ایم کیو ایم اور جے یو آئی کا سندھ میں پی پی کیخلاف ملکر کام کرنے پر اتفاق

ویب ڈیسک  جمعرات 14 ستمبر 2023
فوٹو : اسکرین گریب

فوٹو : اسکرین گریب

  کراچی: ایم کیو ایم سے جے یو آئی وفد کی کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں دونوں جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جے یو آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری راشد محمود سومرو ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادرآباد پہنچے۔ ملاقات کے بعد ایم کیو ایم اور جے یو آئی رہنماوں نے میڈیا سے گفتگو کی۔

جے یو آئی وفد میں مولانا عبدالکریم عابد نائب امیر سندھ، مولانا غیاث، مولانا امین اللہ، سید حماداللہ شاہ و دیگر شامل تھے۔ ڈپٹی کنوینر خواجہ اظہارالحسن نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ گزشتہ 15 سال سے سندھ کے سیاسی وڈیروں نے جس طرح یہاں پر انتظامی معاملات پر قبضہ جمائے رکھا ہے اس کو اب ختم ہونا چاہیے۔ ہم نے طے کیا ہے کہ اب ہم سندھ کارڈ نہیں چلنے دیں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ بس بہت ہوگیا، سندہ کے سیاسی وڈیروں نے اب تمام حدیں پار کرلی ہیں۔ لاڑکانہ، میرپورخاص، نواب شاہ، کشمور اور کراچی میں عوام کے ساتھ ذیادتی ہوئی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ قوم پرستی کا لبادہ اوڑھ کر معصوم عوام کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے، سندھ کے عوام کے سروں پر ہاتھ رکھنے والے ہم ہیں سندھ کا عوام یتیم نہیں ہے۔ نگراں حکومت نے جو افسران کی تقرریاں کی ہیں اس پر ہمیں تشویش ہے، یہ وہ تقرریاں ہوئی ہیں جو پندرہ سال سے ہوتی ہوئی آرہی تھیں۔ پوری سندھ میں اس وقت بد امنی اور لاقانونیت ہے۔

جنرل سیکریٹری جمعیت علماء سندھ راشد محمود سومرو نے کہا کہ سندھ کے عوام کسی ایک قبیلے یا خاندان کے لیے جدوجہد نہیں کریں گے۔ تمام قومیتیں اور تمام لوگ ہمارے لیے یکساں ہیں، کراچی سے کشمور تک حقوق یکساں طور پر پامال کیے جا رہے ہیں، کراچی میں اسلحہ ہے تو کشمور میں بھی ڈاکوؤں کے پاس اینٹی ایئر کرافٹ گنیں ہیں۔

راشد محمود سومرو نے کہا کہ ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور جمعیت کو تقرریوں اور تبادلوں پر مکمل تحفظات ہیں، وہ چہرے لائے جائیں جن پر کسی کو اعتراض نہ ہو، ہمارا اتفاق ہوا کہ سندھ میں امن و امان کی مخدوش صورتحال ہے، اب امن کارواں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

جنرل سیکریٹری جمعیت علماء سندھ نے کہا کہ ہمارا اتفاق ہوا کہ سندھ کے اندر اگر عوامی جماعت ہے تو وہ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے ہے، پیپلز پارٹی تو وڈیروں جاگیرداروں اور پیروں میروں کی جماعت ہے۔ آج ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ جے یو آئی، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم بلا رنگ و نسل سب کے حقوق کے لیے مل کر کام کریں گے۔ الیکشن کمیشن ہمارے تمام تحفظات کو دور کرے، اگر الیکشن کمیشن ہمارے تحفظات دور نہیں کرے گا تو ہم تمام جماعتیں مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔