’’دنیا والو! میرا قصور تو بتا دو‘‘

سید عاصم محمود  اتوار 26 نومبر 2023
عمر بھر کے لیے معذور ہو جانے والی اٹھارہ ماہ کی معصوم فلسطینی بچی کا دلخراش اور ضمیر جھنجوڑتا سوال ۔ فوٹو : فائل

عمر بھر کے لیے معذور ہو جانے والی اٹھارہ ماہ کی معصوم فلسطینی بچی کا دلخراش اور ضمیر جھنجوڑتا سوال ۔ فوٹو : فائل

صبح کے چار بجے ہیں۔ غزہ کی تیس سالہ رہائشی ، یاسمین جودہ اپنے فلیٹ میں محو خواب ہے۔

اسے کچھ عرصہ قبل ہی نیند آئی تھی ورنہ اسرائیلی افواج کی مسلسل بمباری نے اس کو جگائے رکھا تھا۔ وہ فلیٹ میں اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ مقیم تھی۔ اس کا میکہ کچھ دور ایک پانچ منزلہ عمارت میں واقع تھا جہاں یاسمین کے والدین اور دیگر قریبی رشتے دار مقیم تھے۔

آنکھ لگی ہی تھی کہ موبائل کی گھنٹی نے اس کو بیدار کر دیا۔ دوسری طرف سے اس کا شوہر بول رہا تھا جو مقامی ہسپتال میں کام کرتا تھا۔خاوند نے بیگم کو اطلاع دی کہ اسرائیلی بم نے اس کے میکے کی عمارت تباہ و برباد کر ڈالی ہے۔ یاسمین کے تو ہوش اڑ گئے۔ اس نے بدن پہ چادر لپیٹی اور اپنے گھر کی سمت دوڑ پڑی۔

یہ وہ گھر تھا جہاں یاسمین نے آنکھ کھولی تھی۔جہاں اس نے بچپن کے سہانے لمحات بیتائے تھے۔بھائی بہنوں کے ساتھ کھیلی کودی تھی مگر اب وہ ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ کچھ عرصے کے لیے اپنے حواس کھو بیٹھی۔ہوش آیا تو وہ دیوانہ وار اینٹیں اور پتھر اٹھاتی اپنے پیاروں کو تلاش کرنے لگی۔

تب تک وہاں امدادی رضاکار پہنچ چکے تھے۔ وہ ملبے تلے زندہ اور مردہ انسانوں کو تلاش کرنے کا روح فرسا کام کرنے لگے۔ پچھلے کئی دن سے لاشیں ، زخمی اور بے گھر لوگوں کو دیکھ دیکھ کر ان کے دل بھی پتھرا سے گئے تھے۔ پھر بھی ملبے سے کوئی مردہ برآمد ہوتا تو وہ تھرّا اُٹھتے اور زندگی کی بے ثباتی ان پہ اجاگر ہو جاتی۔

عمارت کے مکین نیند میں تھے جب بھاری بھرکم اسرائیلی بم نے انھیں نشانہ بنایا۔ بم نے چشم زدن میں عمارت کو ملیامیٹ کر دیا۔اس کے مکین ملبے تلے دب گئے۔امدادی کارکن جلد ہی پے در پے مقتولوں کی کٹی پھٹی لاشیں نکالنے لگے۔ یاسمین زاروقطار روتے اپنے پیاروں کو مردہ حالت میں دیکھ کر روتی رہی۔ وہ ماتم کر کے آسمان سر پہ اٹھا لینا چاہتی تھی مگر صبر وضبط کی تصویر بنی رہی۔

عمارت میں جودہ خاندان کے 68مرد، خواتین اور بچے رہائش پذیر تھے۔ یہ ان کی چھوٹی سی دنیا تھی جہاں وہ ہنسی خوشی وقت گذار رہے تھے۔ یہ عمارت معصوم بچوں کے قہقہوں، محبت سے لبریزخواتین کی مسرّت بھری آوازوں اور محنتی و اہل خانہ سے الفت رکھنے والے مردوں کی گپ شپ سے گونجتی رہتی تھی…مگر اب اس کا نام ونشان مٹ چکا تھا۔

مقتولین میں دل گرفتہ یاسمین کے والدین،دادا دادی اور نانا نانی، دو بہنیں اور ان کے بچے، دو خالائیں اور ان کے بیٹے بیٹیاں اوربہن کا شوہر شامل تھے۔ یاسمین کو 32 قریبی رشتے داروں کی موت کا دکھ برداشت کرنا پڑا ۔

واحد زندہ

عمارت سے صرف ایک ذی حس زندہ ملا…یاسمین کی اٹھارہ ماہ عمر کی بھانجی میلسہ جودہ جو ایک بہن کی اکلوتی بیٹیہے۔ وہ ہر دم مسکراتی رہتی تھی۔اس نے حال ہی میں چلنا سکیھا تھا۔ مگر جب میلسہ ملبے تلے سے ملی تو وہ بالکل خاموش تھی۔

حتی کہ ہل جل بھی نہیں رہی تھی۔اسی لیے شروع میں یہی لگا کہ وہ مر چکی۔لیکن میلسا نے آنکھیں کھول لیں تو سبھی حیرت زدہ رہ گئے۔عمارت کی خوفناک تباہی کو دیکھتے ہوئے اس کا زندہ رہنا کرشمہ ہی تھا۔

میلسہ کو قریبی الاقصی شہدا ہسپتال میں لے جایا گیا۔ وہاں انکشاف ہوا کہ اسرائیلی بم کا ایک ٹکرا معصوم بچی کی ریڑھ کی ہڈی میں گھس گیا۔اس کی وجہ سے میلسہ کا نچلا دھڑ بے حس وحرکت ہو چکا۔یوں خالہ کو ایک اور چرکا لگ گیا۔ یاسمین آنکھوں میں پانی بھرے بتاتی ہے:

’’میری تو دنیا ہی لُٹ گئی۔میرے پیارے مجھ سے جدا ہو گئے اور میرا خاندان صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ مجھے اپنے پیارے واپس چاہیں ورنہ میں بھی کسی دن غم کے مارے دنیا چھوڑ دوں گی۔‘‘

سنگ دل مستقبل

الاقصی شہدا ہسپتال غزہ میں درمیانے درجے کی علاج گاہ ہے۔ اسرائیلی ظالمانہ حملے کے بعد تو اس کی کارگذاری مزید محدود ہو گئی تھی پھر بھی ڈاکٹر اور دیگر عملہ ہمت و استطاعتسے بڑھ کر مریضوں اور پناہ لینے والوں کی مدد کرتا رہا۔

میلسہ کی حالت مگر بہت خراب تھی۔ یہ ضروری تھا کہ کسی بڑے ہسپتال میں اس کا علاج ہو۔ اسرائیلی فوج نے لیکن اسی دوران غزہ کے سبھی بڑے ہسپتالوں کا محاصرہ کر لیا۔ یوں بیچاری بچی کی الاقصی شہدا ہسپتال میںہی دیکھ بھال کرنا پڑی۔ہسپتال کے ناظم، ڈاکٹر ایمن حرب بتاتے ہیں:

’’میلسہ کی ریڑھ کی ہڈی کے درمیانی حصے میں بم کا ٹکرا (شارپنل)گھسا ہوا ہے۔ہمارے پاس ایسے آلات نہیں کہ یہ ٹکرا نکالا جا سکے۔پھر ریڑھ کی ہڈی چند جہگوں سے تڑخ بھی چکی۔اس باعث بچی اپنے نچلے دھڑ کو ہلا نہیں سکتی۔‘‘

جنگ ختم ہونے کے بعد میلسہ کو مصر یا کسی یورپی ملک لے جائے گا تاکہ جدید آلات کی مدد سے بم کا ٹکرا اس کے نازک بدن سے نکالا جا سکے۔

تب تک بچی موت و حیات کی کشمکش میں گرفتار رہے گی۔ یہ ٹکرا کسی بھی اسے چھوت (انفیکشن)میں مبتلا کر سکتا ہے۔ اور ایک زخمی کے لیے چھوت کسی آفت سے کم نہیں کیونکہ وہ اس کی خراب حالت مذید بگاڑ دیتی ہے۔

بم کا ٹکرا نکل گیا تو میلسہ کی حالت سنبھل سکتی ہے…مگر اسے ساری زندگی وہیل چئیر پہ بیٹھے گذارنا ہو گی۔ وہ اب کبھی چل پھر نہیں سکتی کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی بری طرح متاثر ہو چکی۔یوں ایک بم نے خوبصورت و زندہ دل میسلہ کی زندگی تباہ کر دی۔ وہ اپنی معصوم آنکھوں سے سبھی کو یوں سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہے جیسے پوچھ رہی ہو:میرا قصور کیا تھا؟کیا فلسطینی ہونا جرم اور گناہ بن چکا؟اس کی نگاہوں کی چبھن اور تیزی دیکھنے والوں کو سر جھکانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

ڈاکٹر ایمن حرب کہتے ہیں:’’حالیہ جنگ کے دوران ہمارے سامنے ایسے کئی کیس آئے جن کے بارے میں طب کی نصابی کتب میں کچھ نہیں ملتا۔ہمیں اپنے تجربے اور چھٹی حس کی بدولت ان کاجیسے تیسے علاج کرنا پڑا۔اسرائیلی بم باری نے انھیں بری طرح مجروح کر دیا تھا۔‘‘

پیچھے بچا کیا؟

میسلہ اپنی شہید ماں کی پہلی بچی تھی۔ والدہ کا ایک اور بچہ پیدا پونے والا تھا ، بلکہ وہ نوماہ کی حاملہ تھیں کہ بم کا نشانہ بن کر دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ایسوسی یٹیڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق بم دہماکے کے فوراً بعد وہ زچگی میں چلی گئی تھیں۔

ان کے جڑواں بچے مگر اس صدمے سے نہ بچ سکے۔ میلسہ کے دونوں بھائی ماں کے قریب ہی مردہ پائے گئے۔

یہ یاد رہے کہ غزہ پہ اسرائیلی حملے کے بعد تادم تحریر حماس حکومت کی رو سے ساحلی پٹی میں مقیم بارہ ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے۔ان میں ہزارہا بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

یاسمین جودہ بھانجی کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ اس نے خود کو مضبوط کر لیا ہے تاکہ میسلہ کی تیمار داری کر سکے۔

اس کی خواہش ہے کہ بچی دوبارہ چلنے پھرنے لگے مگر یہ کرشمہ کیونکر انجام پائے گا؟وہ نہیں جانتی۔ لگتا یہی ہے کہ میسلہ کو تمام عمر سہارے کی ضرورت پڑے گی۔ بیچاری بچی کے لیے دنیا میں کچھ بھی تو نہیں بچا، والدین، بزرگ اور سارے قریبی عزیز شہید ہو گئے۔ لے دے کر ایک خالہ کا ساتھ ہے، بس انہی کے سارے بقیہ زندگی گذارنی ہے۔

قصور وار کون؟

یہ حقیقت ہے کہ اسرائیل اور حماس سمیت دیگر جنگجو تنظیموں کے مابین حالیہ لڑائی میںبیشتر اموات شہریوں ہی کی ہوئیں۔ ان کے خاندان، گھر بار اور کام کے مقامات تباہ ہو گئے۔ ہنستے بستے گھر اجڑ گئے ۔

سارے خواب بکھر گئے اور سیکڑوں جانیں ضائع ہو گئیں۔اسی لیے2009ء میں جنگ عظیم اول کے آخری مرنے والے فوجی ، ہنری پیچ نے کہا تھا:’’جنگ انسانوں کا منظم قتل عام ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

مسئلہ فلسطین پیچیدہ لگتا ہے مگر یہ ہے نہیں۔ اس مسئلے کا نچوڑ یہ ہے کہ یہودی فلسطین کو اپنا وطن سمجھتے ہیں۔اس لیے انیسویں صدی میں جب وہ مالی طور پہ مضبوط ہو گئے تو فلسطین میں زمینیں خرید کر وہاں یہودی بستیاں بسانے لگے۔

فلسطین میں تب مسلمانوں کی کثرت تھی۔یہ دونوں اقوام اپنے انتہاپسند لیڈروں کی وجہ سے مل جل کر نہیں رہ سکیں اور لڑنے مرنے لگیں۔ان لیڈروں کا کہنا تھا کہ فلسطین مسلمانوں کا وطن ہے۔یوں ایک ارضی ٹکرا وجہ ِتنازع بن گیا۔

1947ء میں اقوام متحدہ نے فلسطین یہود اور فلسطینی مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی مگر انھیں 44 فیصد رقبہ دیا گیا، اس لیے فلسطینی لیڈروں نے یہ تقسیم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

یوں جنگ جاری رہی۔ بعد ازاں فلسطینیوں کی الفتح تنظیم نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا مگر حماس اور اس کی ہمنوا تنظیموں نے یہ اعلان قبول نہیں کیا۔ وہ اسرائیل کا وجود تسلیم نہیں کرتیں، اس لیے جنگ جاری رکھنا چاہتی ہیں۔

مسلم دانشوروں اور ماہرین سیاسیات کا ایک طبقہ حماس و دیگر جنگجو تنظیموں کو بھی فلسطینی شہریوں کی شہادت کا ذمے دار قرار دیتا ہے۔

ان کا دعوی ہے کہ فلسطینی لیڈروں کو1947 ء میں چوالیس فیصد رقبہ قبول کر لینا چاہیے تھا۔اورقیام اسرائیل کو بھی حقیقت جان کر تسلیم کر لیتے۔ انھیں ادراک کرنا چاہیے تھا کہ فلسطین پر اسرائیل کی دوست سپر طاقتیں قابض ہیں۔ وہ چاہتیں تو سارے فلسطین پہ اسرائیل کا قیام عمل میں لے آتیں۔

تاہم فلسطینی عوام کی وجہ سے انھیں 44فیصد رقبہ آزاد مملکت فلسطین کو دینا پڑا۔ تب یہ مملکت قائم ہو جاتی تو آج فلسطینی آزدی و خودمختاری سے وہاں زندگی گذار رہے ہوتے۔اب تو اسرائیل غزہ ہی نہیں یہودی بستیاں بسا کر مغربی کنارے اور بیت المقدس کو بھی ہڑپ کر لینا چاہتا ہے اور اسے بدستور عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔