کراچی میں پولیس اہلکاروں کی ڈکیتی کا ایک اور کیس سامنے آگیا

طحہ عبیدی  ہفتہ 25 نومبر 2023
فوٹو فائل

فوٹو فائل

  کراچی: شہر قائد میں پولیس کی وردیوں میں ڈکیتیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، تھانہ ٹیپوسلطان کی حدود پولیس اہلکاروں کی مبینہ ڈکیتی کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا۔

تفصیلات کے مطابق بلوچ کالونی پل کے پاس مبینہ طور پر باوردی پولیس اہلکاروں نے مال سے بھری سوزوکی لوٹا اور پھر فرار ہوگئے۔ درخواست گزار محمد عمران کا کہنا ہے کہ وہ بلدیہ ٹاؤن کا رہائشی ہے اور 23 نومبر کو بلوچ کالونی پل کے قریب مبینہ پولیس اہلکاروں نے روک کر سوزوکی لوٹ لی جس میں آئل کے کاٹن موجود تھے۔

درخواست گزار عمران کا کہنا ہے کہ تھانہ ٹیپو سلطان کے چکر کاٹنے کے بعد بھی پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: ڈی ایس پی ڈکیتی کیس میں  مزید 3 ملزمان گرفتار، نئے انکشافات سامنے آ گئے

دوسری جانب نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) سید مقبول باقر نے بلوچ کالونی پل پر پولیس اہلکاروں کی ڈکیتی کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے ڈکیتی میں ملوث پولیس اہلکاروں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا اور محمد عمران  نامی شہری کی شکایت پر قانونی کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ڈکیتی کی واردات میں گرفتار ڈی ایس پی معطل

 

نگران وزیراعلی سید مقبول باقر کا کہنا ہے کہ جرائم میں ملوث کسی  بھی شخص کو بخشا نہیں جاسکتا، قانون نافذ کرنے والے اگر خود جرائم کا حصہ بن جائیں تو معاشرہ کیسے امن سے رہ سکتاہے۔

اسے بھی پڑھیں: کراچی میں تاجر کے گھر ڈکیتی کیس کی انکوائری مکمل، ڈی ایس پی گرفتار

 

نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے متاثرہ شخص کو انصاف  فراہم کرنے کی  یقین دہانی کرادی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اورنگی ٹاؤن میں بھی ڈی ایس پی کی سربراہی میں پولیس اہلکاروں نے تاجر کے گھر پر کروڑوں روپے کی ڈکیتی کی تھی، جس میں وہ گھر سے کئی تولے سونا بھی اٹھا کر لے گئے تھے جبکہ واردات کے وقت موجود گھر سے دو مردوں کو بھی یرغمال بنایا تھا جنہیں بعد میں بلوچ کالونی پر چھوڑ دیا گیا تھا۔

اسے بھی پڑھیں: ڈکیتی میں گرفتار ڈی ایس پی کے چاچا کا سابق وزیراعلیٰ سندھ کے دوست ہونے کا انکشاف

اس کیس کی تحقیقات میں ڈی ایس پی عمیر بجاری اور ایس ایس پی ساؤتھ کو ملوث قرار دیا گیا ہے، جبکہ ڈی ایس پی ، اہلکاروں اور پرائیوٹ پارٹی کے لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ افسر کی جانب سے یہ کوئی پہلی کارروائی نہیں تھی بلکہ اس سے قبل بھی وہ ملزمان کے ساتھ مل کر دو سے تین وارداتیں کرچکا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔