آئی سی سی کا ظلم، برینڈن میک کولم بے گناہی کا ڈھنڈورا پیٹنے پر مجبور

اسپورٹس ڈیسک  جمعـء 23 مئ 2014
کیا ’ایکس‘کرکٹرکینز ہیں، میڈیا کا سوال، میک کولم ’نو کمنٹ‘ کہہ کرخاموش۔ فوٹو: فائل

کیا ’ایکس‘کرکٹرکینز ہیں، میڈیا کا سوال، میک کولم ’نو کمنٹ‘ کہہ کرخاموش۔ فوٹو: فائل

ویلنگٹن: آئی سی سی کے ظلم کی وجہ سے کیوی کپتان برینڈن میک کولم اپنی بے گناہی کا ڈھنڈورا پیٹنے پر مجبور ہوگئے۔

انھوں نے اے سی ایس یو کو بیان میں انکشاف کیا تھا کہ انھیں2 مرتبہ ایک کرکٹر نے فکسنگ کی پیشکش کی جو قبول کرنے سے انکار کر دیا،ان کا یہ بیان ایک برطانوی اخبار نے من و عن شائع کردیا، جس سے الٹا انہی پر شکوک ظاہر کیے جانے لگے، اسی وجہ سے انھیں گذشتہ روز وضاحتیں پیش کرنے کیلیے پریس کانفرنس کرنا پڑی، اس سے قبل کونسل چیف ڈیو رچرڈسن بھی میک کولم کو بے گناہ قرار دے چکے ہیں، نیوزی لینڈ کے اسٹار بیٹسمین تیسرے بچے کی پیدائش کے سلسلے میں آئی پی ایل ادھوری چھوڑ کر وطن واپس لوٹے ہیں، انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کبھی زندگی میں کسی قسم کی کوئی فکسنگ نہیں کی، میں کھیل میں کرپشن کے خلاف فائٹ میں 100 فیصد شامل اور جوکچھ اپنے بیان میں کہا اس پر قائم ہوں۔

انھوں نے کہا کہ میں نے گواہی آئی سی سی پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے دی تھی اس لیے جب اسے میڈیا میں پڑھا تو بھونچکا رہ گیا، میں امید کرتا ہوں کہ جو کچھ ہوا اس سے دیگرکی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی وہ بھی مشکوک رابطے پر سامنے آئیں گے کیونکہ کرکٹ سے کرپشن کا صفایا ہم سب پلیئرز کی بھی ذمہ داری ہے۔ جب میک کولم سے پوچھا گیا کہ ان کے بیان میں جس ’ایکس‘ کرکٹر کا حوالہ دیا گیاکیا وہ کرس کینز ہی ہیں تو انھوں نے ’نو کمنٹ‘ کہا، انھوں نے کہا کہ تحقیقات ہورہی ہیں اس کے بارے میں میں کچھ نہیں کہنا چاہتا مگر اس حوالے سے میری جو ذمہ داری بنتی ہے وہ ادا کرتا رہوں گا، میرا بیان کس طرح افشا ہوا اس بارے میں تو میں کچھ نہیں جانتا مگر مجھے اینٹی کرپشن یونٹ پر مکمل اعتماد ہے، میں یہ امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی پلیئر رپورٹ کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔