نواب شاہ میں کچی شراب پینے سے پولیس اہلکار سمیت 5 افراد ہلاک

اسماعیل ڈومکی  بدھ 14 مئ 2014
مرنے والوں کی عمریں 18 اور 36 سال کے درمیان ہیں، ایس ایس پی نے نوٹس لے لیا۔ فوٹو: فائل

مرنے والوں کی عمریں 18 اور 36 سال کے درمیان ہیں، ایس ایس پی نے نوٹس لے لیا۔ فوٹو: فائل

نواب شاہ: نوابشاہ میں کچی شراب پینے سے پولیس اہلکار سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس معاملے کو چھپانے کی کوشش میں مصروف۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو پرانے نوابشاہ میں کچی شراب پینے سے 5 افراد ہلاک ہوگئے جن میں 18 سالہ راشد علی، 28 سالہ امین مغل، 22 سالہ عابد رانگڑ، 36 سالہ رفیق بھنگوار پولیس اہلکار اور محمد شفیق عرف شینو شامل ہیں۔ کچی شراب پینے سے ہلاک ہونے والے پانچوں افراد آپس میں دوست تھے اور انہوں نے  ایک ساتھ شراب پی جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ مرنے والوں میں 28 سالہ محمد امین مغل  ایک انتہائی بااثر سیاسی شخصیت عظیم مغل کا بھائی ہے ۔

جس کی وجہ سے پولیس اس واقعے کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ ڈی ایس پی سٹی اعجاز ترین نے بتایا کہ ہم نے شہر بھر میں شراب کے اڈے بند کرادیے تھے اگر کوئی شخص کسی میڈیکل اسٹور سے ٹنکچر کی بوتل خریدار کر اس میں گولیاں وغیرہ ملاکر پی لے تو پولیس کیا کرے۔ کچی شراب سے 5 افراد کی ہلاکت کے باوجود نواب شاہ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ واضح رہے کہ چند سال قبل بھی زہریلی شراب پینے سے 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دریں اثنا ایس ایس پی جاوید جسکانی نے کچی شراب سے 5 افراد کی ہلاکت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کرکے تنزلی کردی اور ضلع بدری کے لیے ڈی آئی جی سے سفارش کی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مذکورہ افراد نے غلام مصطفی بروہی اور نذیر بروہی کے اڈوں سے شراب خریدی تھی، دونوں منشیات فروشوں کی گرفتاری کے لیے پولیس پارٹی روانہ کردی ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر عبدالعلیم لاشاری نے بھی کچی شراب سے 5 افراد کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔کچی شراب  پینے سے5 افرادکی ہلاکت کا مقدمہ سب انسپکٹر خان محمد جمالی کی مدعیت میں منشیات فروش غلام محمد بروہی، نذیر بروہی سمیت 4 افراد کے خلاف درج کر لیاگیا۔رات گئے پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے اور3 افرادکو حراست میں لے لیا اور بھاری مقدار میں شراب اور چرس برآمد کر لی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔