چارٹرانسپکشن کمیٹی؛مستقل اراکین کی حیثیت ختم،نجی و سرکاری شعبے سے مزید وائس چانسلر شامل

صفدر رضوی  جمعـء 20 اکتوبر 2023
فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

  کراچی: سندھ اعلی تعلیمی کمیشن نے چارٹر انسپکشن اینڈ ایویلیو ایشن کمیٹی میں چار مستقل اراکین کی حیثیت ختم کردی اور کمیٹی میں ’’پول آف ممبرز‘‘ میں توسیع کرتے ہوئے مزید سرکاری جامعات کے ساتھ ساتھ نجی جامعات سے بھی وائس چانسلر کو شامل کرنے کی منظوری دے دی۔

اس بات کی منظوری کمیشن کے حالیہ اجلاس کے دوران چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیو ایشن کمیٹی کے سرکاری و نجی جامعات کے انسپیکشن پر مبنی رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے دی گئی۔

کمیٹی میں “پول آف ممبرز” میں توسیع  کے باوجود  مستقل اراکین کی نشستیں 4 ہی رہے گی  تاہم ضرورت پڑنے پر موجودہ مستقل اراکین کی جگہ متعلقہ شعبوں کی جامعات کے لیے اسی فیلڈ سے تعلق رکھنے والے دیگر پبلک یا پرائیویٹ سیکٹر کے وائس چانسلرز کمیٹی میں شامل ہوجائیں گے۔

اس وقت مستقل اراکین میں جامعہ کراچی، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی، مہران انجینیئرنگ یونیورسٹی اور سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے وائس چانسلر شامل ہیں۔

کمیشن کے اجلاس میں ایک رکن ڈاکٹر نوشاد شیخ کو چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کے قائم مقام چیئرمین کے طور پر عارضی بنیادوں پر کام کرنے کی اجازت بھی دی گئی،  یہ عارضی انتظام stop gap arrangement کے طور پر تاحکم ثانی کیا گیا ہے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کیونکہ ڈاکٹر نوشاد شیخ خود کمیشن کے رکن بھی ہیں اور ان کا عارضی چیئرمین CI&EC انتخاب رکن کمیشن کی حیثیت میں کیا گیا ہے لہذا وہ اس عارضی عہدے پر کام کرنے کی کوئی تنخواہ نہیں لیں گے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو سندھ اعلی تعلیمی کمیشن کے حالیہ اجلاس کی موصولہ روداد کے مطابق اجلاس کے دوران کمیشن کے رکن اور این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سروش لودھی نے معاملہ اٹھایا کہ طویل عرصے سے نجی و سرکاری جامعات کا انسپیکشن کرنے والی چارٹر کمیٹی کا کوئی مستقل چیئرمین نہیں ہے ۔

ان کا کہنا  تھا کہ چیئرمین ایچ ای سی کے پاس اس عہدے کا چارج ہے لہذا یہ بات مناسب ہوگی کہ اگر کمیشن کے کسی رکن کو کمیٹی کے معاملات چلانے کے لیے اسائن کردیے جائیں۔

اس وقت  کمیشن کے اراکین میں سے واحد ڈاکٹر نوشاد شیخ ہی تھے جن کے پاس پی ایم سی کی سربراہی سے دستبرداری کے بعد اس وقت کسی یونیورسٹی یا ادارے کی ذمے داری نہیں تھی لہذا یہ امور عارضی طور پر انھیں سونپ دیے گئے۔

علاوہ ازیں اسی موقع پر کمیشن رکن ڈاکٹر سروش لودھی کی جانب سے معاملہ اٹھایا گیا کہ کمیٹی کے مختلف اراکین کی اکثر عدم دستیابی کے سبب چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کے امور یا دورے متاثر ہوتے ہیں۔

اس پر بتایا گیا کہ چاروں اراکین بر بنائے عہدہ اپنی اپنی جامعات کے وائس چانسلر بھی ہیں اور انھیں جامعات کے امور چھوڑ کر کمیٹی کے دوروں میں آنا ہوتا ہے اور  اب کمیٹی کے پاس صرف نجی جامعات ہی نہیں بلکہ سندھ کی 27 سرکاری جامعات کے انسپیکشن کی ذمےداری بھی ہے۔

واضح رہے کہ اجلاس کی روداد کے مطابق اس اعتراض و تجویز کی حمایت پرائیویٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والی جامعہ و ادارے کے سربراہوں نعمان عابد لاکھانی اور نادرہ پنجوانی کی جانب سے کی گئی جس کے بعد کمیشن نے فیصلہ کیا کہ کمیٹی میں مستقل اراکین کی تعداد چار ہی رہے گی جبکہ ایک کوآپٹڈ رکن ہی رہے گا۔

تاہم اب مستقل اراکین میں جامعہ کراچی، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی، مہران انجینیئرنگ یونیورسٹی اور سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے وائس چانسلرز کے پول کو وسعت دیتے ہوئے اس میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر سے مزید وائس چانسلرز شامل ہوسکیں گے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ  بہت سے دورے ایسے ہوں گے جس میں عدم دستیابی یا مضمون سے عدم مطابقت کے سبب ان میں سے کسی جامعہ کے وائس چانسلر کو کمیٹی دورے میں شامل نہ کرے تاہم اس کی ابتدا نئےعارضی سربراہ ڈاکٹر نوشاد شیخ کے قلم سے ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔