نئی فصل میں تاخیر کے باعث روئی کی قیمتیں 7 ہزار روپے من تک پہنچ گئیں

احتشام مفتی  پير 19 مئ 2014
 اس وقت ملک بھر میں معیاری روئی کے 2لاکھ بیلز سے بھی کم کے ذخائر بتائے جا رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

اس وقت ملک بھر میں معیاری روئی کے 2لاکھ بیلز سے بھی کم کے ذخائر بتائے جا رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

کراچی: بیشتر کاٹن زونز (پنجاب) میں ہونے والی غیر متوقع بارشوں کے باعث کپاس کی نئی فصل کی آمد میں 3سے 4ہفتوں کی متوقع تاخیر اور ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپے کی قدر میں اضافے کے باعث بھارتی کاٹن ایکسپورٹس رجحان میں کمی سامنے آنے سے گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی جبکہ امریکی کاٹن ایکسپورٹ رپورٹس مثبت نہ آنے اور دنیا بھر میں 2014-15 کے دوران کپاس کی پیداوار میں اضافے ،کھپت میں کمی اور اینڈنگ اسٹاکس زیادہ ہونے بارے رپورٹس جاری ہونے کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں زبردست مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے ) احسان الحق نے ’’ایکسپریس ‘‘ کو بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پنجاب کے کاٹن زونز بہاولنگر ،بہاولپور ،ملتان ،ساہیوال ،پاک پتن،فیصل آباد اور خانیوال میں غیر متوقع بارشوں کے باعث کپاس کی کاشت میں تاخیر اور پہلے سے کاشت کی گئی کپاس کی فصل کو نقصان پہنچنے کے باعث کپاس کی نئی فصل میں تقریباً 4ہفتوں کی تاخیر متوقع ہے جبکہ قبل ازیں فروری /مارچ کے مہینوں میں درجہ حرارت روایت سے کم ہونے کے باعث ان مہینوں کے دوران ان کاٹن زونز میں کپاس کی کاشت بھی کم ہوئی تھی جبکہ رواں ہفتے کے دوران سندھ کے کاٹن زونز میں بھی بارشیں ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کے صحیح ہونے کی صورت میں رواں ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں مزید تیزی کا رجحان سامنے آ سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کپاس کی نئی فصل کی آمد میں تاخیر کی اطلاعات کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان نے بھی معیاری روئی کی خرید میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اس وقت ملک بھر میں معیاری روئی کے 2لاکھ بیلز سے بھی کم کے ذخائر بتائے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں تقریباً 200من فی اضافے کے ساتھ 7ہزار روپے فی من تک پہنچ گئیں جبکہ نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 1.55سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد 92.55سینٹ جبکہ جولائی ڈلیوری روئی کے سودے .54سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد پچھلے تین ہفتوں کی کم ترین سطح 89.82سینٹ فی پائونڈ تک گر گئے۔

بھارت میں روئی کی قیمتیں 576روپے فی کینڈی کمی کے بعد 41ہزار 972روپے فی کینڈی، چین میں 875یو آن فی ٹن کمی کے بعد 16ہزار 385یو آن فی ٹن جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 100روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 800روپے فی من تک پہنچ گئے۔ احسان الحق نے بتایا کہ انٹر نیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (آئی سی اے سی ) نے ایک پاکستانی زرعی سائنسدان ڈاکٹر محبوب الرحمن کو کپاس پر بہترین ریسرچ کرنے پر ’’آئی سی اے سی کاٹن ریسرچر 2014 ‘‘ کے ایوارڈ سے نوازا ہے  جو پاکستان کیلیے ایک بہت بڑا  اعزاز ہے۔  یاد رہے کہ آئی سی اے سی کی طرف سے یہ ایوارڈ دنیا بھر میں صرف ایک سائنس دان کو دیا جاتا ہے جو کپاس پر ایک سال کے دوران سب سے زیادہ تحقیق کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں منسٹری آف ٹیکسٹائل اور لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے اشتراک ایک کاٹن ریسرچ انسٹیٹوٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس کیلیے 50ایکڑ زمین لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر دے گی جبکہ اس پر عمارت کی تعمیر اور سٹاف کی تعیناتی بارے سارے اخراجات منسٹری آف ٹیکسٹائل برداشت کرے گی جس سے توقع ہے کہ اس سے بلوچستان میں کپاس بارے نئی تحقیقات ہونے سے بلوچستان میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ بھی سامنے آئے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں کپاس کی نئی فصل کے ایڈوانس سودے بھی ہونا شروع ہو گئے ہیں جس کے مطابق سندھ کے ضلع سانگھڑ اور پنجاب کے شہر بورے والا میں 15 جولائی کی ڈلیوری کی بنیاد پر روئی کی 400/400 بیلز کے 7ہزار روپے فی من کے حساب سے طے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے آئندہ دو ماہ کیلیے اعلان کی جانے والی نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں کمی نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے کاٹن جنرز اور دیگر کاروباری افراد کے معاشی استحصال کے مترادف قرار دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔