بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

رئیس فاطمہ  جمعرات 15 مئ 2014
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

علامہ اقبال کے مطابق جمہوریت وہ طرز حکومت ہے، جس میں افراد کو ان کی تعداد کے حوالے سے اہمیت دی جاتی ہے، نہ کہ انداز فکر، سیاسی شعور، سمجھ بوجھ اور تعلیم کے حوالے سے؟ یعنی گدھا گھوڑا سب برابر۔ کیونکہ اہمیت تعداد کی ہے نہ کہ عقل و فہم کی بالا دستی کی۔ لیکن خیال رہے کہ یہ منفرد خیال صرف پاکستان میں سکہ رائج الوقت ہے۔

سکے تو پھر سکے ہیں، خواہ کھوٹے ہوں یا کھرے، کاغذ کے وہ پرزے ہوں جن پر بانی پاکستان اب بھی موجود ہیں، یا پھر سونے چاندی، پیتل یا طاقت کے سکے؟ اصل طاقت کا سرچشمہ یہی سکے ہیں۔ جو وقت اور حکومتیں بدلنے پر نہایت خاموشی سے ایک جیب سے دوسری جیب میں، سوٹ سے وردی کی جیبوں میں اور خاندانی پگڑیوں سے کسی بھی ایسی جیب میں ہمہ وقت پہنچنے کو بے تاب نظر آتے ہیں جو ان کی طاقت، زمینوں، غلاموں، کنیزوں، لونڈیوں، کمی کاریوں اور ان سے پیدا غلاموں کی نسل کو تحفظ دے سکیں۔

پاکستان میں جمہوریت کا درخت اکثر آمریت کی گود میں پروان چڑھتا ہے۔ اور پھر ’’اگلی باری ۔۔۔۔میری باری ۔۔۔۔ اور اس سے اگلی باری ۔۔۔۔ تیری باری‘‘۔ یہی تو ہماری جمہوریت کا حسن اور انفرادیت ہے کہ ایک طرز حکومت کو اپنی اپنی باری اور اپنے اپنے بچوں کے لیے پالنے بنانے کی مکمل آزادی ہے۔ اور پھر بقول سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور سرداروں کے یہ تو خدا کا نظام ہے کہ کسی کو بادشاہ بنادیا، کسی کو وزیر باتدبیر کسی کو مشیر، سفیر اور کسی کو حقیر پر تقصیر۔

بے وقعت، زمین پر بوجھ، ننھے بھوکے زمین پہ لوٹتے ہوئے بالکل کیڑے مکوڑوں کی طرح کاروں کے پہیوں سے کچلے جانے والے احمق اور بدنصیب۔ یہ نہیں سوچتے کہ یہ تو اس کی دین ہے، جسے پروردگار دے۔ گلہ کرنا ہے تو خالق حقیقی سے کرو کہ اس نے تمہیں فقیر بنایا اور ہمیں امیر۔ ایسا ہی ایک احمقانہ خیال الف لیلہ کے ایک قصے ’’سند باد جہازی‘‘ میں بھی ایک لکڑہارے کو آیا تھا۔ نام اس کا بھی سندباد تھا۔ مگر وہ سندباد جہازی کی طرح دولت مند نہیں تھا۔ وہ باشعور طبقہ جو دولت کی عدم مساوات کے خلاف ہے اور صوفیوں کا وہ گروہ جو ملامتی صوفی کہلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔

جیسا کروگے، قیامت کے دن سب کا حساب ہوگا۔ لیکن ہمارے پیارے وطن میں تو کبھی کسی نے حق داروں کا حق مارنے والوں کو، اپنے خزانے بھرنے والوں کو اور خدا کی مخلوق پر رزق کے حصول کے دروازے بند کرنے والوں کے درجات ہمیشہ بلند ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ قیامت کس نے دیکھی ہے۔ جو مرگیا وہ اپنے لواحقین کو قیامت سے ہمکنار کرگیا۔ غدار، سازشی، ضمیر فروش، دولت کے حصول کے لیے اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو سربازار نیلام کرنے والوں کا کسی نے حساب ہوتے دیکھا ہے؟ کیا کسی نے جدید دور کے ان فرعونوں کا حساب ہوتے دیکھا ہے جو حصول مقصد کے لیے ہر بے ضمیر شخص کو خرید کر اسی سے اپنوں کا قتل عام کرواتے ہیں۔ اور انھیں مخصوص رنگ کی ٹوپیاں اور پگڑیاں پہناکر اپنا مقصد آسانی سے حاصل کرلیتے ہیں۔ کہ آج کل موسم بڑا بے ایمان ہے۔ ہر طرف نفرتوں کا بازار گرم ہے۔

ایک کہاوت ہے کہ ’’بنیے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے‘‘ یعنی زمین پر وہی گرتے ہیں، جنھیں وہاں چمکتے سکے نظر آتے ہیں۔ خواہ اس کے لیے سروں کی فصلیں کاٹنی پڑیں، یا نفرتوں کے بیج بو کر گوہر مقصود حاصل کیا جائے۔ سب جائز ہے۔ البتہ جو امن اور شانتی کی بات کرے، جو اپنے ہمسایوں سے دوستی کا خواہاں ہو، اس کے قدموں سے ریڈ کارپٹ گھسیٹ لو، اس کار خیر کے لیے بھی مسخرے، جوکر اور شعبدہ باز اپنے ماتھوں پہ اپنی قیمت لگا کر ’’برائے فروخت‘‘ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ اس کے نظارے نجی چینلوں پہ ہم دن رات دیکھتے اور سر پیٹتے ہیں۔ یہی تو جمہوریت ہے کہ جہاں بیٹھ کر جس کو جی چاہے گالیاں دو۔ سب جائز ہے۔ لیکن کوئی صحافی رپورٹر یا کالم نویس بدعنوانیوں، نفرتوں اور تعصب سے پیدا ہونے والے عذابوں کا ذکر کرے تو پورے کے پورے کالم غائب کردیے جائیں۔ کیونکہ ہر ایک کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے۔

البتہ برسر اقتدار پارٹی کو ’’اﷲ کی رحمت‘‘ ثابت کرنے والے لکھاریوں کے لیے ہمیشہ سے میدان کھلا ہے۔ کہ ’’خوشامد‘‘ کامیابی کی وہ کنجی ہے جو ہر دروازہ کھول دیتی ہے۔ اور یہ کام بے ضمیر لوگ آسانی سے کرلیتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ اپنا راستہ بنانے کے لیے دونوں کہنیوں سے لوگوں کو دھکیلتے ہوئے منزل مقصود پہ پہنچنے والے زیادہ خوش اس بات پہ ہوتے ہیں کہ انھوں نے کتنے لوگوں کا راستہ کھوٹا کیا ہے۔ لالچی اور خوشامد خور لوگ اپنے ہی لوگوں کی لاشوں پہ کھڑے ہوکر تمغہ امتیاز اور تمغہ حسن کارکردگی ہر سال حاصل کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ کیونکہ آج بازار میں کھوٹے سکوں کا راج ہے۔

لیکن جمہوریت کی یہ تعریف صرف ہمارے وطن کے لیے ہی موزوں ہے۔ یہ کوئی برطانیہ تو ہے نہیں جس کے شاہی خاندان کی بادشاہت بھی صرف بکنگھم پیلس تک محدود ہے۔ اس محل سے باہر آکر وہ عام آدمی ہوجاتے ہیں۔ وہاں کا وزیر اقتدار چھوڑنے کے بعد عام لوگوں کے ساتھ ٹرینوں میں سفر کرتا ہے۔ اس کے بچے عام اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ وہ کتابوں اور پتھروں کو الگ الگ پلڑوں میں رکھ کر وزن کی زیادتی کی وجہ سے کتابوں پہ ترجیح نہیں دیتے۔ یہ بڑے احمق ہیں۔ اگر یہ مہذب اقوام ہماری جمہوریت کے ثمرات دیکھ لیں تو خوفزدہ ہوکر بھاگ جائیں۔

اب دیکھیے یہ ہماری ’’جمہوریت‘‘ ہی کا اعجاز ہے کہ شہزادی اور شہزادوں کے ناک کان گھٹنے ، ٹخنے، چھنگلیاں اور ایڑی کا علاج بیرون ملک ہے اور عام آدمی غذا، علاج اور صاف پانی نہ ملنے سے مر جاتا ہے۔ جمہوریت کے درخت پہ لگے ہوئے تمام پھلوں تک صرف ان کی رسائی ہے جن کے پرکھوں کا پاکستان بنانے میں، آزادی کی جدوجہد میں اور ہجرتوں کے دکھ سہنے میں کوئی کردار نہیں۔ پھر بھی بازوئے شمشیر زن بن کر یہ پھاپھاکٹنی بنے ہوئے ہیں۔ ہر طرف جمہوریت جلوہ گر ہے اور عام آدمی تک اس کے ثمرات بھی پہنچ رہے ہیں۔ کس طرح؟ صرف مختصراً عرض کرتی ہوں کہ دو او لیول کے ایسے نوجوان جن کی پشت پر پولیس کی طاقت اور سرداری کا نشہ چڑھا تھا۔ اس نشے میں خدا بن بیٹھے تھے۔

ان کا زیور بندوقیں اور باپ کا عہدہ۔ یہ عام انسان نہیں ہیں۔ پولیس والوں کے بیٹے ہیں۔ جو پہلے بھی ایسی قانون سے بالاتر وارداتیں کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ انھیں یقین ہوتا ہے کہ کچھ بھی کرلو ان کا باپ انھیں بچا لے گا۔ چاہے سیاسی پارٹی سے وابستگی پر۔ پولیس کی اپنی طاقت سے یا پھر خون بہا دے کر پولیس کی زبان میں ’’مک مکا‘‘ کرکے سزاوار کوئی نہیں ٹھہرے گا۔ یہی اس ملک کی اصل جمہوریت ہے۔ جب پیسہ، طاقت اور اقتدار ساتھ ہو تو جس کو جی چاہے قتل کردو۔ کوئی باز پرس نہیں ہوگی نہ ہی کوئی ’’سوموٹو‘‘ ایکشن لے گا۔

یہی تو جمہوریت کا حسن ہے کہ قانون صرف غریبوں کے گلے کا پھندا ہے۔ اور امیروں کے لیے پیر کی جوتی۔ جو نوجوان پہلے مرے اور جو چند دن پہلے قتل ہوا، کیا ان کے والدین میں سے کسی نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا کہ انھوں نے غیر قانونی طور پر پولیس گارڈ اور اسلحہ کیوں لے کر دیا تھا۔ اگر واقعی یہاں تعلیم ہوتی، قانون کا لفظ صرف وکیل کی زبان اور کتاب تک محدود نہ ہوتا اور اگر کوئی حکومت ہوتی تو سزاوار دونوں لڑکوں کے والدین ہیں۔ انھیں اس لاقانونیت کا حصہ دار بننے اور نابالغ لڑکوں کو اسلحہ دے کر کسی کا بھی قتل کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دینا ہی اصل جرم ہے۔ لیکن جمہوریت کا پودا پروان چڑھتا رہے گا۔ نسل در نسل تاجدار اور قاتل طاقت کے بل بوتے پر پیدا ہوتے رہیں گے۔ منظرنامہ بہت صاف ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔