غزہ کی لڑائی اور لاطینی امریکا کے ممالک

ڈاکٹر توصیف احمد خان  بدھ 29 نومبر 2023
tauceeph@gmail.com

[email protected]

مسلم حکمرانوں میں ظالم کے خلاف بولنے کی جرات نہیں۔ مسلم حکمراں غزہ کے محکموں کی عملی مدد نہیں کرسکتے تو کم از کم عوام کے لیے ہی راستہ کھول دیں۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے لاہور میں غزہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مسلم حکمرانوں کے کردار پر شدید تنقید کی۔

سراج الحق نے کہا کہ جب دوحا میں پتا چلا کہ کئی ممالک کے سفیروں نے حماس کی قیادت سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے مگر ہمارے سفیر میں اتنی جرات نہیں ہوئی کہ حماس کی دوحا میں منقسم قیادت سے ملاقات کر کے یکجہتی کا اظہار کریں۔

حماس کے جنگجوؤں کے اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ پر اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کے سلسلے کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے اور اتنا وقت گزرنے کے باوجود ایک اور حقیقت سامنے آئی ہے کہ لاطینی امریکا کے سیکولر ممالک نے سب سے زیادہ غزہ کے مظلوم شہریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے مگر مسلمان ممالک میں قطر، عرب امارات، کویت، اردن اور ترکی کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔

ان ممالک نے اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کی کبھی سخت اور کبھی نرم الفاظ میں مذمت کی ہے مگر کسی بھی ملک کے اسرائیل سے تعلقات مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے مگر لاطینی امریکا کے ممالک زور و شور سے اسرائیل کی نا صرف مذمت کر رہے ہیں بلکہ کچھ ممالک نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا۔

بولیویا نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کر لیے ہیں جب کہ چلی،کولمبیا اور ہنڈراس نے تل ابیب سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔ برازیل کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر لورا نے تو یہ سخت بیانیہ اختیار کیا ہے کہ اسرائیل بغیر کسی جواز کے معصوم شہریوں کو قتل کر رہا ہے۔

غیر ملکی اخبارات سے حاصل کردہ مواد کے جائزے سے یہ پتا چلتا ہے کہ ارجنٹینا جہاں یہودیوں کی خاصی بڑی آبادی ہے، اسرائیل کی مذمت کرنے میں آگے ہے۔ ارجنٹینا کا مؤقف ہے کہ اسرائیل غزہ کے شہریوں کا قتل عام کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ دنیا کے ایک سوشلسٹ ملک کیوبا نے اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہوا ہے۔

مسلمان ممالک اور جنوبی امریکی ممالک کے رویے میں فرق کو جاننے کے لیے گزشتہ صدی کی تاریخ کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

سلطنت عثمانیہ حجاز اور بیت المقدس تک پھیلی ہوئی تھی۔ کمال اتا ترک نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا تو برطانوی فوجی افسر (جو لارنس آف عربیہ کے نام سے مشہور ہوا)نے نئی عرب ریاستوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔

یوں سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور کویت وغیرہ کی ریاستیں وجود میں آئیں۔ یہ ریاستیں برطانیہ کے زیرِ اثر تھیں بلکہ برطانیہ نے انھیں تحفظ فراہم کیا ہوا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا نے برطانیہ کی جگہ لے لی اور پھر عرب ممالک میں تیل نکل آیا، یوں امریکا نے اس تیل کی دولت سے وال اسٹریٹ کی خوشحالی میں اضافہ کیا۔

50ء کی دہائی میں مصر، شام اور عراق میں عرب قوم پرست تحریک مستحکم ہوئی۔ جمال عبد الناصر نے شاہ فاروق کا اقتدار ختم کیا۔ مصر نے برطانیہ اور فرانس سے نہر سوئز واپس لینے کے لیے ایک جنگ کی۔

سوویت یونین نے مصر، عراق اور شام کی قوم پرست تحریکوں کی ہر طرح سے امداد کی، یوں مصر کو نہر سوئز واپس مل گئی مگر سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات وغیرہ کے حکمران ان قوم پرست تحریکوں سے خوفزدہ تھے، یوں ان کا واحد سہارا امریکا کی امداد تھا، یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں امریکا کے اثرات بہت گہرے ہوئے۔

یاسر عرفات کی قیادت میں پی ایل او قائم ہوئی۔ مصر اور شام نے پی ایل او کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف کئی جنگیں لڑیں۔ پی ایل او کی جدوجہد کے نتیجے میں فلسطین کا مسئلہ دنیا بھر میں اجاگر ہوا۔ سوویت یونین نے پی ایل او کی مکمل مدد کی مگر جن ممالک میں بادشاہتیں ہیں، ان کا اسرائیل سے رویہ نرم ہوگیا۔

1973 میں جنگ رمضان کے بعد سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل نے ایک آزاد پالیسی اختیارکی، یوں پہلی دفعہ تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک قائم ہوئی ۔ اوپیک کی بناء پر مغربی ممالک کو تیل کی قیمتوں کے تعین کے لیے اوپیک کا دباؤ قبول کرنا پڑا۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسرائیل سے جنگ میں مصر اور شام کی مکمل حمایت کی۔ پاک فضائیہ نے طیارے مصر بھیجے اور لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں شاہ فیصل کے علاوہ لیبیا کے کرنل قذافی اور پی ایل او کے یاسر عرفات نے بھی اہم کردار ادا کیا، پھر شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے رہنما پردہ سیمی سے لاپتہ ہوئے۔ شاہ حسین جیسے حکمران ابھر کر سامنے آئے۔

دوسری طرف جنوبی امریکی ممالک میں کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں نے آزادی کی ایک تاریخی تحریک منظم کی۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ15ویں اور 16ویں صدی میں اسپین، پرتگال، فرانس اور بیلجیئم وغیرہ نے لاطینی امریکی ممالک کو اپنی نوآبادیات بنا لیا تھا۔

گزشتہ صدی میں سوویت یونین کے قیام کے بعد کارل مارکس سے متاثر ہونے والے نوجوانوں نے ان ممالک میں آزادی کی تحریک شروع کی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا ان نوآبادیات کا نگراں بن گیا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی اور سوشلسٹ گروپوں کی جدوجہد خاصی حد تک کامیاب ہوئی اور سب سے پہلے کیوبا آزاد ہوا۔ فیدل کاستروکی اپنی قیادت میں امریکا کو لوہے کے چنے چبوائے۔ عظیم گوریلا چی گویرا نے دنیا بھر میں انقلاب برپا کرنے کے لیے اپنی جان تو قربان کر دی مگر پوری دنیا کے نوجوانوں کے ہیرو بن گئے۔ وسطی امریکی ملک چلی میں پابلو نوریدا جیسا عظیم انقلابی شاعر پیدا ہوا ۔

چلی میں ایلندے کی قیادت میں ایک سوشلسٹ قائم ہوئی مگر امریکا کی حمایت یافتہ فوج نے 11 ستمبر 1973 کو ایلندے کو قتل کر دیا اور ملک میں ایک بدترین آمریت قائم کردی گئی مگر چلی کی عوام نے پھر طویل جدوجہد کر کے جمہوریت کو بحال کیا۔ وینزویلا میں سوشلسٹ صدر شاویز نے امریکی مفادات کا خاتمہ کیا۔

لاطینی امریکا میں انقلابی ادب، موسیقی اور فلموں نے سوشلسٹ نظریات کو تقویت دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اگرچہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سوشلسٹ موومنٹ کمزور ہوئی مگر لاطینی امریکا کے ممالک میں یہ تحریک کسی حد تک موجود رہی اور یہ سوشلسٹ تحریک میں فلسطینی عوام کی جدوجہد میں سب سے بڑی حامی ہے۔ جماعت اسلامی برسوں تک ان بادشاہتوں کی وکیل بنی رہی۔

90ء کی دہائی میں امریکا کے عراق پر حملے کے بعد جنرل اسلم بیگ کی پالیسی تبدیل ہوئی۔ پاکستان نے امریکا کی حمایت نہ کی، یوں جماعت اسلامی کی پالیسی بھی تبدیل ہوگئی ۔ لہٰذا سراج الحق محض مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو کوسنے کے بجائے عوام کو حقائق بھی بتائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔