معاشی اور سماجی مسائل بڑھنے سے عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے، ایکسپریس فورم

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  بدھ 15 نومبر 2023
’’ برداشت کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر شرکاکا اظہار خیال۔ فوٹو: ایکسپریس

’’ برداشت کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر شرکاکا اظہار خیال۔ فوٹو: ایکسپریس

لاہور: دنیا بھر میں معاشی، معاشرتی اور سماجی مسائل بڑھنے سے عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے، المیہ ہے کہ جن ممالک نے برداشت کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا، ان کے اپنے حکمرانوں میں برداشت اور عدل و انصاف نہیں ہے۔

غزہ میں انسانیت سوز سلوک سے انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، ایسے رویوں سے عدم برداشت کو فروغ ملتا ہے، دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلیے ایک دوسرے کے حقوق کا تحفظ، احترام، عزت و تقریم کرنا ہوگی۔دین اسلام میں برادشت کی تلقین کی گئی ہے، سرور دوعالم حضرت محمد ؐکی اسوئہ حسنہ برداشت، حسن اخلاق، رحم اور رواداری کا عظیم نمونہ ہے،ان خیالات کا اظہار شرکاء نے ’’ برداشت کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔

امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث علامہ زبیر احمد ظہیرنے کہا کہ دنیا میں سب سے بڑا شخص وہی ہے جس میں صبر و تحمل، برداشت، اخلاق اور رواداری ہے، یہی کامیاب حکمرانوں کی خصوصیات رہی ہیں، المیہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے جن ممالک نے برداشت کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا خود ان کے حکمرانوں میں برداشت نہیں، انسانیت اور عدل و انصاف کی کمی ہے، آج غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔

پروفیسر آف سوشیالوجی، جامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد نے کہاکہ 16 نومبر 1995ء اقوام متحدہ نے یہ فیصلہ کیا کہ آنے والی نسلوں کو جنگ سے بچانا ہے، ان کے بنیادی انسانی حقوق، عزت و تقریم کو بحال کرنا ہے، یہ اسی وقت ممکن ہے جب لوگ ایک دوسرے کے مختلف ہونے کو تسلیم کریں، دوسرے کی عزت کریں اور اختلاف کو سراہیں۔ انہوں نے کہا کہ 60 کی دہائی میں لوگوں میں برداشت تھی، پھر انڈسٹریلائزیشن کا دور آیا۔

نمائندہ سول سوسائٹی عبداللہ ملک نے کہا کہ دنیا بھر میں معاشی، معاشرتی اور سماجی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، اس کا حل ایک دوسرے کو برداشت کرنے میں ہے، برداشت کا عالمی دن بھی اسی لیے منایا جاتا ہے کہ مختلف مذاہب، رنگ، نسل، زبان، قومیت و طبقات کے لوگ ایک دوسرے کی قدر کریں، احترام کریں اور معاشرہ متحد رہے۔

انہوں نے کہا کہ عدم برداشت اور تشدد کے خاتمے کے لیے انسانی رویوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں مختلف عقائد رکھنے اور مختلف زبانیں بولنے والے رہتے ہیں، جو صدیوں سے یہاں موجود ہیں، بدقسمتی سے عدم برداشت گھروں میں بھی سرایت کر چکا ہے، گھر میں بھی ڈائیلاگ کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، ہمیں دین اسلام اور حضور نبی کریمؐ کی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے سے عدم برداشت کے خاتمے کیلئے لائبریریاں، کمیونٹی سینٹرز، کھیل کے میدان بنانا ہونگے، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بروقت فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔