بھولے بسرے پاکستانی

شکیل فاروقی  منگل 28 نومبر 2023
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

دانشوروں کا قول ہے کہ جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے، اُس کا جغرافیہ بدل جاتا ہے۔

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

ہمارے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے۔ ہم نے اپنی تاریخ کو فراموش کردیا اور1971 میں ہمارا جغرافیہ تبدیل ہوگیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔

زندہ قومیں اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتی ہے لیکن افسوس صد افسوس ہم نے یہ بھی نہیں کیا۔ ہمارے معزز سیاست دان ماضی کی طرح آج بھی باہم دست وگریباں ہیں۔ ہمیں اپنی معیشت چلانے کے لیے قومی اثاثے گروی رکھنے پڑ رہے ہیں۔

1973 میں پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کے دور میں پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ایک سہ فریقی معاہدے کے تحت ایک لاکھ تہتر ہزار محصورین کی پاکستان منتقلی عمل میں آئی۔

بعد ازاں 9جولائی 1980 کو اُس وقت کے صدر، جنرل ضیاء الحق نے ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ کے مالی تعاون سے ’’رابطہ ٹرسٹ برائے محصورین‘‘ تشکیل دیا۔

پنجاب میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ، نواز شریف نے 34 اضلاع میں 40 ہزار خاندانوں کی آباد کاری کے لیے مفت زمین مختص کی، مگربدقسمتی سے ضیاء الحق کے حادثاتی موت اور بے نظیر بھٹو کے اقتدار سنبھالتے ہی یہ معاملہ سرد خانے کی نذر ہوگیا۔

پھر 1992میں نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعد، اُن کے اور بنگلادیش کی وزیراعظم خالدہ ضیاء کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت محصورین کی رائے شماری کروائی گئی اور انھیں شناختی کارڈ جاری کیے گئے، جن کی کل تعداد 2لاکھ 38ہزار 650ریکارڈ کی گئی۔

ان میں سے اُن نادار خاندانوں کو، جن کا کوئی مرد سربراہ نہیں تھا، پاکستان لانے کا معاہدہ ہوا، جس کے تحت میاں چُنوں اور اوکاڑہ میں رابطہ ٹرسٹ کو 3 ہزار مکانات کی تعمیر کے احکامات بھی جاری کیے گئے، جن میں سے 1000 مکانات کی تعمیر مکمل ہونے پر 10جنوری 1993 کو 56 خاندانوں کا پہلا قافلہ اُس وقت کے وزیراعلیٰ، پنجاب، غلام حیدر وائیں مرحوم کی نگرانی میں پنجاب میں آباد بھی ہوا، مگر پھر نواز شریف کی حکومت ختم کردی گئی، تو ٹرسٹ کا کام بھی روک دیا گیا۔

قصہ مختصر بوجوہ یہ سلسلہ رُک گیا اور پھر اِس کے بعد مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی اور بات آئی گئی ہوگئی۔ بعد ازاں میاں صاحب کی دو حکومتیں آئیں لیکن میاں صاحب کو دیگر معاملات میں الجھے رہنے کی وجہ سے اتنی فرصت نہ مل سکی کہ وہ اِس جانب توجہ دے سکیں یا یوں کہیے کہ اِس مسئلہ کو وہ اہمیت حاصل نہ ہوسکی۔ بقول فیض:

اور بھی غم ہیں زمانہ میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

اِس حوالے سے سوالات تو بہت سے ہیں لیکن سب سے بڑا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر اِن محبِ وطن افراد کا کیا قصور اور جرم ہے؟ اِن سے ایسی کیا خطا سرزد ہوئی ہے جس کی وجہ سے اِن بے چاروں کا پاکستان میں داخلہ بند ہے؟ اگر پاکستان لاکھوں افغان پناہ گزینوں کا بوجھ برداشت کرسکتا ہے تو پھر اِس کے قیام اور دوام کے لیے بے دریغ قربانیاں دینے والوں کے لیے اِس کی سرزمین تنگ کیوں ہے؟

اب جب کہ حکومتِ پاکستان نے تمام غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہائش پذیر لاکھوں افغان پناہ گزین کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے تو پھر موجودہ بنگلہ دیش اور سابق مشرقی پاکستان میں ریڈ کراس کے کیمپوں میں کسمپرسی کی حالت میں پڑے ہوئے ساڑھے تین لاکھ بے آسرا ہم وطنوں کو واپس لا کر اُن کے اصل وطن میں کیوں نہیں بسایا جارہا؟

سوویت جارحیت کے بعد افغانستان کے لاکھوں باشندے بنِا روک ٹوک پاکستان میں آکر نہ صرف آباد ہوگئے بلکہ انھوں نے جہاں جی میں آیا سکونت اختیار کر لی اور اپنے کاروبار جما لیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ طرح طرح کے جرائم میں ملوث ہو کر پاکستان کے معاشرے کو تباہ و برباد کر دیا۔

کون نہیں جانتا کہ منشیات کے کاروبار کا آغاز انھی لوگوں نے کیا تھا اور کلاشنکوف کلچر بھی انھی کا دیا ہوا تحفہ ہے جس نے ہمارے معاشرے کو عذاب میں مبتلا کردیا۔ چوری، ڈکیتی اور اسمگلنگ بھی انھیں کی پیداوار ہے۔ سچ پوچھیے تو انھوں نے ہمارے معاشرے میں جو زہرِ گھولا ہے اُس سے نجات حاصل کرنا ناممکن ہے۔ معاشرے کی ہولناک بربادی سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔