔

پروفیسر غازی علم الدین اپنے مضمون ’’اردو کا ملی تشخص اور کردار‘‘ میں بتایا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی سماجی اور سیاسی زندگی میں کس طرح اردو نے ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ میاں محمد بخش پر کلیم اختر کا اور سید علی ہمدانی پر پروفیسر کرم حیدری کا مضمون بہت خوب ہے۔ حضرت میاں محمد بخش کا شمار پنجابی زبان کے ان ممتاز شاعروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے افکار اور نظریات کی تبلیغ و اشاعت کے لیے شاعری کو وسیلہ اظہار بنایا اور زندگی کے اسرار و رموز کو بیان کیا۔ ان کی جو تصنیف بہت مقبول و مشہور ہوئی وہ سیف الملوک ہے۔ انھوں نے دینی اور تاریخی موضوعات پر طبع آزمائی کی۔

کلیم اختر لکھتے ہیں ’’میاں صاحب کے افکار اور اشعار کا مطالعہ کرنے سے یہ بات صاف عیاں ہوتی ہے کہ آپ طریقت کے ساتھ ساتھ شریعت کے بھی پابند تھے۔ آپ ایک بڑے ولی اللہ اور درویش تھے لیکن ایسے درویش نہیں جو ترک دنیا کا درس دیتے ہوں اور خود کو معاشرے سے الگ کرلیتے ہوں بلکہ آپ نے معاشرے کے درمیان رہ کر اصلاح اور فلاح کی کوششیں کیں اور سماج کے دکھ درد کو دور کرنے کی سعی کی‘‘۔

سید علی ہمدانی کے تذکرے میں پروفیسر کرم حیدری لکھتے ہیں کہ آج کشمیر میں جو سیاسی بیداری نظر آرہی ہے وہ پشت در پشت ان بزرگوں کا سیاسی ورثہ ہے جو شاہ ہمدان سید علی ہمدانی کی تعلیمات سے فیضیاب ہوئے تھے، ان ہی کے فیض کا ایک حصہ اہل ہندو پاکستان کے لیے اقبال کی صورت میں پہنچا تھا۔

’’ادبی تحقیق اور علم کے فرعون‘‘ کے عنوان سے انھوں نے ان مشکلات کا تفصیل سے ذکر کیا ہے جو بعض اساتذہ کے تعصب اور منفی رویے کی وجہ سے پیش آئیں۔ اس کے علاوہ کچھ مسائل جامعہ کے تھے۔ اسلامی یونیورسٹی میں اردو کا شعبہ نیا کھلا تھا۔ فکری تطہیر کا سلسلہ جاری تھا۔ جنرل پرویز مشرف کی روشن خیالی اور جامعہ کی روایتی بنیاد پرستی کے درمیان رسہ کشی جاری تھی۔ ڈاکٹر عبدالکریم کو کچھ ایسے تلخ حالات سے دوچار ہونا پڑا کہ ان کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔ شعری ادب میں نذیر انجم پر پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کا مضمون اور صابر آفاقی کی اردو شاعری پر ڈاکٹر محمد صغیر کا مضمون بھی قابل ذکر ہے۔

نذیر انجم کی غزلوں میں شدت احساس اور رعنائی و دلکشی کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر علیم لکھتے ہیں ’’شاعری کی استعداد اکتسابی نہیں قدرتی ہوتی ہے۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے‘‘۔ نذیر انجم کی شاعری عوام میں مقبول ہے۔ یہ تحریک آزادی کشمیر کی علامت بن چکی ہے۔ پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ ’’اگر نذیر انجم کو گلشن کشمیر کا بلبل خوشنوا کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا‘‘۔

صابر آفاقی نے فارسی میں شعر کہے، اپنی مادری زبان گوجری کو بھی ذریعہ اظہار بنایا۔ ’’پہاڑی‘‘ میں بھی لکھا اور پنجابی میں بھی طبع آزمائی کی لیکن ان کا اصل میدان اردو تھا۔ ان کا پہلا مجموعہ ’’شہر تمنا‘‘ تھا جو 1980 میں شایع ہوا۔ ڈاکٹر صغیر نے آفاقی کے کلام کی مثالیں پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انھوں نے غزل کہی اور نظم بھی، دوہے بھی۔ یہ سب ان کی مخصوص فکر کی غماز اور عکاس ہیں۔ وہ لکھتے ہیںآفاقی ایک توانا، بھرپور اور زور دار شاعر تھے جن کی شعری اور فنی بڑائی کو ایک عالم نے تسلیم کیا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔