جینیاتی طور پر تیار کردہ خوراک، حقائق اور غلط فہمیاں

ویب ڈیسک  پير 11 ستمبر 2023
[فائل-فوٹو]

[فائل-فوٹو]

  واشنگٹن: جینیاتی طور پر ترمیم شدہ غذائیں (GM foods) اپنے اندر ایسی خصوصیات رکھتی ہیں جو قدرتی کھانوں میں نہیں ہوتیں۔ اس میں ایک جاندار کی جینیات کو ڈی این اے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دوسرے جاندار میں منتقل کیا جاتا ہے جسے Genetically modified یا bio- enginered foods  کہا جاتا ہے۔ تاہم جہاں یہ جینیاتی خوراک مقبولیت حاصل کر رہی ہے وہیں اس قسم کے کھانوں کے حوالے سے لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں درج ذیل تحریر کیا جارہا ہے۔

1) غلط فہمی: جی ایم فوڈز الرجی کا باعث بنتے ہیں

حقیقت: کھانے کی اشیاء میں موجود پروٹین اکثر کھانے کی الرجی کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ جب جینیاتی مواد کو فصل میں متعارف کرایا جاتا ہے تو نئے پروٹین بن سکتے ہیں جو مدافعتی ردعمل یا الرجک رد عمل کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ نایاب ہے لیکن ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے جینیاتی طور پر ترمیم شدہ غذا یا تو الرجک نہیں ہوتی یا قدرتی کھانوں کے مقابلے میں زیادہ الرجک نہیں ہوتی۔

2) غلط فہمی: خلیاتی ٹیکنالوجی سے تیارہ کردہ گوشت اصل میں جی ایم فوڈز ہیں

حقیقت: یہ ایک عام غلط فہمی ہے۔ اگرچہ خلیاتی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ گوشت (cell cultured meat)  بھی بائیو انجینئرنگ تکنیک کا استعمال کرتا ہے تاہم اس ٹیکنالوجی سے تیار کردہ گوشت خاص طور پر سیل ٹشوز انجینئرنگ سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ گوشت متعلقہ جانور کے غیر ترمیم شدہ خلیوں سے تیار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گائے کے گوشت کی نشوونما کیلئے سائنسدان لیب میں ایسا ماحول تیار کرتے ہیں جہاں ان خلیوں  کی مدد سے گوشت تیار کیا جاسکے۔

3) غلط فہمی: بیج کے بغیر پھل اور سبزیاں بھی جی ایم فوڈز کے دائرے میں آتی ہیں

حقیقت: بیجوں کے بغیر پھل اور سبزیاں کچھ لوگوں کو اپنی سہولت کے لیے پسند ہوتی ہیں لیکن دوسرے ایسے پھلوں کے استعمال سے ہچکچا سکتے ہیں۔ یہ خوراک جینیاتی طور پر تبدیل نہیں کی جاتیں بلکہ اس خصوصیت کو حاصل کرنے کے لیے بیج کراس پولینیٹڈ، گرافٹ، یا ہارمونل ریگولیشن تکنیک سے گزارے جاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔