تنخواہیں نہ ملنے پر واسا ملازمین کا احتجاج جاری، نکاسی و فراہمی آب کا نظام بند کر دیا

نمائندہ ایکسپریس  جمعـء 16 مئ 2014
 جمعرات کو بھی دفاتر کی تالا بندی، دھرنا دیا اور ہڑتال کی، ایم ڈی کیخلاف نعرے،ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
 فوٹو فائل

جمعرات کو بھی دفاتر کی تالا بندی، دھرنا دیا اور ہڑتال کی، ایم ڈی کیخلاف نعرے،ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ فوٹو فائل

حیدر آباد: ایچ ڈی اے مہران ورکرز یونین کی اپیل پر واسا ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف جمعرات کو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے شہر کا نکاسی و فراہمی آب کا نظام بند کردیا۔

ملازمین نے تیسرے روز بھی ایچ ڈی اے اور واسا دفاتر کی تالہ بندی کی اور کام چھوڑکی جبکہ صبح 10 سے دوپہر 2 بجے تک نکاسی و فراہمی آب کا نظام بند کردیا جس کے نتیجے میں شہر کو پانی کی فراہمی معطل رہی۔ کئی ماہ کی تنخواہوں سے محروم ملازمین نے ایچ ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل آفس اور ایم ڈی واسا کے دفاتر کے سامنے دھرنا دیا اور ان کے خلاف نعرے بھیلگائے۔ یونین کے جنرل سیکریٹری محمد اسلم عباسی، امتیاز کولاچی، جان چراغ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب واسا ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔

مسائل حل نہ کرکے انہیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے جمعرات کو صرف4 گھنٹے کے لیے نظام بند کیا گیا اگر ہمارے مطالبات منظور نہ کیے گئے تو پیر سے نظام بند کرنے کے دورانیے میں اضافہ کردیا جائے گا جس کی تمام تر ذمے داری ایچ ڈی اے اور واسا انتظامیہ پر عاید ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق حکومت سندھ ادارے کو رقم جاری کردی ہے لیکن انتظامیہ مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

دریں اثناء پیپلز لیبر بیورو ادارہ ترقیات کے سربراہ خالد قمبرانی، سید نذہت علی ودیگر نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے ملازمین کی تنخواہوں کیلیے6کروڑ روپے سے زائد رقم جاری کردی ہے جبکہ فراہمی ونکاسی آب کی وصولی بھی کی گئی ہے اس لیے واسا ملازمین کو کم از کم3 ماہ کی تنخواہیں اور پنشن ادا کی جائے اگر ادائیگی نہیں کی گئی تو پیپلز لیبر بیورو بھی ایچ ڈی اے مہران ورکرز کے احتجاج میں شامل ہو جائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔