نواز شریف آئیں گے، کیا لائیں گے؟

محمد سعید آرائیں  پير 18 ستمبر 2023
m_saeedarain@hotmail.com

[email protected]

2007 میں جب بے نظیر بھٹو بیرون ملک جلاوطن تھیں اور ان کا وطن واپسی کا پروگرام تھا تو پی پی کے جیالے نعرے لگایا کرتے تھے کہ’’ بے نظیر آئے گی، روزگار لائے گی‘‘ جس سے بے روزگاری ختم ہوگی۔

2007سے قبل بے نظیر بھٹو ملک کی دو بار اور نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہے اور دونوں نے جلاوطنی کے دوران لندن میں میثاق جمہوریت کرکے ایک اچھی سیاسی روایت قائم کی تھی جس کے متعلق بلاول بھٹو زرداری نے اب کہا ہے کہ ’’ پی ڈی ایم کی میثاق جمہوریت میں دلچسپی نہیں ہے۔‘‘

بے نظیر بھٹو اکتوبر 2007 میں جلاوطنی کے بعد کراچی پہنچیں تو اسی روز کارساز پر ان کے جلوس میں دھماکے ہوئے تھے۔

جن میں وہ تو محفوظ رہی تھیں مگر بہت بڑی تعداد میں جیالے شہید اور زخمی ہوئے تھے جس کے بعد بھی بے نظیر بھٹو نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھی اور ستر روز بعد ہی لیاقت باغ راولپنڈی کے جلسے کے بعد واپسی میں شہید کر دی گئی تھیں اور انھیں تیسری بار وزیر اعظم بننے کا موقع نہیں ملا تھا جب کہ نواز شریف جنرل مشرف حکومت میں 2008 میں بے نظیر کے بعد وطن واپس آئے اور 2013 میں تیسری بار وزیر اعظم بنے مگر اپنی مدت پوری نہ کرسکے تھے اور انھیں ایک منصوبے کے تحت پہلے عدالتی طور پر نااہل کرا کر عہدے سے ہٹایا گیا اور منصوبے کے تحت ہی سزا دلائی گئی اور یہ سزا بھی انھیں پاناما کے بجائے اقامہ پر دلائی گئی جس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بھی شامل تھے کیونکہ نواز شریف کو ہٹانے کی کوشش 2014 میں اسلام آباد میں عوامی تحریک اور پی ٹی آئی کے دھرنوں سے شروع کردی گئی تھی مگر اس کوشش کو دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی کامیاب نہیں ہونے دیا تھا اور میثاق جمہوریت کام آیا تھا۔

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما حامد خان کے مطابق نواز شریف کو سزا کہیں اور سے دلائی گئی تھی جب کہ پاناما میں ان کا نام بھی نہیں تھا اور جن کے نام تھے وہ اب تک محفوظ ہیں اور جانب دار ججز نے صرف نواز شریف کو نااہلی کے بعد سزا دینی تھی اور چیئرمین پی ٹی آئی کی محبت میں نواز شریف کی نہ صرف حکومت ختم کرائی گئی بلکہ 2018ء کے الیکشن میں آر ٹی ایس بٹھا کر پی ٹی آئی کو (ن) لیگ سے زائد نشستیں دلائی گئیں اور مانگے تانگے کے ارکان شامل کرا کر پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت بنوائی گئی تھی۔

پنجاب میں کوشش کے باوجود پی ٹی آئی دوسرے اور (ن) لیگ پہلے نمبر پر تھی مگر (ن) لیگ کو حکومت بنانے نہیں دی گئی تھی جس کے بعد وفاق، پنجاب و کے پی میں پی ٹی آئی حکومت میں جو کچھ ہوا۔ حکومت مخالف پارٹیوں کے رہنماؤں پر جھوٹے مقدمات بنانے کا ریکارڈ قائم ہوا ،یہ تجربہ بری طرح ناکام ہوا جو سابق وزیر اعظم کو اقتدار میں لائے تھے وہی تنگ آ گئے۔

سابق حکومت میں ملک میں تو تبدیلی نہیں آئی نہ پچاس لاکھ گھر بنے نہ ایک کروڑ نوکریاں دی جا سکیں صرف انتقام میں 44 ماہ ضایع کیے گئے اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار 44 ماہ بعد وزیر اعظم کو آئینی طور پر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا اور جس طرح سابق وزیر اعظم نے اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈالا تھا وہ اب خود جیل بھگت رہے ہیں۔

نواز شریف کی تینوں حکومتوں میں کرپشن، اقربا پروری اور انتقامی کارروائیاں ضرور ہوئیں مگر ملک میں ترقی بھی ہوئی۔ لاہور، راولپنڈی کے درمیان پہلا موٹروے بنا اور پشاور سے سکھر تک وسیع ہوا۔ لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور ملتان میں میٹرو بسیں چلائی گئیں، کراچی میٹرو کا آغاز نواز حکومت میں ہوا۔

ملک میں سڑکوں کے جال بچھائے گئے اور پنجاب کو باقی صوبوں سے زیادہ ترقی دی گئی کیونکہ پنجاب شریفوں کی ترجیح رہی۔ لاہور پر شریف حکومتوں میں خاص طور پر ترجیح دی گئی کیونکہ لاہور ان کا اپنا شہر اور حلقہ انتخاب تھا مگر بدقسمتی سے ملک کو چلانے والے شہر کراچی کو (ن) لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے نظرانداز کیا ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی 1988 سے 1999 تک دو دو حکومتوں میں بے نظیر دور میں ملک میں پیسہ بھی تھا اور روزگار بھی۔ دونوں ادوار میں مہنگائی بڑھی مگر لوگوں کو روزگار بے نظیردور میں ملا جس کی وجہ پی پی کا منشور تھا جس کے تحت روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ تھا جو پی پی کی تیسری حکومت میں قابل توجہ نہیں تھا۔

راقم کی شکارپور سے کراچی آ جانے کے بعد نواز حکومت میں ان کے اسپیکر قومی اسمبلی الٰہی بخش سومرو سے شکارپور جمخانہ میں جب ملاقات ہوئی تو راقم نے انھیں کہا تھا کہ وہ بزرگ سیاستدان ہیں اسی لیے اپنے وزیر اعظم نواز شریف سے پوچھیں کہ’’ بے نظیر بھٹو کی حکومتوں کے برعکس (ن) لیگی حکومت میں ملک میں پیسہ ہوتا ہے نہ روزگار دیا جاتا ہے وجہ کیا ہے؟‘‘

یہ بھی حقیقت تھی کہ پی پی حکومت میں لوگوں کو روزگار دینے کے لیے ہر سرکاری ادارے میں ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کی جاتی تھیں اور نواز حکومت اقتدار میں آ کر سرکاری محکموں سے فاضل لوگ نکال کر انھیں بے روزگار کرتی تھی اور گولڈن شیک ہینڈ بھی نواز حکومت میں ہوا، بڑی تعداد میں لوگوں کو بے روزگار اور پنشن سے محروم کیا گیا۔

میاں شہباز شریف کے مطابق قوم 21اکتوبر کو نواز شریف کے وطن واپس آنے کا انتظار کر رہی ہے اور ان کا واپسی پر والہانہ استقبال کیا جائے گا مگر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ نواز شریف آئیں گے تو کیا لائیں گے؟ اب ان کی حکومت بھی نہیں اور نگران وزیر اعظم کے مطابق واپسی پر نواز شریف کو ہتھکڑی یا آزادی عدالتوں اور اداروں کا اختیار ہے۔

نواز شریف قید سے لندن گئے تھے ا ور وہ یقینی طور پر بطور قیدی ہی واپس آئیں گے ان کے پاس قوم کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔

ان کے وزیر اعظم بھائی نے 16 ماہ کی حکومت میں ملک کو شدید مہنگائی، بے روزگاری دی، گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ دی، نواز شریف کے سمدھی نے ڈالر، پٹرول اور سونا مہنگا کرنے کا نیا ریکارڈ بنایا۔ اپنی جائیداد اور رقم بحال کرائی اور لندن چلے گئے اور قوم شہباز شریف اور اسحاق ڈار کو کوس رہی ہے جو قوم پر بھاری قرضے ضرور چڑھا گئے۔ اب نواز شریف کے پاس واپسی پر وعدوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔