سلیمان لاشاری کے قتل کیخلاف سیکڑوں شہری سڑکوں پر نکل آئے

اسٹاف رپورٹر  اتوار 25 مئ 2014
ڈیفنس کے بنگلے میں قتل کیے جانے والے طالبعلم سلیمان لاشاری کے لیے انصاف مانگنے والے مظاہرین پریس کلب پر نعرے لگا رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

ڈیفنس کے بنگلے میں قتل کیے جانے والے طالبعلم سلیمان لاشاری کے لیے انصاف مانگنے والے مظاہرین پریس کلب پر نعرے لگا رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: ڈیفنس میں فائرنگ کرکے قتل کیے جانے والے مقتول سلیمان لاشاری کے اہلخانہ انصاف کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکل آئے،مقتول کے اہلخانہ اوردوستوں نے سی ویو پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی، مظاہرے اور ریلی میں شریک مقتول کے اہلخانہ اوردیگر افراد نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ  سلیمان لاشاری کے قتل کا از خود نوٹس لیں، احتجاجی ریلی میں شریک افراد نے ڈیفنس کلفٹن سے سیکیورٹی گارڈ اور اسلحہ کلچر کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے، تفصیلات کے مطابق8مئی کو درخشاں تھانے کی حدود ڈیفنس فیز5 میں واقع بنگلے میں گھس کر فائرنگ کرکے قتل کیے جانے والے اولیول کے طالب علم  سلیمان مصطفیٰ لاشاری کے قتل کے خلاف سی ویو پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے میں مقتول کے اہلخانہ ، عزیز و اقارب ،  دوست احباب ،علاقہ مکینوں اور سول سوسائٹی  سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوئے،مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر سلیمان لاشاری کے اہلخانہ کو فوری انصاف فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف نعرے درج تھے، بعدازاں احتجاجی مظاہرین سی ویو سے پریس کلب  تک احتجاجی ریلی بھی نکالی،ریلی کے شرکا کا کہنا  ہے ریلی نکالنے کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ سلیمان لاشاری کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، احتجاجی مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے،ڈیفنس اورکلفٹن میں سیکیورٹی گارڈ اور اسلحہ کلچر کے خاتمے کے لیے  فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ سیکیورٹی گارڈ اور اسلحے سے لیس افراد کی فائرنگ سے ہونے والے واقعات کو روکا جاسکے۔

آئندہ کسی بے گناہ کو سلیمان لاشاری کی طرح قتل نہ کیا جا سکے، مقتول سلیمان لاشاری کے بھائی ذیشان لاشاری کا کہنا تھا کہ ماضی میں قتل کیے جانے والے نوجوان شاہ زیب اور حمزہ کے قاتلوں تاحال سزا نہیں ہوسکی،وہ ایک مثال قائم کرنے کے لیے سڑکوں پر آئیں ہیں ،انھوں نے کہا اگر ان کے بھائی کو انصاف نہ ملا تو وہ دو بارہ بھی سڑکوں پر آئیں گے اور شدید احتجاج کیا جائے گا،ریلی میں شریک مقتول سلیمان لاشاری کے والد مصطفیٰ لاشاری نے چیف جسٹس سے اپیل  کی ہے کہ وہ ان کے مقتول بیٹے کے قتل کا ازخود نوٹس لیں  تاکہ ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث ملزمان کے چہروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔

مقتول کی والدہ ارم ناز کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے قتل کے واقعے کو16روز گزر گیے ہیں لیکن سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے کسی بھی نمائندے پر ان کے گھر آنے کی زحمت تک نہیں کی اورنہ ہی ان کے بیٹے کے قتل پرکسی قسم کی تعزیت کی،ریلی میں شریک مظاہرین کا کہنا ہے کہ سلیمان لاشاری قتل کے مرکزی ملزم سلمان ابڑو نے بیماری کی آڑ میں اسپتال میں شیلٹر لیا ہوا ہے جبکہ اس کی طبیعت سے بہت بہتر ہے، انھوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سلیمان لاشاری قتل کیس کی جلد ازجلد انکوائری مکمل کی جائے ،مرکزی ملزم سمیت تمام ملزمان کوکیفر کردارتک پہنچایا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔