بھارت امریکا کے راستے پر

غلام محی الدین  ہفتہ 23 ستمبر 2023
gmohyuddin@express.com.pk

[email protected]

اس وقت کینیڈا کی حکومت اپنی سرزمین پر اپنے ایک سکھ شہری کے قتل پر بھارت سے سفارتی ٹکراؤ کی حالت میں ہے۔

کینیڈا کی خفیہ ایجنسیاں تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ خالصتان کے قیام کے لیے جد وجہد میں مصروف تنظیم ’سکھ فار جسٹس‘ کے مقامی رہنما اور کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے قصبے ’سری‘ کے گرودوارہ کے منتظم ’ہردیپ سنگھ نجر‘ کا قتل بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے کرایا ہے۔

کینیڈا نے ان تحقیقات سے حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر کینیڈا میں بھارتی سفارت خانے میں تعینات بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے افسر اعلیٰ پون کمار رائے کو ملک بدر کر دیا۔

بھارت نے پاکستان کی طرح معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے بھارت میں تعینات کینیڈین انٹیلی جنس کے افسر اعلیٰ کو بھارت سے نکل جانے کا حکم جاری کر دیا۔ یہ معاملہ سفارتی عملے کو نکالنے تک محدود نہیں رہا بلکہ ہردیپ کی ٹارگٹ کلنگ کے ٹھیک دو دن بعد بیس ستمبر کو بھارت کو مطلوب ایک اور سکھ علیحدگی پسند ’دول سنگھ‘ کو بھی ٹھیک اسی طرح گولیوں کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔

مقتول پردیپ سنگھ نجر کو بھارتی حکومت نے جولائی 2022 میں دہشت گرد قرار دیا تھا۔ 45 سالہ ہردیپ سنگھ کو 18 جون کو اُس وقت ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ وینکور شہر سے قریب 30 کلومیٹر دور واقع سری کے قصبہ میں سکھ گورودوارہ کے قریب ایک مصروف کار پارکنگ میں اپنی کار میں سوار تھے۔

کینیڈا کے تفتیشی ادارے اس قتل کی تحقیقات کررہے تھے۔ گو کہ کینیڈا کے تحقیقاتی اداروں نے کسی قسم کے ثبوت میڈیا کو فراہم نہیں کیے تاہم یہ ضرور بتایا ہے کہ حاصل ہونے والے شواہد Five Eyes Alliance کی مشترکہ کوششوں سے حاصل ہوئے ہیں۔ایف ای اے دراصل امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ کی خفیہ ایجنسوں کے اتحاد کا نام ہے۔

ایک معاہدے کے تحت ان ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں مل کر تحقیقات کرتی ہیں۔ صرف اتنی معلومات سامنے لائی گئی ہیں کہ بھارتی سفارتی عملے کے ایسے پیغامات پکڑے گئے ہیں جو ہردیپ کے قتل کی منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

انھی شواہد کی بنیاد پر کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کُھل کر یہ الزام عائد کیا کہ ہردیپ سنگھ کے قتل میں بھارت ملوث ہے۔ کینیڈا کے دارالعوام (قومی اسمبلی) میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس قتل میں بھارتی سرکار کے ملوث ہونے کی معتبر شہادتیں ملی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا ’’کینیڈا کے ایک شہری کی ہلاکت میں کسی غیر ملک کا ملوث ہونا ہمارے اقتدار اعلیٰ کی توہین ہے جو کسی طور قابل قبول نہیں‘‘۔ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے اس تناؤ کے نتیجے میں کینیڈا نے اس برس کے آخر میں بھارت پہنچنے والے اپنے تجارتی مشن کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

ہردیپ سنگھ کو بظاہر اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ کینیڈا اور بعض یورپی ممالک کے بعد اب بھارت میں خالصتان کے قیام کے لیے ریفرنڈم کے انعقاد کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارتی ایجنسیاں ہردیپ سنگھ کو ختم کرنے کے لیے سرگرم عمل تھیں۔ بھارتی حکام نے گزشتہ برس ہردیپ کو کسی نہ کسی طرح گھیرنے کے لیے اُس پر ایک ہندو پروہت کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگا دیا تھا اور اس کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے پر دس لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نجر بھارتی حکومت اور اداروں کی ہٹ لسٹ پر تھا۔

پیر کو جب کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ کو نجر کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے بتایا تو انھوں نے ارکان کو اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ نئی دہلی میں جی 20 سربراہی اجلاس کے دوران انھوں نے بھارتی وزیر اعظم مودی سے ملاقات میں ہردیپ سنگھ کے قتل کا معاملہ اُٹھایا تھا۔

ٹروڈو کے مطابق انھوں نے وزیر اعظم مودی کو بتا دیا تھا کہ ہردیپ کے قتل میں بھارتی ہاتھ ثابت ہوا تو یہ بات کینیڈا کے لیے ناقابل برداشت ہوگی لہٰذا بھارت اس قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں مدد اور تعاون کرے۔ صوبہ برٹش کولمبیا کے سربراہ حکومت ’ڈیوڈ ایبے‘ نے اس بارے میں جو بتایا وہ اور بھی قابل غور ہے۔ اُن کا کہنا تھا، ’’ مجھے کینیڈا کے خفیہ اداروں کے حکام نے ہردیپ سنگھ کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے بریفنگ دی ہے اور جو کچھ بتایا گیا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے‘‘۔

ہردیپ سنگھ کے قتل کے سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ نجر خود مسلسل بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے قاتلانہ حملے کا خدشہ ظاہر کر رہے تھے بلکہ کینیڈا کے انٹیلی جنس حکام نے 2022 میں نجر کو خبردار کیا تھا کہ انھیں کرائے کے قاتلوں کے ذریعے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

کینیڈا کی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف بھی ایک سکھ سیاست دان جگ میت سنگھ ہیں۔ انھوں نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بھارتی ’’کارناموں‘‘ کی کہانیاں سنتے سنتے جوان ہوا ہوں، لیکن وزیر اعظم کی زبانی کینیڈا کی سرزمین پر کینیڈا کے ایک شہری کے قتل میں باہر کی کسی حکومت کے ملوث ہونے کے امکان کا ذکر میرے لیے ایسی بات ہے جس کا تصور بھی محال ہے‘‘۔

موجودہ معاملے پر کینیڈا اور بھارت کے درمیان تناؤ سے کینیڈا کی اصول پسندی کا اظہار تو ہوتا ہے لیکن کیا مغربی بلاک یہاں بھی ویسے ہی رویے کا اظہار کرے گا جیسا رویہ ماضی میں مسلم ممالک سے روا رکھا  گیا۔

مسلم انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے غیر ریاستی منفی مظاہر پر ملکوں کے ملک تباہ برباد کر کے رکھ دیے گئے لیکن بھارت کی ریاستی پشت پناہی میں ہونے والی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کو کبھی لگام ڈالنے کی کوشش نہیں کی گئی اسی لیے اب مغرب کے سخت اقدامات کو بھی بھارت کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ بھارت دنیا میں اُسی انداز میں کارروائیاں کرنے کے ’’حق‘‘ پر بضد ہے جیسی کارروائیاں کرنا امریکا اپنا دائمی حق تصور کرتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔